بلقیس بانو کیس: گجرات حکومت کو عدالت نے دیا جھٹکا، 50 لاکھ معاوضہ اور ملازمت دینے کا دیا حکم

سپریم کورٹ نے 2002 گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کی شکار بلقیس بانو کو سرکاری ملازمت اور ان کی پسند کی جگہ پر رہائش مہیا کرانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی انھیں 50 لاکھ معاوضہ بھی دیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بلقیس بانو کیس میں گجرات حکومت کو سپریم کورٹ نے منگل کے روز زبردست جھٹکا دیا۔ عدالت عظمیٰ نے 2002 کے گجرات فسادات معاملہ میں ریاستی حکومت سے اجتماعی عصمت دری کی شکار بلقیس بانو کو 50 لاکھ روپے معاوضہ، سرکاری ملازمت اور ان کی پسند کی جگہ پر رہائش مہیا کرانے کو کہا ہے۔ عدالت نے اس کے لیے گجرات حکومت کو دو ہفتہ کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ سرکاری ملازمت اور ان کی پسند کی جگہ پر سرکاری رہائش مہیا کرائے جانے سے متعلق پیش رفت جلد ہو۔ سپریم کورٹ نے تلخ لہجہ اختیار کرتے ہوئے گجرات حکومت کی سرزنش بھی کی اور کہا کہ ’’خود کو قسمت والا سمجھیے کہ ہم آپ کے خلاف کوئی تبصرہ نہیں کر رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ گجرات حکومت نے بلقیس بانو کو معاوضہ کی شکل میں 5 لاکھ روپے دینے کی تجویز پیش کی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے معاوضہ کی رقم کو 10 گنا بڑھا کر 50 لاکھ کر دیا ہے۔ قابل غور ہے کہ گجرات فساد کے دوران بچ کر بھاگ رہی بلقیس اور ان کی فیملی پر 3 مارچ 2002 کو ہتھیاروں سے لیس فسادیوں نے بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کی۔ اتنا ہی نہیں، ان کی 2 سالہ بچی کو مار دیا گیا۔ بلقیس بانو کی فیملی کے کل 14 لوگوں کو اس دن موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ اس وقت بلقیس بانو کی عمر صرف 19 سال تھی۔ انصاف کے لیے بلقیس نے کئی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔ بالآخر 17 سال بعد سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

Published: 23 Apr 2019, 4:10 PM