ایل پی جی کی قلت سے ممبئی میں 20 فیصد ہوٹل بند، راجستھان میں بھی افراتفری

ممبئی کے تقریباً 10 سے 20 فیصد ہوٹل پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور اگر گیس کی قلت اگلے 3 دنوں تک جاری رہی تو یہاں 50 فیصد ہوٹل بند ہو سکتے ہیں۔ شہر کے ڈونگری علاقے میں کئی ہوٹلوں کے شٹر گرچکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ممبئی میں گیس کا بحران</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہندوستان بھی متاثر ہوتا نظرآرہا ہے۔ حال ہی میں مختلف ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام میں گہری تشویش اورخدشات پائے جارہے ہیں۔ اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں گیس کے بحران نے افراتفری کا ماحول پیدا کردیا ہے وہیں نقل وحمل کے شعبے میں بھی کھلبلی مچنا شروع ہوگئی ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں گیس کی کمی کا اثراب ہوٹلوں پربھی پڑنے لگا ہے اس کے علاوہ راجستھان سے بھی گیس کی قلت کی خبریں آرہی ہیں۔

ایسوسی ایشن آف ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس (آہار) کے مطابق ممبئی کے تقریباً 10 سے 20 فیصد ہوٹل پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور اگر گیس کی قلت اگلے 3 دنوں تک جاری رہی تو ممبئی کے تقریباً 50 فیصد ہوٹل بند ہو سکتے ہیں۔ شہر کے ڈونگری علاقے میں کئی ہوٹلوں کے شٹر گرچکے ہیں۔ یہاں کے ایک ہوٹل مالک نے بتایا کہ ان کے پاس آخری سلنڈر میں بھی تھوڑی ہی گیس بچی ہے۔ جس کے ختم ہوتے ہی ہوٹل کو بند کرنا پڑے گا۔


اسی طرح کئی ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ ممبئی جیسے شہر میں جگہ کی قلت کی وجہ سے گیس ذخیرہ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا ہے اور اس طرح کے حالات کے لیے وہ پہلے سے تیار نہیں تھے  ہوٹل ایسوسی ایشنز کا ایک وفد اپنی پریشانی لے کر متعلقہ وزیر سے ملاقات کی تیاری کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے، جس سے پورے ملک اور ریاست میں گیس کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور اب اس کا اثر ممبئی میں بھی محسوس ہونے لگا ہے۔

دوسری طرف راجستھان میں اب کمرشل گیس سلنڈر کی قلت نے ہلچل مچا دی ہے۔ حالانکہ راجستھان حکومت نے کہا ہے کہ یہ محض افواہ ہے، ایسی خبروں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ پچھلے دو دنوں سے راجستھان کے مختلف حصوں بشمول راجدھانی جے پور میں یہ خبر پھیلی کہ کمرشل گیس سلنڈروں کی قلت پیدا ہونے والی ہے اور سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے پہلے گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد گھریلو سلنڈروں کے لیے 25 دن کے بعد ہی بکنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔


ضوابط میں تبدیلی کی وجہ سے گھریلو صارفین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے کمپنیوں نے ڈسٹری بیوٹرس سے انہیں ترجیحی بنیادوں پر سلنڈر فراہم کرانے کی ہدایت کی۔ اس پر کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ کمرشل گیس سلنڈر کی سپلائی نہیں ہورہی ہے۔ آنے والے دنوں میں پریشانی ہوسکتی ہے اور شادی بیاہ سے لے کر ہوٹلوں پر اس کا اثرپڑسکتا ہے۔ اس دوران راجستھان کے محکمہ فوڈ اینڈ سول سپلائی نے مورچہ سنبھالا اور واضح طور پر کہا کہ گھریلو اور مرشل گیس سلنڈروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کمی کی خبریں صرف اور صرف افواہ ہیں۔ لوگوں کو ان افواہوں سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔