ممبئی کی 2 طالبات نے یو جی سی نیٹ میں حاصل کی نمایاں کامیابی

ممبئی واقع ’مہاراشٹر کالج‘ میں ایم اے سال دوم میں زیر تعلیم شگفتہ خان نے جونئر ریسرچ فیلوشپ کے ساتھ ساتھ اسسٹنٹ پروفیسر اور خان عمیرہ نے اسسٹنٹ پروفیسر و پی ایچ ڈی کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شگفتہ خان اور خان عمیرہ</p></div>
i
user

محی الدین التمش

ممبئی: ممبئی واقع ’مہاراشٹر کالج‘ کی ایم اے اردو سیکنڈ ایئر میں زیر تعلیم 2 طالبات کی کامیابی تعلیلمی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ دونوں طالبات شگفتہ خان اور خان عمیرہ کی کامیابی کی خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔ دونوں طالبات نے یو جی سی نیٹ امتحان میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کر کے تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ خان شگفتہ عقید احمد نے 300 میں 234 نمبر حاصل کرتے ہوئے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (جے آر ایف) کے ساتھ اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے کوالیفائی کیا، جبکہ خان عمیرہ عرفان نے 300 میں 202 نمبر حاصل کر اسسٹنٹ پروفیسر اور پی ایچ ڈی کے لیے اہلیت حاصل کی۔

اس کامیابی کی نمایاں بات یہ ہے کہ دونوں طالبات فی الوقت ایم اے کے نصاب میں مصروف ہیں، اس کے باوجود انہوں نے ملک کے ایک اہم اور مسابقتی امتحان میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پائیدھونی کی رہنے والی خان شگفتہ عقید احمد نے بتایا کہ انہوں نے یو جی سی نیٹ کی تیاری زیادہ تر خود مطالعے کے ذریعے کی۔ ان کے مطابق گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں کا بار بار جائزہ، باقاعدہ نظر ثانی اور موک ٹیسٹ ان کی تیاری کا اہم حصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی رہنمائی، بالخصوص ڈاکٹر محمد اظفر خان کی جانب سے لیے گئے موک ٹیسٹ نہایت مفید ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل محنت، مثبت سوچ اور وقت کے درست استعمال سے ہی اس طرح کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔


کرلا ہلاؤ پُل کی رہائشی خان عمیرہ عرفان نے کہا کہ یو جی سی نیٹ کی تیاری ان کے لیے صرف ایک امتحان نہیں بلکہ صبر، خود احتسابی اور مستقل جدوجہد کا مرحلہ رہی۔ انہوں نے بتایا کہ پیپر اول اور دوم کے لیے معیاری کتابوں کا انتخاب کیا، ہر باب کے اہم نکات تحریر کیے اور گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں سے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کے مطابق موک ٹیسٹ نے نہ صرف رفتار بہتر کی بلکہ امتحانی دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد دی۔

خان عمیرہ نے مزید کہا کہ ایم اے کی پڑھائی کے ساتھ نیٹ کی تیاری یقیناً مشکل تھی، مگر حوصلے اور خود اعتمادی کے ساتھ کی گئی محنت بارآور ثابت ہوئی۔ انہوں نے مستقبل میں تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ مہاراشٹر کالج کی ان دونوں طالبات کی کامیابی کو اساتذہ اور طلبہ نے محنت، لگن اور تعلیمی عزم کی روشن مثال قرار دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔