بی ایڈ کی فرضی ڈگری دکھا کر ملازمت پانے والے 190 ٹیچر برخاست

برخاست ٹیچروں میں سے 116 کا تعلق ایٹہ سے ہے جبکہ 74 مین پوری میں نوکری کررہے تھے۔ایس آئی ٹی نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ ان کی ڈگریاں یا تو فرضی ہیں یا پھر ان کی مارکشیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش کے دو اضلاع ایٹہ ومین پوری میں فرضی دستاویزات کی بنیاد پر نوکری کرنے والے 190 ٹیچروں کو برخاست کردیا گیا ہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے کی گئی جانچ میں ان ٹیچروں کے بی ایڈ کی ڈگریاں فرضی پائی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق برخاست ٹیچروں میں سے 116 کا تعلق ایٹہ سے ہے جبکہ 74 ضلع مین پوری میں نوکری کررہے تھے۔ایس آئی ٹی نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ ان کی ڈگریاں یا تو فرضی ہیں یا پھر ان کی مارکشیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔یہ تمام تقریبا ًدس سالوں سے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر نوکری کررہے تھے۔

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی آگرہ کی سال 2004۔05 کی بی ایڈ کی ڈگریوں میں ایس آئی ٹی نے بڑے پیمانے پر جعل سازی کا خلاصہ کیا تھا۔ اس جانچ کی بنیاد پر سبھی اضلاع کو فرضی ڈگریوں کے ساتھ نوکری کرنے رہے ٹیچروں کی سی ڈی دی گئی تھی۔ محکمہ بیسک ایجوکیشن دو سالوں سے ان فرضی ڈگریوں کی جانچ میں مشغول رہا۔

مین پوری کے بی ایس اے وجے پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ ایس آئی ٹی کے ڈریعہ فرضی قرار دیئے گئے ٹیچروں کو ڈسٹرکٹ سلکشن کمیٹی کے فیصلے کے بعد برخاست کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی ہدایت بی آئی او کو دیئے گئے ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں دیئے گئے تنخواہ کی ریکوری کی کاروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔ ضلع ایٹہ کے بی ایس پی سنجے سنگھ نے بتایا کہ برخاست کیے گئے سبھی 116 ٹیچروں پر مقدمہ درج کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیچروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے تحت دی گئی تنخواہ بھی وصولی جائے گی۔