موب لنچنگ: 49 دانشوروں کی حمایت میں سامنے آئے 185 قلم کار و فنکار

49 دانشوروں نے پی ایم نریندر مودی کے نام 23 جولائی کو ایک خط لکھ کر موب لنچنگ سے متعلق سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس خط کی وجہ سے سبھی دانشوروں پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی : ملک کے 185قلم کاروں اور فنکاروں نے موب لنچنگ یعنی ہجومی تشددکوروکنے کے لیے ملک کے 49دانشوروں کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہونے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ وزیر اعظم نریندرمودی کو لکھے گئے خط میں ظاہر کی گئی تشویش کی حمایت کرتے ہیں ۔ دراصل ان 49دانشوروں نے پی ایم نریندر مودی کو 23جولائی کو خط لکھ کر ہجومی تشدد پر سخت تشویش ظاہر کی تھی جس کے بعد یہ خط لکھے جانے کی وجہ سے ان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیاگیاتھا۔

انڈین کلچرل فورم کی طرف سے 185قلم کاروں اور فنکاروں نے اپنے مشترکہ بیان میں سوال کیا کہ ہماری ثقافتی برادری کےساتھیوں کے ذریعہ موب لنچنگ کے خلاف خط لکھنا ملک سے غداری ہے،کیا یہ ایک سازش نہیں ہے۔ اس میں عدالت کا استعمال کرکے ذمہ دار شہریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔


بیان میں سبھی قلم کاروں و فنکاروں نے یہ بھی کہا کہ’’ہم سبھی ایک سمجھدار شہری ہونے کے ناطے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ذریعہ وزیراعظم کو لکھے گئے ہر لفظ کی حمایت کرتے ہیں۔ہم ثقافتی، تعلیمی اور قانونی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملہ کو اور آگے بڑھائیں۔ہمارے جیسے اور لوگ یہ آواز اٹھائیں اور ہجومی تشددکے خلاف آواز بلندکریں۔ہمارا ملک ایک مقتدر،سوشلسٹ، سیکولر اور جمہوری ہے اس لیے مسلمانوں، دلتوں اور اقلیتوں پر اس طرح کے حملے نہیں ہونے چاہئیں۔‘‘

بیان پر دستخط کرنے والے دانشوروں میں معروف قلم کار نین تاراسہگل،رقاصہ ملیکا سارابھائی،نصیرالدین شاہ، سہاسنی علی،اشوک واجپئی،چندر کانت پاٹل،گری دھر راٹھی،گیتا ہری ہرن،ہرش مندر،ششی دیش پانڈے،ایرا بھاسکر اور مردولا گرگ وغیرہ شامل ہیں ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 07 Oct 2019, 11:10 PM