غزہ میں اسرائیلی بمباری، مزید 15 فلسطینی جان بحق، ہلاکتوں کی تعداد 48 ہزار سے تجاوز

غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں مزید 15 فلسطینی جان بحق ہو گئے، جن میں نو افراد شمالی غزہ میں ڈرون حملے میں مارے گئے۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری بمباری میں شہدا کی تعداد 48 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے

<div class="paragraphs"><p>غزہ میں تباہی کا منظر، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

غزہ: غزہ پٹی میں اسرائیلی حملے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 15 فلسطینی جان بحق ہو گئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی حملے نہ صرف شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ڈبلیو ایف اے کے مطابق، ہفتے کے روز شمالی غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں نو افراد جان بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل تھے۔ بیت لاحیہ میں ایک گروپ پر حملہ کیا گیا، جبکہ ایک گاڑی کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا ہدف مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر تھے۔ تاہم، فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنوری میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا پہلا چھ ہفتے کا مرحلہ یکم مارچ کو مکمل ہو گیا تھا، مگر دوسرے مرحلے کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اس دوران اسرائیلی فورسز نے غزہ پر بمباری میں شدت پیدا کر دی ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔


غزہ میں قائم وزارت صحت کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری میں اب تک 48 ہزار سے زائد فلسطینی جان بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ اس کے علاوہ، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جس سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔