اتراکھنڈ میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں اب تک 1,296 لوگوں کی موت، اسمبلی میں وزیر کی صفائی

اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر جنگلات نے کہا کہ 2024 میں جنگلات میں آگ لگنے کے 1,276 واقعات درج ہوئے جس سے 1,771.66 ہیکٹیر جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا تھا۔ ان واقعات کے نتیجے میں 13 لوگوں کی موت بھی ہوئی۔

<div class="paragraphs"><p>اتراکھنڈ میں جنگلی جانوروں کی دہشت&nbsp;</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتراکھنڈ میں انسانی اور جنگلی جانوروں کا تنازعہ بدستور ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ریاست کے قیام کے بعد سے یہاں اب تک 1,296 افراد جنگلی جانوروں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 6,624 لوگ شدید طور سے زخمی ہوئے ہیں۔ یہ معلومات ریاستی وزیر جنگلات سبودھ انیال نے اسمبلی میں دی ہے۔ یہ معاملہ اسمبلی میں بی جے پی ایم ایل اے برج بھوشن گیرولا کے سوال کے جواب میں اٹھایا گیا۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ ریاستی حکومت انسانی و جنگلی حیات کے تصادم کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال جنگلی جانوروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو سرکاری ملازمت دینے کا کوئی التزام نہیں ہے، البتہ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

وزیر جنگلات نے بتایا کہ اس سے قبل جنگلی جانوروں کے حملوں میں موت ہونے پر4 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ بعد میں اس رقم کو بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دیا گیا اور اب اسے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں زخمیوں کو معاوضہ بھی دیئے جانے کا بندوبست ہے۔


وزیر نے کہا کہ انسان اور جنگلی جانوروں کے تصادم کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ طور سے گشت کر رہے ہیں اور فوری کارروائی کے لیے کوئیک رسپانس ٹیم (کیو آر ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ جنگلی جانروں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے آبادی والے علاقوں میں پنجرے بھی نصب کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پرانھیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا تا ہے۔ جنگلات سے متصل دیہاتوں میں بائیو فینسنگ ٹیکنالوجی اور ہیبیٹیٹ انتظام کے ذریعے بھی اس مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس دوران کانگریس ایم ایل اے ہریش دھامی نے پتھورا گڑھ ضلع کے دارما اور دیگر علاقوں میں ریچھوں کے ذریعہ گھروں کو نقصان پہنچانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ملنا چاہیے۔ اس پر وزیر جنگلات نے کہا کہ پہلے ریچھ کے ذریعہ گھروں کو پہنچنے والے نقصان کے معاوضے کا کوئی بندوبست نہیں تھا لیکن اب حکومت نے اس کے لیے بھی معاوضہ دینے کا انتظام کردیا ہے۔


اسمبلی اجلاس کے دوران ریاست میں جنگلات میں لگی آگ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ 2024 میں جنگلات میں آگ لگنے کے 1,276 واقعات درج ہوئے جس سے 1,771.66 ہیکٹیر جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا تھا۔ ان واقعات کے نتیجے میں 13 لوگوں کی موت بھی ہوئی۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ جنگلات میں آگ لگے کے وقعات ریاست کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ انہیں روکنے کے لیے حکومت شرپسندعناصر کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آگ پر نظر رکھنے والوں(فائر واچر) کو تعینات کیا گیا ہے اور گرام پنچایت کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں تاکہ جنگل کی آگ کو روکنے کے لیے عوام میں بیداری پیدا کی جا سکے۔