نظام الدین مرکز کی میٹنگ میں شامل 6 افراد کی موت کے بعد تلنگانہ-تمل ناڈو میں 1200 لوگ کوارنٹائن

تلنگانہ اور تمل ناڈو میں مرکز کی میٹنگ میں شامل افراد کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ تلنگانہ میں 194 اور تمل ناڈو میں 981 لوگوں کو کوارنٹائن کیا گیا ہے۔ ان سبھی کا کورونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی کے نظام الدین واقع تبلیغی جماعت مرکز میں گزشتہ دنوں ہوئی میٹنگ میں شامل سینکڑوں افراد کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا ہے۔ پیر کے روز جیسے ہی تلنگانہ حکومت نے اس بات کی تصدیق کی کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے جن 6 لوگوں کی موت ہوئی ہے، وہ سبھی تبلیغی جماعت مرکز کی میٹنگ میں شامل ہوئے تھے، ایک افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اس خبر کے سامنے آنے کے پہلے ہی مرکز میں جمع تقریباً 300 لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ لیا گیا تھا کیونکہ انھیں کھانسی، زکام اور بخار کی شکایت تھی۔ 200 لوگوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیے جانے کی بات بھی کہی گئی تھی۔ اب تلنگانہ اور تمل ناڈو میں ان 1200 لوگوں کو کوارنٹائن کیا گیا ہے جو تبلیغی جماعت مرکز کی میٹنگ میں شامل ہوئے تھے یا پھر شامل ہونے والوں کے رابطے میں آئے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق تلنگانہ اور تمل ناڈو میں مرکز کی میٹنگ میں شامل لوگوں کی تلاش زور و شور سے شروع ہو گئی ہے۔ تلنگانہ میں 194 لوگوں کو کوارنٹائن کیا گیا ہے جب کہ تمل ناڈو میں 981 لوگوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کا بھی کورونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ نظام الدین واقع تبلیغی جماعت مرکز میں تقریباً 2000 لوگ ٹھہرے ہوئے تھے جن میں بیرون ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔ بیرون ملکی مہمانوں میں زیادہ تر ملیشیا اور انڈونیشیا کے شہری تھے جو دہلی آنے سے پہلے 27 فروری سے یکم مارچ کے درمیان ملیشیا کی راجدھانی کوالالمپور میں ایک مذہبی پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان مہمانوں کی وجہ سے ہی مرکز کی میٹنگ میں شامل ہندوستانی عوام کے درمیان کورونا انفیکشن پھیلا ہوگا۔

دہلی پولس، میڈیکل اور ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کو مرکز کی میٹنگ میں شامل کئی لوگوں میں کورونا انفیکشن ہونے کی بات جیسے ہی پتہ چلی، وہ سرگرم ہوئی۔ پیر کی دیر شب مرکز کو خالی کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مرکز کی میٹنگ میں شامل تقریباً 11 لوگوں کے کورونا پازیٹو ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان 11 میں سے 10 کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔ علاوہ ازیں تلنگانہ حکومت نے میٹنگ میں شامل 6 لوگوں کی اس انفیکشن سے اموات کی تصدیق کی۔