راجستھان میں خستہ حال اسکولی چھت گرنے سے 120 طلبہ بال بال بچے، کانگریس نے حکومت کو ٹھہرایا ذمہ دار

کانگریس نے بی جے پی حکومت سے 2 تلخ سوال بھی پوچھے کہ ’’بی جے پی حکومت کب تک بچوں کی جان خطرے میں ڈالتی رہے گی؟ کیا بی جے پی کے لیڈران اور وزراء اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں پڑھنے کے لیے بھیجیں گے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

راجستھان کے ڈونگرپور ضلع میں اپر پرائمری اسکول کے خستہ حال ایک کمرے کی چھت گر گئی۔ اس وقت اسکول میں کلاسیں جاری تھیں اور 120 طلبہ اپنی اپنی کلاسوں میں بیٹھ کر پڑھائی کر رہے تھے۔ لیکن کمرہ خستہ حال ہونے کی وجہ سے ایک سال سے بند تھا اور اس میں بچوں کو نہیں بٹھایا جا رہا تھا، جس وجہ سے بڑا حادثہ ہونے سے ٹل گیا۔ اس واقعہ پر کانگریس کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا کہ ’’راجستھان کے ڈونگرپور میں ایک اسکول کی چھت دھڑام سے گر گئی۔ جس وقت یہ حادثہ ہوا اس وقت اسکول میں 120 بچے پڑھ رہے تھے۔ غنیمت رہی کہ جب چھت گری تو وہاں بچے اور اساتذہ موجود نہیں تھے ورنہ بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس نے مزید لکھا کہ ’’یہ پہلی بار نہیں ہے، گزشتہ سال بھیلواڑہ میں ایک سرکاری اسکول کی چھت گرنے سے کئی بچوں کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ لیکن بی جے پی حکومت ہے کہ کان میں روئی ڈال کر سوئی ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے بی جے پی حکومت سے 2 تلخ سوال بھی پوچھے کہ ’’بی جے پی حکومت کب تک بچوں کی جان خطرے میں ڈالتی رہے گی؟ کیا بی جے پی کے لیڈران اور وزراء اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں پڑھنے کے لیے بھیجیں گے؟‘‘


واضح رہے کہ روزانہ کی طرح اسکول میں کلاسیں چل رہی تھیں۔ اسی دوران اسکول کے بند پڑے خستہ حال کمرے کی چھت اچانک گر گئی۔ تیز آواز آتے ہی اسکول کے بچے اور اساتذہ کمروں سے باہر نکل آئے۔ دیکھا تو خستہ حال 2 کمروں میں سے ایک کمرے کی چھت گر گئی تھی۔ اساتذہ نے واقعے کی اطلاع پی ای ای او پنکج ورما کو دی، جس پر پی ای ای او اور سی بی ای او دیپک شاہ موقع پر پہنچے۔ اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ اسکول کے 10 میں سے 2 کمرے خستہ حال ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں غیر محفوظ قرار دے دیا گیا تھا اور کمروں کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ سی بی ای او نے بتایا کہ نئی چھت ڈالنے کے لیے تجاویز بھیج دی گئی ہیں۔ ایسے میں منظوری آنے پر جلد ہی کمروں کو ٹھیک کروا دیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔