ڈاکٹر ہرش وردھن سمیت 11 مرکزی وزراء مودی کابینہ سے بے دخل!

7 جولائی (بدھ) کی شام تقریباً 6 بجے نئے وزراء کی حلف برداری ہونی ہے، اور اس سے پہلے یکے بعد دیگرے کئی بڑے لیڈروں کے استعفیٰ کی خبریں سامنے آ گئی ہیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن، تصویر آئی اے این ایس
ڈاکٹر ہرش وردھن، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مودی کابینہ میں توسیع کی باتیں تو گزشتہ کئی دنوں سے چل رہی تھیں، لیکن بڑے بڑے مرکزی وزراء کو اس کابینہ سے بے دخل کر دیا جائے گا، اس کا اندازہ کم ہی لوگوں کو تھا۔ اب تک مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن سمیت 11 وزراء کی مودی کابینہ سے چھٹی ہو جانے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔ کچھ وزراء نے خراب صحت کا بہانہ بنا کر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے تو کچھ نے خاموشی کے ساتھ اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔

آج (بدھ) شام تقریباً 6 بجے نئے وزراء کی حلف برداری ہونی ہے، اور اس سے پہلے یکے بعد دیگرے کئی بڑے لیڈروں کے استعفیٰ کی خبریں سامنے آ گئی ہیں۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کے علاوہ مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک، مرکزی وزیر محنت سنتوش گنگوار اور مرکزی وزیر برائے کیمیکل و فرٹیلائزر سدانند گوڑا نے بھی اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ تھاورچند گہلوت چونکہ گورنر بن گئے ہیں، اس لیے وہ بھی مودی کابینہ سے ہٹ گئے ہیں اور دیبوشری چودھری (ریاستی وزیر برائے خواتین)، سنجے دھوترے (مرکزی وزیر مملکت)، پرتاپ سارنگی (ریاستی وزیر)، راؤ صاحب دانوے پاٹل (ریاستی وزیر)، رتن لال کٹاریہ (ریاستی وزیر) کے ساتھ ساتھ بابل سپریو (ریاستی وزیر) کی بھی مودی کابینہ سے چھٹی ہو گئی ہے۔


میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی جن وزراء کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے، ان کو کابینہ سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ کورونا بحران میں مودی حکومت کے کووڈ مینجمنٹ پر کئی طرح کے سوال کھڑے کیے گئے تھے اور وزارت صحت ہر کسی کے نشانے پر تھا۔ ایسے میں ڈاکٹر ہرش وردھن کی مرکزی کابینہ سے چھٹی کر کے ڈیمیج کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔