کشمیر میں 2 ماہ کے دوران 100 سیکورٹی اہلکار زخمی، سرکاری نوٹ میں انکشاف

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کے ایک دستاویز کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً 100 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں 89 کا تعلق نیم فوجی دستوں سے ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر

قومی آوازبیورو

ایک جانب مرکزی حکومت کا دعوی ہے کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے بعد ریاست میں پوری طرح امن ہے، دوسری جانب ایک سرکاری نوٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران پتھر بازی کے 306 واقعات پیش آئے ہیں۔ سی این این نیوز 18 کی ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کے اپنے ایک دستاویز میں ذکر ہے کہ پتھر بازی کے ان واقعات میں 100 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 89 کا تعلق نیم فوجی دستوں سے ہے۔

جموں و کشمیر انتظامیہ ابھی تک یہ کہتی آ رہی ہے کہ پتھر بازی کے ایک دو واقعات کے علاوہ کشمیر وادی میں گزشتہ دو ماہ کے دوران حالات پُرامن رہے ہیں اور 2016 میں برہان وانی کی موت کے بعد جو مظاہرہ ہوئے تھے ان کے مقابلہ میں اب وہ بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔ سال 2019 کے ابتدائی چھ ماہ میں پتھر بازی کے چالیس واقعات رونما ہوئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ وادی میں مواصلاتی خدمات پر پابندی اور ہڑتال کا سلسلہ 5 اگست کو اس وقت شروع ہوا جب مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹائی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقے بنانے کا اعلان کیا۔

انتظامیہ نے بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظر بند کر رکھا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے ہی گھر میں بند رکھا گیا ہے۔ علیحدگی پسند لیڈران بھی خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔ وادی میں جاری موجودہ ہڑتال کی کال کسی جماعت نے نہیں دی ہے۔

Published: 10 Oct 2019, 5:50 PM