آسام: فرقہ وارانہ تشدد میں 1 شخص کی موت، حالات کشیدہ، انٹرنیٹ خدمات بند

آسام کے ہیلاکانڈی شہر میں نمازِ جمعہ کو لے کر دو گروپ کے درمیان ہوئے تشدد میں زخمی ہوئے 15 لوگوں میں سے ایک کی موت ہو گئی ہے۔ حالات پر قابو پانے کے مقصد سے علاقے میں انٹر خدمات بند کر دیے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

آسام کے ہیلا کانڈی ضلع میں جمعہ کو فرقہ وارانہ تشدد کے بعد 15 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں آئی تھیں جن میں سے ایک کی موت ہو گئی ہے۔ نمازِ جمعہ کے وقت ہوئے اس تشدد کے بعد احتیاطی طور پر پورے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا جو کہ اب بھی جاری ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ کرفیو 12 مئی کی شام 7 بجے تک کے لیے لگایا گیا ہے اور اگر حالات بہتر نہیں ہوئے تو کرفیو کی مدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تشدد کے دوران نہ صرف پتھراؤ ہوئے بلکہ بڑی تعداد میں گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہنگامہ اس لیے ہوا کیونکہ مسجد میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نماز ادا کر رہے تھے، جب کہ کچھ لوگوں کے مطابق نمازیوں کے ذریعہ دو پہیہ گاڑیاں سڑکوں پر لگانے سے کچھ شرپسند عناصر ناراض تھے، اس لیے پتھراؤ شروع کر دیا۔

ہیلا کانڈی سے موصول ہو رہی تازہ ترین خبروں کے مطابق علاقے میں حالات ابھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک پوسٹ کیا گیا ہے جس کے مطابق بارک علاقہ میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ تشدد کو مزید فروغ نہ ملے۔ اس درمیان ہیلاکانڈی کی ڈپٹی کمشنر کیرتی جھلّی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی جھوٹی خبر یا افواہ نہ پھیلائیں کیونکہ اس سے حالات پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ کرفیو کے دوران انھوں نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل بھی کی۔

ڈپٹی کمشنر کیرتی جھلّی کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ لوگوں سے اپیل کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے حالات خراب ہوں کیونکہ صرف 3-2 سماج دشمن عناصر نے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو جگہ جگہ تعینات کر دیا گیا ہے اور اس وقت حالات قابو میں ہیں۔

اس درمیان خبریں یہ بھی موصول ہو رہی ہیں کہ مقامی انتظامیہ نے فوج کو بلانے کی بھی بات کہی ہے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔ ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت حالات قابو میں ضرور ہیں لیکن شہر میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پورے معاملے کی جانچ کے لیے حکومت آسام میں ایڈیشنل چیف سکریٹری راجیب بورا کو ذمہ داری دی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ اپنی رپورٹ وہ جلد پیش کریں۔

واضح رہے کہ آسام کے ہیلاکانڈی میں یہ تشدد اس وقت پیدا ہوا جب نمازِ جمعہ کے لیے لوگ شہر کے کالی باڑی علاقہ کی ایک مسجد میں جمع ہو رہے تھے۔ بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ سڑک کے کنارے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی درمیان کچھ شرپسند عناصر نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد بھگدڑ کا ماحول بن گیا۔ ہنگامے کی خبر ملنے کے بعد پولس موقع پر پہنچی اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ اس تشدد میں جو 15 افراد زخمی ہوئے ان میں تین پولس کانسٹیبل بھی شامل ہیں۔

Published: 11 May 2019, 11:10 AM