سفرنامہ: ترکی میں مساجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ان کی مرکزی حیثیت ہے... سید خرم رضا

استنبول کی نیلی مسجد میں مدرسہ، اسپتال اور دیگر ضرورت کی چیزیں بھی نظر آئیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ترکی میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

ناشتہ کے بعد نماز جمعہ (12 جولائی) کی تیاری شروع ہو گئی تھی اور یہ بحث ہو رہی تھی کہ نماز جمعہ کہاں ادا کی جائے آخر میں یہ طے ہوا کہ سلیمانیہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھی جائے۔ سلیمانیہ مسجد میں نماز کا وقت 1.30 بجے کا تھا اس لئے 12.45 پر ہوٹل سے مسجد کی جانب روانہ ہوگئے۔ جی پی ایس کے ذریعہ پتہ لگا کہ سلیمانیہ مسجد ہوٹل سے ایک کلو میٹر سے تھوڑا زیادہ فاصلہ پر ہے، وہاں جانے کا راستہ بازار سے ہو کر گزرتا ہے اس لئے پیدل جانا ہی مناسب لگا۔ تھوڑی دور پیدل چلنے کے بعد جو چڑھائی شروع ہوئی اس نے حالت خراب کر دی۔ تیز چلنے کی وجہ سے زبردست تھکان محسوس ہوئی اس لئے مسجد کے درمیان دو جگہ تھوڑا رک کر آرام کرنا پڑا۔ بحرحال وقت مقررہ سے دس منٹ پہلے ہی مسجد پہنچ گئے، اس لئے ہمیں چھٹی صف میں جگہ مل گئی، ویسے مسجد میں نمازیوں کے لئے ابھی کافی جگہ موجود تھی۔

سفرنامہ: ترکی میں مساجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ان کی مرکزی حیثیت ہے... سید خرم رضا

سلطان سلیمان (1520-1566) کے دور میں پورے 8 سال میں یہ عالیشان سلیمانیہ مسجد تعمیر ہوئی، اس مسجد کا ڈیزائن اس وقت کے معروف آرکیٹیکٹ میمار سینا نے تیار کیا تھا۔ 1550 میں اس مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا جو 1557 میں جا کر مکمل ہوا۔ یہ مسجد آرکیٹیکٹ کے لحاظ بہترین شاہکار ہے۔ مرکزی گنبد کی اونچائی 48 میٹر ہے، مسجد میں جو جھاڑ لٹکے ہوئے ہیں وہ انتہائی خوبصورت اور فرش سے محض نو فٹ کی اونچائی پر لگے ہوئے ہیں۔

سفرنامہ: ترکی میں مساجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ان کی مرکزی حیثیت ہے... سید خرم رضا

مسجد میں داخل ہوئے تو امام صاحب ترکی زبان میں اپنا بیان فرما رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آذان ہوئی تو امام صاحب نے اپنا بیان روک دیا۔ آذان کے دوران امام صاحب آذان کے الفاظ دہرا رہے تھے، آذان کے اختتام پر امام صاحب نے دعا پڑھی۔ اس کے بعد ممبر پر کھڑے ہو کر خطبہ شروع کر دیا۔ انہوں نے خطبہ اولیٰ ترکی زبان میں حالات حاضرہ پر دیا اور خطبہ ثانی وہی تھا جو ہمارے ملک میں پڑھا جاتا ہے۔

سفرنامہ: ترکی میں مساجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ان کی مرکزی حیثیت ہے... سید خرم رضا

استنبول کی مساجد میں خطبہ کے لئے ایک خاص قسم کا ممبر ہوتا ہے اور اکثر بڑی مساجد میں اس کے سامنے زمین سے تھوڑا اوپر ایک مچان جیسا بنا ہوتا ہے۔ اس مسجد میں مچان پر کچھ لوگ جا رہے تھے، ان سب لوگوں کے پاس ایک چابی تھی جس سے دروازہ کھولتے اور اوپر چلے جاتے۔ یہ لوگ شائد اس مسجد کی منتظمہ کمیٹی کے ذمہ داران تھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اندر اور باہر سے جب مسجد دیکھی تو اس کی خوبصورتی اور ڈیزائن سے دل باغ باغ ہو گیا۔ مسجد کے باہر خوبصورت گھاس، ایک جانب سمندر، ایک جانب کھانے پینے کا سامان، ان مساجد میں اسپتال، مدرسہ اور دیگر کئی چیزیں نظر آئیں گی، ان میں سے کچھ چیزیں ابھی بھی چل رہی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ سلیمانیہ مسجد اس زمانہ میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔

مسجد کو دیکھنے کے بعد ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اس کے بعد یہاں کے سب سے پرانے بازار ’گرینڈ بازار‘ میں ایک چھوٹے سے دروازہ سے داخل ہوئے۔ یہ استنبول کا سب سے مہنگا بازار مانا جاتا ہے اس لئے ہم سے ہمارے ہوٹل والے نے تاکید کر دی تھی کہ کچھ خریدیئے گا نہیں بس دیکھئے گا۔ مگر ہم نے دیکھا کہ بازار میں زبردست خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ یہ بازار 1561 میں بنا تھا۔ چھوٹی چھوٹی خوبصورت گلیاں اور پورا بازار بھول بھولیاں جیسا ہے۔ اندر سے بازار کی خوبصورتی دیکھنے لائق ہے۔

بازار میں شاپنگ کیے بغیر باہر نکلے اور سمندر کی جانب رخ کر دیا کیونکہ ’بوسفورس ٹور‘ کرنا تھا یعنی پانی کے جہاز میں دو گھنٹے تک سمندر کی لہروں پر لطف اندوز ہونا تھا اور سمندر کی لہروں سے قریب بیٹھ کر گفتگو کر کے جاننے کی کوشش کرنی تھی کہ ان میں اتنی بے چینی کیوں ہے کیا وہ خود کو اکیلا اور بے گھر محسوس کرتی ہیں۔ اس گفتگو کے لئے فی کس 25 لیرا کرایہ دینا ہوتا ہے۔ سمندر کی لہریں جہاز سے ٹکرا کر کچھ کہنا تو چاہتی تھیں لیکن جہاز سے سر ٹکرا کر واپس چلی جاتی تھیں اور اس کے ٹکرانے سے جو شور مچ رہا تھا اس سے چھوٹے بچوں کو تو لطف دے ہی رہا تھا لیکن حساس لوگوں کے لئے یہ شور اکیلے پن کی چیخوں کی مانند تھا۔ دو گھنٹے کب گزر گئے پتہ ہی نہیں لگا اور ٹھیک دو گھنٹے بعد جہاز نے لنگر ڈال دیئے، ایک کے بعد ایک مسافر چہروں پر خوشیاں لئے جہاز سے اتر نے لگے اور سمندر کی لہریں اپنا سر پٹکتی رہیں۔

یہاں سے ٹرام کے ذریعہ ہم نے بلو موسک یعنی نیلی مسجد کارخ کیا۔ سلیمانیہ اسکوائر کے ایک جانب بنی یہ مسجد سلطان احمد نے 1609 میں بنوانی شروع کی تھی اور یہ1616 میں مکمل ہوئی تھی۔ اس عالی شان مسجد کو نیلی مسجد اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر کام نیلے رنگ کی ٹائلس کا ہوا ہے۔ مرکزی گنبد میں مرمت کا کام چل رہا ہے اس لئے ایک دم سے اس کی خوبصورتی میں خلل سا محسوس ہوا، حالانکہ نیلی مسجد انتہائی خوبصورت ہے۔ اس مسجد میں بھی ہر مسجد کی طرح خواتین کے لئے نماز پڑھنے کا بہترین انتظام ہے۔ استنبول کی مساجد میں خواتین اور بچے خوب نظر آتے ہیں، بچے نماز کے دوران کتنی بھی شرارتیں کریں کوئی انہیں ڈانٹتا نہیں ہے۔ اس مسجد میں مدرسہ، اسپتال اور دیگر ضرورت کی چیزیں بھی نظر آئیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ترکی میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

بلو موسک دیکھنے کے بعد جسم نے جہاں جواب دے دیا وہیں پیٹ نے بھوک کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اس لئے سب سے قریب ہوٹل میں کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہوٹل کی جانب رخ کیا، اب ذہن نے وطن واپسی کی پلاننگ شروع کر دی۔ استنبول نے دل اور دماغ دونوں جیت لئے اب گھر جاکر ترکی کے تعلق سے کچھ زمینی حقائق پر بات ہوگی جب تک کے لئے خدا حافظ۔

Published: 14 Jul 2019, 8:10 AM