شہرنامہ

پاکستان: لاہوری ٹریفک کا آنکھوں دیکھا حال

ٹریفک اشاروں کے مطالب تمام لاہوریوں کے لئے یکساں ہیں، دن میں سبز بتی کا مطلب تسلی سے گزریں، پیلی بتی کا مطلب جتنی پھرتی سے ممکن ہے کراس کریں اور سرخ بتی کا مطلب ہے ہارن پہ ہاتھ رکھ کے آرام سے نکلیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اکبر میو

اس سے پہلے کہ لاہور کی ٹریفک کا اجمالی جائزہ لیا جائے یہاں اس امر کا اظہار کر دینا ضروری ہے کہ لاہور اور کراچی میں تعینات ملازمین کو ہیوی ٹریفک کی وجہ سے ہارڈ ایریا الاؤنس ملنا از احد ضروری ہے۔ دفتر پہنچنے میں اتنی دیر اور محنت لگتی ہے کہ اگر بالخصوص سرکاری اہلکار اس کا نصف بھی دفتری امور میں لگا دیں تو کم سے کم دفتر کے بجلی و پانی کے اخراجات کا حق ادا ہو سکتا ہے ۔

مرشد فرماتے ہیں بھٹو کے زمانے تک لاہور اور کراچی کی ٹریفک اور سرکاری ملازمین دونوں ہی قدرے بہتر ہوا کرتے تھے۔ اب چاروں کی آبادی میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے کراچی کی میونسپلٹی نے سڑکوں سےکوڑا اٹھانا بند کر دیا ہے تا کہ بدبو اور تعفن کے باعث کم سے کم لوگ سڑک پہ آئیں۔ ابھی تک تو بھیے بعض نہیں آئے۔ اور لاہور میں مغلوں نے پچھلے چند برسوں میں ہر میل دو میل پر پل بنادیئے ہیں، اب ٹریفک صرف پلوں پہ چڑھتے ہوئے بلاک ہوتا ہے۔ مطلب بیشتر گاڑیاں پلوں کی تاب نہیں لا پاتیں۔ پنجاب میں سرئیے اور لوہے کی طرف جھکاؤ رکھنے والے گھرانوں کوشغل میں مغل کہا جاتا ہے۔

شہر لاہور میں سوائے عید تہوار کے بارہ مہینے آمدورفت کی دیگ اونٹتی (ابلتی) رہتی ہے۔ موٹر بایئک والے کو گاڑی والے پہ غصہ ہوتاہے۔ گاڑی والے کے سینے پے رکشے والا مونگ دلتا ہے۔ویگن والا سواریوں کے طعنوں سے تنگ۔ پاپیادہ (پیدل) اپنے آپ سے بیزار۔ الغرض چاند گاڑی والوں کے سوا سڑک پہ کوئی خوش دکھائی نہیں دیتا۔سبک رفتاری کا یہ عالم کہ لوگ ایمبولینس کی سی عجلت میں دکھتے ہیں۔ ہارن بجانے پہ آویں تو موسیقی گھرانوں کی بگڑی ہوئی نالائق اولادوں کےسازوں کی سی بے ربطگی ۔ جسکے پاس ہارن نہیں وہ جھارا پہلواں کا نواسہ سائڈ دے مارے گا۔ لاہور میں گاڑیوں کے اتنے ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں کہ ناموس ِنسواں پہ بھی قصے بنے ہوے ہیں۔مرشد فرماتے تھے کہ نہ تو لاہور سے گاڑی لیو نہ شادی کیجیو ورنہ پھرکل کو ڈینٹنگ پینٹگ کاگلہ نہ کیجیو۔ اس کے باوجود مرشد نے شادی بھی لاہور میں کی اورگاڑی بھی لاہور سے لی ۔ ہم سے رہا نہ ہوا تو مرشد سے پوچھ ہی لیا کہ یہ خود آپ نے کیا سامانِ فضیحت کیا۔ بولے لاہوری گاڑی روز روز کی تراش خراش سے بظاہر مسخ ہو جاتی ہیں لیکن انجن نیا ہی رہتا ہے۔ دوسرا شادی کا معاملہ اور ہے میاں۔ وطن عزیز میں حسن اور حب الوطنی لاہور سے جتنا دور جاؤکم ہوتی جاتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

شہرِ زندہ دلان میں موٹر بائیسکل اتنی اَرزاں اور عام ہے کہ گھر گھر پارکنگ کے سنجیدہ مسائل ہیں۔ لاہوری سکوٹر اور اس سے کئی نسلوں تک ساتھ نبھانے کا عہد ایک ساتھ لیتے ہیں۔ ٹریفک اشارہ کھلتے ہی سب سے آگے نکلنے کا حق بس بائیک والوں کا ہی ہوتا ہے۔ ٹریفک اشاروں کے مطالب تمام لاہوریوں کے لئے یکساں ہیں۔ دن میں سبز بتی کا مطلب ہے تسلی سے گزریں، پیلی بتی کا مطلب ہےجتنی پھرتی سے ممکن ہے کراس کریں ورنہ اشارہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا، سرخ بتی کا مطلب ہے ہارن پہ ہاتھ رکھ کے آرام سے جانے دیں۔اور رات کے اوقات میں بلا تعرض اپنی پوری اوقات دکھا سکتےہیں۔ ٹریفک کی کثرت موٹر سایئکل سواروں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ سٹنٹ دکھانے کا موقع ہوتی ہے۔ کبھی یوں موڑ تو کبھی یوں گھما، رکنے کا نہیں سڑک بلاک ہے تو فٹ پاتھ پہ ہو لئے۔ کیبل ٹی وی اور انٹرنیٹ کے دور میں بھی لوگوں کو سڑک پہ وقوع پزیر معمولی ایکسیڈنٹ کسی بھی بلاک بسٹر سے زیادہ دلچسپ لگتا ہے۔ کسی کا چین کور بھی اترا ہو تو اسے دیکھنے بھی سو دوسو پِھٹ پِھٹیے ایسے ہی رک جائیں گے۔ پِھٹ پِھٹیا وہ موٹر سائیکل ہوتی ہے جو اپنی عمر تو گزار چکی ہوتی ہے لیکن اس کا مالک ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔

لاہور میں ٹریفک کا اصول بڑا سادہ ہے۔ جسکی سواری جتنی زیادہ نئی ہے اس کی ذمہ داری اتنی ہی سنگین ہے۔ اگرآپ کو جلدی جانا مقصود ہو تو سب سے بائیں (Left) لین میں چلیں کیونکہ بیک وقت سب اور ٹیک کر رہے ہوتے ہیں اس لئے سب سے دائیں (Right) لین میں سوائے یاس و الم کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔منزل مقصود پہ پہنچنے کے لئے ہمیشہ الٹ راستہ اپنائیں۔ مثلاً اگر آپ داتا دربار سے مغرب کی جانب واقع بحریہ ٹاون جانا چاہتے ہیں توپہلے مال روڈ پہ مشرق کی جانب پانچ کلومیٹر چلیں اور نہر ڈھونڈیں۔ اب اگر وہاں کوئی سواری نہیں بھی ملتی تو نہر بھی سواری کا کام دے سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

گئے برس مرشد کی خوش دامن کے ماموں صبغت اللہ جھوجا لکھنؤ سے لاہور آئے۔ اندرون شہر کی بے ہنگم رونقوں میں گھریلو سا ماحول پا کر قدرے مطمئن ہوئے۔ لیکن کبھی کبھار نئے لاہور کی ہموار راہوں پہ ذہنی الجھاو آلیتا اور تسبیح بلانا (پھیرنا)شروع کر دیتے۔مرشد نے دریافت کیا کہ حضور آٹھ دن پہلے بالکونی میں آپ کے متوقع طاعت و زہد کے پیش نظر جو مصلیٰ بچھایاگیا تھا وہ گرد سے اٹ رہا ہے، لیکن تسبیح ہے کہ ہر تیسری گلی میں جاری ہو جاتی ہے۔ بولے چھوٹے میاں نماز چھوٹ جاتی ہے، لیکن دعا میں کبھی دیر نہیں کی۔ تم پاکستانیوں نے ہر شارع اور چوراہے میں اپنے مردے گاڑے ہوئے ہیں۔ مرشد ابھی ورطہ حیرت میں اترنے کیلئے پانؤ چے(Cuffs) سمیٹ ہی رہے تھے کہ پاونے (مہمان) نے غازی روڈ کے اک چوک میں لگے سائن بورڈ کی طرف توجہ مبذول کروائی جس پہ لکھا تھا انور شہید چوک۔ بولے یہ نیلگوں کتبے تو بہت خوب بنے ہیں، لیکن مرحومین کی قبروں کی کوہانیں غائب ہیں۔

مرشد فوراً بولے حضرت یہ محض یادگاری تختی ہے، متعلقہ صاحب باقاعدہ قبرستان میں مدفن ہیں۔ سٹھیاتے ہوئے بولے واللہ ہمیں علم نہ تھا، ہم تو ان یادگاروں کو انفرادی قبرستان سمجھ کر اتنے روز سے ہر دوسرے چوراہے سڑک پہ اہل قبور کے لئے دعائے مغفرت کرتے آئے ہیں۔ مرشد نے مہمان کو تسلی دی کہ پاکستان میں چوراہوں پہ جب بھی سول انتظامیہ کو اختیار ملا ہے انہوں نے ان کا ثقافتی ، جغرافیائی یا سیاسی استحصال کیا ہے جیسا کہ کراچی میں ناگن چورنگی ، مکا چوک ، چیل چوک ، بھینس کالونی، مچھر کالونی ، کھڈا مارکیٹ، انڈا موڑ، دو منٹ چورنگی، گولیمار، گیدڑ کالونی، کٹی پہاڑی اور ثابت بھیا سویلین صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔  لہذاجگہوں کو نام دینے کا کام سرحدی محافظ نماؤں کو سونپ دیا گیا ہے۔ اب چوکوں اور سڑکوں پے توپوں ، شہیدوں ،اور غازیوں کا راج ہے تاکہ نسیاں کی ماری قوم اپنے محسنوں کو نہ بھولے ۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا