دہلی میں فی کس آمدنی قومی اوسط سے 3 گنا زیادہ: اقتصادی سروے

تازہ اقتصادی سروے کے مطابق دہلی میں ف کس آمدنی قومی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے جو موجودہ حالات میں دہلی کے لئے ایک اچھی خبر ہے

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

یو این آئی

دہلی میں فی کس آمدنی قومی اوسط سے تین گنا زیادہ ہو گئی ہے ۔سنہ 2018۔19 میں یہ اضافہ8.61 فیصد درج کی گئی ۔ دہلی کے اقتصادی سروے 2018۔19 میں یہ معلومات دی گئیں ہیں۔

ریاست کے گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کا عبوری سروے 2018۔19 میں موجودہ قیمتوں میں 7،79،652 کروڑ روپیے رہنے کا امکان ہے جس میں 2017۔18 کے مقابلے 12.98 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ حقیقی بنیاد پر 2018۔19 میں یہ اضافہ 8.16 فیصد کے آس پاس ہے۔

دہلی کےنائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے ہفتے کے روز اسمبلی میں دہلی مالیاتی سروے پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ 2018۔19 میں موجودہ قیمتوں میں دار الحکومت میں فی کس آمدنی 3،65،529 روپیے رہی جبکہ قومی سطح پر فی کس آمدنی 1،25،397 روپیے تھی جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دہلی کے باشندوں کی فی کس آمدنی قومی سطح سے تین گنا زیادہ ہے۔

دار الحکومت دہلی میں 2017۔18 کے ٹیکس کلیکشن میں 2016۔17 کے 3.03 فیصد کے مقابلے 14.70 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ دارالحکومت نے اپنا ٹیکس سرپلس 2017۔18 میں 4،913 کروڑ روپیے بناکر رکھا ہے۔

دہلی میں سماجی خدمات پر ہونے والا خرچ 2014۔15 کے 68.71 فیصدکے مقابلے بڑھ کر 2017۔18 میں 74.76 فیصد ہو گیا ہے اور 2018۔19 کے بجٹ میں ان منصوبوں اور پروجیکٹوں کا الاٹمنٹ 83.60 فیصد ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ دہلی حکومت نے 2017۔18 میں پیداوار اور پروڈکشن انڈیکس کی بنیاد پر پہلا پروڈکٹ بجٹ تیار کیا ہے اور روایتی نہج سے ہٹ کر پیداوار کی بنیاد پر بجٹ کے عمل کو اپنایا۔

سنہ 2018۔19 میں بھی تعلیمی شعبے کو مسلسل پہلی ترجیح بنا رہا اور اس کے لیے مجموعی طور پر 27.36 فیصد بجٹ مختص کیا گیا تھا۔ بعد ازاں سوشل سیکورٹی اور ویلفیئر اسکیمات پر 16.63 فیصد، طبی خدمات اور عوامی صحت پر 14.81 فیصد ،تعمیرات عامہ پر 14.12 فیصد، ٹرانسپورٹ پر 11.67 فیصد ،پانی کی فراہمی اور صفائی پر 10.86 فیصد بجٹ مختص کیا گیا۔

Published: 24 Feb 2019, 8:05 AM