شہرنامہ

سفر نامہ...پیرس کچھ جدا تو ہے

فرانسیسی اپنی زبان بولنے میں کتنا ہی فخر کیوں نہ محسوس کرتے ہوں لیکن دنیا کے کسی بھی خطہ کے شخص اور کسی بھی کونے کی تہذیب سے وہ بے وجہ کا بغض نہیں رکھتے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

پیرس آنے سے قبل دوست و احباب کا جس بات پر سب سے زیادہ زور تھا وہ یہ تھا کہ وہاں جیب تراشوں سے بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اورپرس، پیسےا ور پاسپوٹ احتیاط سےرکھیے گا۔ ان ہدایات نے میرے پیرس کے سفر کی خوشی کو تھوڑا کم کر دیا تھا کیونکہ اگر کسی شہر میں یہ برائی کسی خوف کی حد تک پھیلی ہوئی ہے تو پھر وہاں کیا جانا۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ پیرس میں پہلے ہی دن کی شام کو دوستوں کی ہدایات کا فائدہ بھی ہوا ۔جب وہاں کی میٹرو میں چند نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو میں نے اپنے داماد کی جیب تراشتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ جیب تراشنے کے عمل کو پورا دیکھا اور ان بچوں کو پکڑا بھی ۔جب ان کو اس میں ایک پاسپورٹ کی فوٹو کاپی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا تو ان بچوں نے پرس کو وہیں پھینک دیا اور اس کاغذ کی جانب اشا را کرکے تالی بجاتے ہوئے کہنے لگے لو وہ مل گیا اور اگلے اسٹیشن پر اتر گئے۔اپنے ملک کی طرح کوئی بھی مسافر کچھ نہیں بولا کیونکہ مجھے لگا ان کے لئے یہ کچھ نئی بات نہیں تھی۔ یہ واقعہ دنیا کے سب سے خوبصورت اور وسیع میوزیم لوورےکے باہر والے میٹرو اسٹیشن کا ہے۔ بہرحال کچھ تھا نہیں تو کچھ گیا نہیں ۔ اس کا سہرا ان دوستوں کو جاتا ہے جو پہلے پیرس آتے رہے ہیں اورجنہوں نے بہت زیادہ محتاط رہنےکے لئے کہا تھا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
پیرس شہر کا خوبصورت نظارہ، ایفل ٹاور سے لی گئی تصویر

یہ ایک خراب پہلو تھا لیکن پیرس سے اندازہ ہوا کہ چاہے وہ اپنی ہی زبان بولنے میں کتنا ہی فخر کیوں نہ محسوس کرتے ہوں لیکن دنیا کے کسی بھی خطہ کے شخص اور کسی بھی کونے کی تہذیب سے وہ بے وجہ کا بغض نہیں رکھتے۔ ائیر پورٹ سے جس ٹیکسی سے اپنے کرائے کے اپارٹمنٹ پہنچا اس کا ڈرائیور نائیجریا سے فرانس آیا تھا اور یہاں کا شہری ہو کر بہت خوش تھا۔ اپارٹمنٹ کا ایجنٹ ایرک جس کی والدہ آسٹریلین اور والد امریکی ہیں اور اس کو فرینچ اور انگریزی زبان میں مہارت ہے۔ اس نے آسانی سے آپارٹمنٹ کے تمام ضابطے بہت سلیقے، تفصیل اور سلیس زبان میں ہمیں سمجھا دیئے۔ ہمارا سامان زمینی منزل پر تھا اور اپارٹمنٹ پہلی منزل پر تھا ایرک جب اپارٹمنٹ ہینڈ اوور کرنے آیا تو اپنی ایک چھوٹی سائیکل کے ساتھ ہمارے سامان کا ایک عدد بھی اوپر لے کر چڑھ گیا اور غیر ملک میں غیر شخص ایسا کرے تو اچھا لگتا ہے۔ زیادہ تر بلڈنگ کے صدر دروازوں پر جو تالے لگے ہوئے ہیں وہ کوڈ سے کھلتے ہیں کسی چابی وغیرہ سے نہیں اس لئے سب سے پہلے ایرک نے ہمیں بلڈنگ کے صدر دروازہ کا کوڈ بتایا۔

اچھی بات یہ تھی کہ میوزیم ہمارے اپارٹمنٹ سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر واقعہ تھا اس لئے پیدل چل کر پیرس کو سمجھنے اور قریب سے دیکھنے کا موقع پہلے ہی دن مل گیا۔ ہر چوراہے کی بلڈنگ ایک تکونے کی شکل میں نظر آئی ۔ پیرس میں سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کا زبردست احترام دیکھنے میں نظرا ٓیا ۔ کوئی بھی گاڑی والا خود نکلنے کو ترجیح نہیں دیتا اور کبھی بھی سڑک کراس کرنے والے کے لئے وہ اسٹریٹ لائٹ کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ پیدل چلنے والا آسانی سے سڑک پار کر لے۔ ہر جگہ پیدل چلنے والوں کے لئے بھی لال اور ہری بتی لگی ہوئی ہیں۔

جب میوزیم پہنچے تو وہاں پر موجود سیاحوں کی تعداد کو دیکھ کر لگا کے کیسے ٹکٹ لیں گے اور کیسے دیکھیں گے لیکن کہیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ لوگ اپنے نمبرکا بہت صبر کے ساتھ انتظار کرتے ہیں اور کوئی قطار توڑکر آگے بڑھنے میں یقین نہیں رکھتا۔ سیاحوں کے اس مزاج کی وجہ سے کہیں بھی کوئی دشواری نہیں آئی۔ لوورے میوزیم کا مطلب پوری دنیا کے ماضی کو ایک جگہ سمیٹ کر رکھ دینا۔ ویسے تو مصر کی ممی اور مونا لیزاکی پینٹنگ وغیرہ دیکھ کر ایک الگ سا احساس تو ہوا لیکن جب مغل دور کی کچھ وہ چیزیں وہاں دیکھیں جن کا تعلق ہندوستا ن سے تھا تو اس وقت ہمیں ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس ہوا کہ دنیا کے اس عظیم اور واحد میوزیم میں ہم بھی موجود ہیں۔

تقریبا ً چار گھنٹے میوزیم میں گزارنے کے بعد اس ارادے کے ساتھ باہر نکلے کہ اب پیرس کی پہچان اور دنیا کے آٹھ عجائبات میں سے ایک ایفل ٹاور کو دیکھا جائے اور میوزیم کو ایک مرتبہ پھر دوبارہ دیکھنے آئیں گے۔ وہیں سے میٹرو لے کر ایفل ٹاور پہنچے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ میٹرو کے لئے کوئی لفٹ یا اسکیلیٹر نہیں ہیں اس لئے کئی اسٹیشنوں پر دو تین منزل بھی سیڑھیوں سے ہی طے کرنے پڑتے ہیں۔دہلی میٹرو کی طرح میٹرو جدید نہیں ہے لیکن آرام د ہ ضرور ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ یہ 1900ء میں شروع ہوئی تھی ۔ ویسے پورے شہر میں عمارتوں میں کئی سو سال پرانے ہونے کی جھلک ملتی ہے جس کا اندازہ میٹرو کے سفر سے بھی ہوا۔ اس ماہ میں پیرس میں اندھیرا رات کو نو بجے کے قریب ہونا شروع ہوتا ہے اس لئے جس وقت ہم ایفل ٹاور پہنچے تو اس وقت شام کے آٹھ بجنے کے با وجوددھوپ تھی او رپندرہ ڈگری ٹمپریچر ہونے کے با وجود گرمی کا سا احساس تھا لیکن جب ہم ایفل ٹاور کے ٹاپ پر پہنچے تو دن ،رات میں تبدیل ہونے کا سفر شروع ہو چکا تھا۔ ایفل ٹاور کے اوپر سے جہاں شہر جگمگاتا نظر آ رہا تھا وہیں آسمان پر شعبان کا چاند بھی اپنی خوبصورتی بیاں کر تے ہوئے یہی کہتا نظر آ رہا تھا کہ چاند تو میں ہی ہوں۔

ایفل ٹاور کی بالائی منزل سے پیرس کو دیکھنے کا منظر کچھ الگ ہی ہے اور جب روشنی میں یہ جگمگاتا ہے تو اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ واپسی بھی میٹرو سے ہوئی اور میٹرو سے جب باہر آئے تو ہم موبائل سے اپنے اپارٹمنٹ کا راستہ تلاش کر رہے تھے کہ وہیں موجود ایک بزرگ جوڑا ہمارے قریب آیا اور خاتون نے مسکراکر ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا where ہم نے اپنے اپارٹمنٹ کی گلی’ ریو ڈی کلیری‘ کا نام بتا یا تو انہوں نے اشارہ سے ہمیں سمت بتائی لیکن ان کے شوہر کو لگا ہمیں سمجھنے میں مشکل ہوگی تو انہوں نے اپنے موبائل کے جی پی ایس کےذریعہ ہمیں اشاروں سے سمجھایا جو کہ بہت قریب تھا ۔بس رات میں بدلے ہوئے ماحول اور پہلے دن کی وجہ سے پہچاننے میں تھوڑی دشواری ہو رہی تھی۔بیرون ملک میں ایسا اخلاق خود بخود دل جیت لیتا ہے ۔گھر پہنچے پر اپنا کچھ پیکڈ کھانا جوہندوستان سے لائے تھے وہ کھایا۔

لوورے کا ٹکٹ 15 یورو فی آدمی تھا اور ایفل ٹاور کا 25 یورو کا اور جو بچے سولہ سے چوپیس سال کی عمر کے درمیان کے ہیں ان کا 12.5یورو۔ ایفل ٹاور دیر رات تک کھلا رہتا ہے لیکن لوورے بدھ اور جمعہ کو چھوڑکر صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک جبکہ بدھ اور جمعہ کو صبح نو بجے سے رات پونے دس بجے تک کھلا رہتا ہے۔ سڑکوں کے دونوں اطراف ہریالی ہے اور جو دیواریں ہیں ان پر فرینچ میں بڑا بڑا کچھ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔

انگریزی ادب کا طالب علم ہونے کی وجہ سے فرینچ ادب اور فن کے بارے میں اپنے استاد حضرات سے بہت کچھ سن رکھا تھا اور جتنے بھی استادحضرات نے ہمیں انگریزی ادب پڑھایا تھاوہ سب فرینچ ادب سے بہت مرعوب تھے۔ اس لئے فرانس جانے کی خواہش ہمیشہ سے دل میں تھی ۔ پیرس میں پہلے دن سے یہ تو اندازہ ہو گیا کہ میرے استاد غلط نہیں تھے۔ بلڈنگ، دوکان اور لباس اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فرانس کچھ جدا تو ہے۔ میوزیم میں مصر کی ممی اور پینٹنگ والے سیکشن میں ایک سے ایک پینٹنگ کے بیچ چھوٹی سے مونا لیزا کی تصویر چیخ چیخ کر یہ کہتی نظر آئی کہ انسان کچھ بھی کر لے، کسی بھی مقام پر چلا جائے لیکن سب کو ایک دن تاریخ کا حصہ بننا ہے۔

سلسلہ ابھی باقی ہے، کل پھر کچھ اور ذکر ہوگا پیرس کا۔