شہرنامہ

پاکستان: پشاور کی نمک منڈی کا دورہ، جانئے ’چرسی تکوں‘ کے ذائقہ کا راز

پشاور کی گلیوں سے آتی بار بی کیو گوشت کی مہک پاکستان بھر سے گوشت کھانے کے شوقین افراد کو خیبر پختونخواہ کے اس علاقے میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے متاثرہ پاکستانی صوبے خیبر پختونخواہ کا قدیمی شہر پشاور آج بھی دنیا بھرمیں اپنے لذیذ پکوان کے باعث جانا جاتا ہے۔ لاہور کے طالب علم محمد فہد کئی عرصے سے پشاوری گوشت کے بارے میں سنتے رہے ہیں۔

فہد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’پہلے ہم سمجھتے تھے کہ پشاور ایک خطرناک شہر ہے لیکن اب چند سالوں سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔‘‘ سکیورٹی صورتحال کی بہتری ہی وہ وجہ ہے جس کی بدولت فہد اور پاکستان کے دیگر شہری اب پشاور کا رخ کر رہے ہیں۔ فہد نے پشاور کی نمک منڈی میں اپنے کھانے کا انتظار کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم یہاں یہ دیکھنے آئے ہیں کہ پشاور کے بار بی کیو کے ذائقے کا کیا راز ہے؟‘‘

پشاوری پکوان کی خاص تراکیب افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے پشتون سرزمین کی پیداوار ہیں۔ یہ اپنی سادہ انداز کے باعث جانی جاتی ہیں۔ یہاں کا کھانا پاکستان کے دیگر علاقوں کے تیز مصالحوں والے پکوانوں سے بالکل مختلف ہے۔ کھانوں کی ایک کتاب کی مصنفہ سمعیہ عثمانی کا کہنا ہے،’’اس کی مقبولیت کا بہت بڑا راز یہ ہے کہ ان کھانوں میں گوشت کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔‘‘

پشاور کی نمک منڈی کے چرسی تکوں پر صرف نمک لگایا جاتا ہے اور انہیں دنبے کی چربی کے ساتھ کوئلوں پر پکایا جاتا ہے۔ یہاں کی گوشت کڑاہی بھی بہت مشہور ہے۔ اس خاص ڈش میں گوشت کو چربی، ہری مرچوں اور ٹماٹر کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ اس لذیذ کھانے کو گرم نان اور دہی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ’چرسی تکہ ہاؤس‘ کے مالک ناصر خان کا کہنا ہے،’’دنیا کا سب سے لذیذ کھانا یہاں کا ہے۔‘‘ ناصر خان کے مطابق ان کے ریسٹورنٹ میں ہر روز سینکڑوں کلو گوشت پکایا جاتا ہے اور سینکڑوں افراد کو کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

عمر عامر عزیز بار بی کیو گوشت کے شوقین ہے۔ ان کے لیے پشاور کی نمک منڈی صرف کھانے کا مرکز نہیں ہے بلکہ یہاں کی ایک خاص ثقافت ہے جو یہاں کے پکوان سے جڑی ہوئی ہے۔ قدامت پسند شہر پشاور میں نمک منڈی کا دورہ کرنا ایک بہت پر لطف تجربہ ہے۔ یہاں سبز کہوہ کے ساتھ گرم گرم بار بی کیو گوشت کے ساتھ محفلیں گھٹنوں تک جاری رہتی ہیں۔