ممبئی: جامع مسجد کا کتب خانہ مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی ورثے کا امین

جامع مسجد کا شمار شہر ممبئی کی قدیم ترین عبادت گاہوں میں ہوتا ہے۔ 1775 میں ممبئی جامع مسجد کی باقاعدہ تعمیر شروع ہوئی اور 1808 میں مکمل ہوئی۔

ممبئی جامع مسجد / تصویر ایم اے لطیف
ممبئی جامع مسجد / تصویر ایم اے لطیف
user

محی الدین التمش

ہندوستان میں مسلم شخصیات اور اداروں کے ذریعے قائم کردہ کتب خانوں کا جب کبھی ذکر ہوگا تو ان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری، پٹنہ کی خدا بخش، رام پور کی رضا لائبریری اور حیدرآباد میں واقع کتب خانہ آصفیہ جو اب اسٹیٹ سینٹرل لائبریری حیدرآباد ہو چکی ہے۔ ان جیسے کئی ادارے ہمارے ثقافتی ورثے کے امین ہیں۔ ملک کے ان جیسے بیشتر مایہ نازکتب خانے سرکاری گرانٹ اور حکومتی سرپرستی میں رواں دواں ہیں۔

کتب خانہ محمدیہ جامع مسجد، ممبئی، تصویر ایم اے لطیف
کتب خانہ محمدیہ جامع مسجد، ممبئی، تصویر ایم اے لطیف

لیکن ممبئی کی جامع مسجد میں ایک ایسا وسیع اور تاریخی کتب خانہ ہے جو کسی حکومتی امداد سے نہیں بلکہ مسجد کے ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ جامع مسجد ممبئی میں موجود کتب خانہ مدرسہ محمدیہ جسے کتب خانہ محمدیہ جامع مسجد ممبئی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کتب خانے کو مسجد ٹرسٹ چلاتا ہے اور اس کے تمام تر اخراجات بھی برداشت کرتا ہے۔ یہ کام اپنے آپ میں عدیم المثال ہے۔


کتب خانۂ محمدیہ میں ہزاروں کی تعداد میں علمی ادبی اور مذہبی کتابیں موجود ہیں اس کتب خانے کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ یہاں صدیوں پرانے مخطوطات موجود ہیں جو مسلمانوں کی علمی مذہبی اور ثقافتی روایات کا اہم جز ہے۔ اس کتب خانے میں چھبیس اسلامی علوم و فنون پر کل 1618 مخطوطات موجود ہیں جن میں 1008عربی زبان میں، 473 فارسی اور 137 اردو میں تحریر شدہ ہیں۔ پچیس مختلف موضوعات پر پندرہ ہزارسے زائد کتابیں اور ایک ہزار قدیم رسائل اور اخبارات اس کتب خانے کی زینت ہیں۔ ان نادر و نایاب کتابوں کی حفاظت کے لئے جامع مسجد ٹرسٹ نے ساڑھے دس لاکھ سے زیادہ صفحات کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے محفوظ کرلیا ہے اور موجودہ کتابوں کی بہترین جلد سازی کا اہم کام انجام دیا ہے۔

قابل غور پہلو یہ ہے کہ جامع مسجد ٹرسٹ نے اس کام کو کسی حکومتی امداد کے بغیر ہی انجام دیا ہے۔ جامع مسجد کے امام و خطیب اور کتب خانہ محمدیہ کے ذمہ دار مفتی اشفاق قاضی کا کہنا ہے کہ جامع مسجد ٹرسٹ نے کتب خانے کے جملہ امور کی انجام دہی کے لئے خاص طور پر ملازمین کو معمور کیا ہے اور ان کی تنخواہیں بھی جامع مسجد ٹرسٹ ہی ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ کتب خانے کے جملہ اخراجات مسجد ٹرسٹ ہی برداشت کرتا ہے۔ جامع مسجد ٹرسٹ نے نادر و نایاب کتابوں کے رکھ رکھاؤ میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، دیدہ زیب الماریاں اور بک سیلف کا انتظام کیا ہے جو کتب خانے کی زینت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔


کتب خانے میں موجود نادر ونایاب کتابوں کے ذخیروں سے علمی فیض حاصل کرنے کے لئے ملک و بیرون ملک سے محققین و مصنفین علم و تحقیق کی جستجو میں اس کتب خانے کا رخ کرتے ہیں۔ معروف محقیق اور ماہر لسانیات ممبئی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو اور کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر عبدالستار دلوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پہلی تصنیف ’من سمجھاون‘ کی تکمیل اسی کتب خانے کے علمی ذخائر کی مدد سے کی۔ یہاں موجود مخطوطات سے انہیں علمی فیضان حاصل ہوا۔

ڈاکٹر دلوی کا کہنا ہے کہ ممبئی جامع مسجد کا محمدیہ کتب خانہ مغربی ہندوستان کا اہم ترین اور مالامال کتب خانہ ہے۔ حالانکہ اس کتب خانے کو حکومت کی جانب سے وہ اہمیت نہیں ملی جو اس کا حق تھا، ڈاکٹر دلوی کا کہنا ہے کہ اس کتب خانے میں ایسی ایسی نادر و نایاب کتابیں اور مخطوطات موجود ہیں جن کا کہیں اور دستیاب ہونا مشکل ہے۔


محمدیہ کتب خانہ کے ذمہ دار مفتی اشفاق قاضی نے کتب خانے کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کتب خانہ محمدیہ کے متعلق جو تاریخی شواہد ملتے ہیں اس کے مطابق مدرسہ محمدیہ اور کتب خانے کی شروعات 1850 میں تقریباً ایک ساتھ میں ہی ہوئی۔ اسی کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی طرح انیسویں صدی کی ابتداء میں کتب خانے کی باقاعدہ شروعات مولانا یوسف کھٹکھٹے نے کی۔ کتب خانہ کے لئے جامع مسجد کے پہلی منزل پر عمارت کے ایک حصے میں کتب خانے کے لئے جگہ مختص کی گئی اور کتابوں کی ذخیرہ اندوزی کے ذریعے باضابطہ کتب خانے کا آغاز ہوا۔ وقت کے ساتھ یہ کتب خانہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔

ڈاکٹر عبدالستار دلوی کا کہنا ہے کہ جامع مسجد ٹرسٹ نے محمدیہ کتب خانے کی نادر و نایاب کتابوں اور مخطوطات کی حفاظت کرکے مسلمانوں کے عظیم سرمائے کی حفاظت کی ہے۔ اگر وقت پر ان نادر و کم یاب کتابوں کا تحفظ نہ کیاجاتا تو ہمارے تاریخی اور دینی سرمائے کے ضائع ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو جاتا۔ جامع مسجد ٹرسٹ نے یہ اہم کام بغیر حکومتی امداد کے کیا ہے۔ مسجد کے تحت ایک عظیم الشان لائبریری کو جاری و ساری رکھنا بھی قابل تقلید عمل ہے۔


جامع مسجد کے ٹرسٹی شعیب خطیب کا کہنا ہے کہ 2015 سے جامع مسجد کتب خانے کا کام شروع ہوا۔ اور ابھی تک تمام اہم کتابوں کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے محفوظ کرلیا گیا ہے۔ موجودہ مخطوطات پر تحقیق کے لئے باقاعدہ خاص لوگوں کو معمور کیا گیا اور مفتی اشفاق قاضی کی رہنمائی میں کیٹلوگ ترتیب دیا گیا۔ جامع مسجد ٹرسٹ کتب خانہ کی اہمیت سے واقف تھا اس لئے اس ورثے کو بچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

جامع مسجد کا شمار شہر ممبئی کی قدیم ترین عبادت گاہوں میں ہوتا ہے۔ 1775 میں ممبئی جامع مسجد کی باقاعدہ تعمیر شروع ہوئی اور 1808 میں مکمل ہوئی۔ جنوبی ممبئی کے کرافورڈ مارکیٹ عبدالرحمان اسٹریٹ میں واقع یہ مسجد ہیریٹیج عمارت ہے اور فن تعمیر کا نمونہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔