’شہرادب‘ لکھنؤ کونفرت کی آگ میں جھونکنے کامنصوبہ!

لکھنؤکی ٹیلے والی مسجدکے سامنے مورتی نصب کرنے کی تجویزسے عوامی حلقوں میں شدیدناراضگی

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

نواب علی اختر

لکھنؤ: خیال کیا جارہاتھاکہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کا بگل سنت کبیرنگرکے مگہرسے بجادیا گیاہے مگرشایدیہ اندازہ غلط ثابت ہواکیوں کہ شہرادب کے طورپرمشہور اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤمیں بی جے پی کے زیرحکمرانی نگرنگم نے ایک ایسامتنازعہ فیصلہ کیاہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خطرے میں پڑتانظرآرہاہے اورماہرین اس حساس معاملے کوہوادیئے جانے کوانتخابی بگل کے طورپردیکھ رہے ہیں۔

معلوم ہوکہ لکھنؤنگرنگم نے فیصلہ کیا ہے کہ پرانے لکھنؤمیں موجود تاریخی ٹیلے والی مسجدکے سامنے لکشمن کی بڑی مورتی نصب کی جائے گی۔ کارپوریشن کے اس فیصلے سے فرقہ وارانہ یکجہتی کی مثال لکھنؤمیں سیاسی پارہ چڑھ گیاہے۔نگرنگم کے اس فیصلے کے بعدشہرمیں تنازعہ شروع ہوگیاہے۔

بتا دیں کہ میونسپل کارپوریشن کی مجلس عاملہ میں بی جے پی کارپوریٹر پ رام کرشن یادو اور بی جے پی کارپوریٹروں کے چیف وہپ رجنیش گپتا کی اس تجویز کو ہری جھنڈی دے دی گئی ہے، لیکن یہ معاملہ جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہے نہیں کیونکہ ٹیلے والی مسجدمیں ہرسال ایسے تقریباً نصف درجن مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں جن میں لاکھوں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔عوام کی کثرت کے سبب کئی بارتوعلاقے میں ٹریفک کوبھی روکناپڑجاتاہے۔

’شہرادب‘ لکھنؤ کونفرت کی آگ  میں جھونکنے کامنصوبہ!
شیعہ۔سنی اتحادکومضبوط کرنے کے لئے پچھلے دنوں ٹیلے والی مسجد میں امام فضل منان کی امامت میں نمازجمعہ اداکرتے ہوئے مسلم پرسنل لاءبورڈکے نائب صدراورشیعہ مذہبی رہنمامولاناڈاکٹرکلب صادق ودیگر

لکھنؤنگرنگم کی میئرسینکتا بھاٹیہ کومخاطب یہ تجویزبی جے پی کے کونسلروں نے 27 جون کو پیش کی۔رام کرشن یادو اوررجنیش گپتاکی طرف سے پیش تجویز میں کہا گیا ہے کہ لکھنؤ کی تاریخ بھگوان لکشمن سے جڑی ہوئی ہے۔اس لئے عوامی جذبات کودیکھتے ہوئے نگرنگم ٹیلے والی مسجدکے سامنے لکشمن جی کی مورتی لگوائے۔کارپوریٹررام کرشن کے مطابق ٹیلے والی مسجدکانام لکشمن ٹیلہ رہاہے لہٰذااس جگہ پرلکشمن جی کی مورتی لگائی جانی چاہئے۔بی جے پی لیڈروں کی اس تجویزکی سیکولرعوام بالخصوص مسلم حلقوں میں شدیدمخالفت کی جارہی ہے۔

مسلم پرسنل بورڈکے مطابق آئندہ انتخابات کے پیش نظربی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے مسجدکومتنازعہ بناناچاہتی ہے۔ایک بی جے پی ذرائع نے بتایاکہ تنازعہ بڑھنے کے بعدنگرنگم کی اگلی میٹنگ میں اس مسئلے پربحث کی جاسکتی ہے۔’قومی آواز‘سے بات کرتے ہوئے ٹیلے والی مسجدکے شاہی امام مولانافضل منان نے کہاکہ مسجدمیں الوداع اور عیدین کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں ۔یہاںتک کہ سڑک پربھی جماعتیں کھڑی ہوتی ہیں اوراسلام میں کسی مجسمہ یا تصویر کے سامنے یااس کے پیچھے نمازنہیں پڑھی جا سکتی ۔اس کے علاوہ قومی ومسلکی اتحادکی کوششوں کے تحت بھی اکثرہندو۔مسلم،شیعہ ۔سنی مذہبی رہنماجمع ہوتے رہتے ہیں۔ایسی صورت میں اگر مسجد کے سامنے چوراہے پر مورتی نصب کی جائے گی تو لوگ نماز نہیں پڑھ پائیں گے۔لہٰذاوہ اس معاملے کولے کرگورنراوروزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے مورتی کوکہیں دوسری جگہ لگانے پربات کریں گے۔ اس معاملے میں لکھنؤ کی میئرسینکتابھاٹیا کہتی ہیں کہ یہ تجویز پاس ہوئی ہے مگر جگہ کاانتخاب نہیں ہواہے۔ وہیں مورتی کوکہاں لگایاجائے ؟اس پرآخری فیصلہ ہوناباقی ہے۔

گورنراوروزیراعلیٰ سے ملیں گے مسجدکے امام

اس سلسلے میں ٹیلے والی مسجد کے امام مولانافضل منان نے بتایا کہ یہ تاریخی اورمحفوظ علاقہ ہے، اس وجہ سے یہاں پر بغیرمحکمہ آثارقدیمہ( اے ایس آئی) کی اجازت کے کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جا سکتا ہے۔لہٰذاوہ مسجدکے سامنے چوراہے پرمورتی نصب کرنے کے بی جے پی لیڈروں کے فیصلے کولے کرریاست کے گورنررام نائیک اوروزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کریں گے اورانہیں مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے مورتی کوکہیں دوسری جگہ لگانے پربات کریں گے۔