شہرنامہ

سفرنامہ ... پیرس میں ہر شخص پُر سکون نظر آتا ہے

گرینڈ مسجد 1914 میں ان مسلمانوں کے لئے بنائی گئی تھی جو فرانس کا سفر کرتے تھے اور جنہوں نے جرمنی کے خلاف لڑائی میں فرانس کا ساتھ دیا تھا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

پیرس جو اصل میں فیشن، فن اور ادب کے لئے مشہور ہے لیکن ساتھ ہی اس میں ایک سے ایک تاریخی مذہبی مقامات بھی ہیں جن کو فرانس کی حکومتوں نے بہت سنبھال کر رکھا ہے۔ دیگر مغربی ممالک کے بر خلاف یہاں کی شامیں لمبی ہوتی ہیں۔ ویسے تو آ ج کل یہاں رات کے 8بجے تک سورج مہاراج کی حکمرانی چلتی ہے لیکن شام چھ بجے سے لوگ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے باہر گروپ میں کچھ نہ کچھ کھاتے نظر آتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی کھانا بغیر شراب کے پیرس میں مکمل نہیں ہوتا۔ اپنے ملک کے بارے میں تو یہ نہیں کہہ سکتا لیکن کسی بھی شہر سے اگر کوئی ندی گزر رہی ہوتی ہے تو اس سے ملحقہ علاقہ خود بخود ثقافت اور سیاحت کا مرکز بن جاتا ہے۔ اسی طرح پیرس کی سین ندی شہر کا دل ہے اور شام کو جو رونق اس کے کناروں پر ہوتی ہے اس کی منظر کشی کرنا تھوڑا مشکل ہے۔سین ندی جو اب سیاحت کا مرکز ہے وہ کبھی بڑے بڑے پینٹروں، ناول نگاروں ، شاعروں اور فلسفی حضرات کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہاں کبھی ناکام عاشق خودکشی بھی کرتے تھے لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے ۔ ہاں ایسا ضرور ہے کہ ابھی بھی ندی کے کنارے کچھ اسکیچ بنانے والے ہوتے ہیں جو 10یورو سے لیکر25 یورو کے عوض لوگوں کے اسکیچ بناتے ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
پیرس کی گرینڈ مسجد

پیرس میں مسلمانوں کے تعلق سے جاننے کے لئے بے چینی تھی اس لئے پہلے انٹرنیٹ کے ذریعہ مسجد کے بارے میں پتہ لگانے کی کوشش شروع کی گئی اور گوگل میں مسجد (Mosque) ڈالتے ہی سب سے اوپر پیرس کی گرینڈ مسجد کی تفصیلات آ گئیں۔ دوپہر بارہ بجے اپارٹمنٹ سے اس نیت سے نکلے کے ظہر کی نماز اسی مسجد میں ادا کریں گے۔ اپارٹمنٹ کے دونوں جانب برابر کے فاصلہ پر میٹرو اسٹیشن ہیں اس لئے میٹرو سے مسجد کے قریب والے اسٹیشن پر پہنچ گئے ۔ لوگوں سے پوچھنے کے بجائے فون کے جی پی ایس پر مسجد کا اصلی مقام دیکھا اور روانہ ہو گئے مسجد کی جانب۔ آدھا کلومیٹر سے تھوڑا زیادہ چلنے کے بعد مسجد کے صدر دروازہ پر پہنچے تو، جو باہر سے مسجد نظر آ رہی تھی وہ دراصل اندر سے ایک دم مسجد محسوس نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے ذہن میں مسجد میں جوتوں کے ساتھ اند ر جانے کا تصور ہی نہیں ہے۔ ہم جوتے پہنے پہنے مسجد میں داخل ہوئے تو خوبصورت پیڑ پودھوں نے ہمارا استقبال کیا۔ چاروں طرف دیواروں پر خوبصورت ٹائیلس لگی ہوئی تھیں اور مسجد کے اندر کتابیں وغیرہ بیچنے کی ایک چھوٹی سی دوکان بھی نظر آئی۔ کئی کمرے اور مسجد کی مرکزی بلڈنگ سے نیچے اتر کر ایک وضو خانہ تھا۔ ایک بڑے سے کمرے میں بہت ساری اسلامی کتابیں اور بڑی سی میز جس کے اطراف 30 کرسیاں لگی ہوئی تھیں جو کہ لائبریری اور کانفرنس ہال ہے۔ مسجد کا وہ حصہ جہاں پر باقائدہ پنجگانہ نماز ہوتی ہے وہ حصہ بہت خوبصورت ہے۔ موسم کو ذہن میں رکھتے ہوئے چاروں طرف دیواروں پر کپڑے ٹانگنے کے ہینگر لٹکے نظر آئے تاکہ لوگ وضو کرنے سے پہلے اپنے سردی کے کوٹ وغیرہ وہاں ٹانگ سکیں۔ یہ مسجد 1914میں ان مسلمانوں کے لئے بنائی گئی تھی جو فرانس کا سفر کرتے تھے اور جنہوں نے جرمنی کے خلاف لڑائی میں فرانس کا ساتھ دیا تھا۔ وہاں موجود فرانسیسی گائیڈ نے بتایا کہ 1926میں اس مسجد کی تعمیر مکمل ہو گئی تھی ۔ جمعہ کے روز مسجد میں سیاحوں کو اجازت نہیں ہے، کیونکہ جمعہ کی نماز کے لئے بڑی تعداد میں لوگ یہاں آتے ہیں۔

مسجد کے بعد ہمارا رخ پیرس کے مشہور اور تاریخی کیتھیڈرل آف نورٹے ڈیم کی جا نب تھا جو تھوڑ ے ہی فاصلہ پر موجود تھا، ہم نے پیدل ہی سفر کرنا مناسب سمجھا کیونکہ شہر کو قریب سے دیکھنے کا لطف ہی الگ ہے۔ اس راستے میں ویسے تو کئی مقامات تھے اور کئی میوزیم بھی تھے لیکن ایک کونے میں پارک تھا جہاں بزرگ بیٹھے تھے اور بچے کھیل رہے تھے ۔ چھوٹے بچوں کے کھیلنے کے لئے ہر قسم کے جھولے موجود تھے ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اکیلے پیرس شہر میں تقریبا تین سو میوزیم ہیں۔

سین ندی کراس کر کے ہم اس چرچ میں پہنچے۔ داخلہ کے لئے کوئی ٹکٹ نہیں تھا ۔ اندر داخل ہوتے ہی چرچ کی فن تعمیر نے ذہن کو جھنجھوڑ دیا ۔1163 میں اس چرچ کی تعمیر شروع ہوئی تھی اور 1345 میں مکمل ہو پائی ،لیکن آرکیٹیکچر کا زبردست نمونہ ہے۔ دیوار سے لیکر چھت تک ہر چیز دیکھنے کے لائق ۔ اس زمانہ میں جب ٹیکنالوجی آج کی جیسی جدید نہیں تھی اس وقت ایسا تعمیر ی شاہکار بنانا اپنے آپ میں ایک بڑی بات تھی ۔ چرچ کے مرکز میں عبادت گاہ ہے جہاں بیٹھنے کے لئے بینچ پڑی ہوئی ہیں اور چاروں طرف اس زمانہ کے اہم مذہبی چیزوں کی نمائش کی گئی ہے۔ اندر ایک میوزیم ہے جس کا باقاعدہ ٹکٹ ہے۔

دن بھرمیں دو بڑے مذاہب کی عبادت گاہیں دیکھنے کے بعد ہم لوگوں نے ندی میں چل رہے ’کروز‘ کا لطف اٹھانے کا پروگرام بنایا ۔ ندی کے اس پوائنٹ کو نورٹے ڈیم پوائنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے اور ایسے یہاں آٹھ پوائنٹ ہیں۔ یہاں سے ہم نے 17یورو فی آدمی کے حساب سے ٹکٹ لئے ۔ کروز میں بیٹھنے کے بعد آپ پورے دن اس ٹکٹ سے سفر کر سکتے ہیں۔ آپ الگ الگ جگہ اتر کر دوبارہ اس میں بیٹھ سکتے ہیں اس کو ’ہاپ آن ہاپ آف رائڈ‘ کہتے ہیں ۔ آپ کسی مقام پر اتر جائیے گھومیے اور دوسری آنے والی کروزمیں بیٹھ جائیے ۔ اس کے علاوہ کچھ مہنگے کروز بھی ہیں جن کا ٹکٹ پچاس یورو سے بھی زیادہ ہے، وہ بہت خوبصور ت بھی ہیں اور اسی کرائے میں کھانا بھی شامل ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے تک پانی کے بیچ کروز میں وقت گزارنے کا مزہ ہی الگ تھا ۔ میرا ایسا پہلا تجربہ تھا اور مجھے اس میں بہت لطف آیا۔ لوورے میوزیم پوائنٹ (اسٹیشن) پر اترنے کے بعد اور کچھ وقفہ ایک پل پر گزارنے کے بعد لوورے ہوتے ہوئے اپنے اپارٹمنٹ کی جانب چل پڑے ۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اتنی ہمت نہیں رہی کہ سونے کے علاوہ کچھ اور سوچا جائے۔

پیرس میں جہاں خواتین ایک سے ایک جدید لباس زیب تن کیےنظر آتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر لباس اپنی انفرادیت رکھتا ہے لیکن مرد و خواتین میں سگریٹ نوشی بہت عام ہے ۔ ہر ہوٹل کے باہر اور ندی کے کنارے شراب نوشی کرتے لوگ ایسے نظر آتے ہیں جیسے دنیا میں صرف یہی ایک تفریح کا سامان ہے۔

آج کل ٹمپریچر کم ہونے کے با وجود دہلی کے مارچ جیسا موسم ہے یعنی ٹی شرٹ میں آرام سے گھوما جا سکتا ہے۔ سگریٹ، بوسہ، شراب بہت عام ہے۔میں نے کسی بھی مقام پر لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑتے یا ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔ اگر آپ کسی سے ٹکرا بھی جائیں تو سامنے والے سے ناراضگی کی جگہ صرف مسکراہٹ ہی ملے گی ۔ پیرس میں مقامی لوگ اور سیاح دونوں بہت پر سکون نظر آتے ہیں، کہیں بھاگ دوڑ نظر نہیں آئی ۔ کل کچھ بازار دیکھیں گے ،جمعہ کی نماز گرینڈ مسجد میں ادا کریں گے اور فرانس کے سب سے بڑے فٹبال کلب’پیرس ڈی جرمین‘ کا اسٹیڈیم دیکھیں گے۔ اس اسٹیڈیم کو صرف دیکھنے کا کرایہ دس یورو فی آدمی ہے۔