سنگاپوری ڈالر پر ایک مسلمان کی تصویر .. اکبر میو

لیکوان یو نے فیصلہ کیا تھا کہ کرنسی نوٹ پہ تصویر ریاست کے سربراہ کی آئے گی بھلے وہ اقلیتی آبادی سے تعلق رکھتا ہو- آج تک کسی سنگاپوری نے مطالبہ نہیں کیا کہ کرنسی سے ایک مسلمان کی تصویر ہٹائی جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اکبر میو

لاہور سے آدھی آبادی اور آدھے سے بھی کم رقبے والا سنگاپور دنیا کے نقشے پہ محض ایک نقطہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر پاکستان اگلے 40 برس ایک روپیہ بھی ٹیکس اکھٹا نہ کر ے تو اکیلا سنگاپور اس کا بجٹ پورا کر سکتا ہے۔ پاکستان سے 17 سال بعد معرض وجود میں آنے والے سنگاپور نے غربت سے امارت کا یہ سفر کیسے طے کیا ؟ یہ تصویر بتاتی ہے۔

کس طرح ان لوگوں نے اس دنیا کو اپنے لئے اور دوسروں کے لئے جنت بنایا ہے اور کس طرح محنت سے ہم نے اس دنیا کو جہنم بنایا ہے۔ یہ تصویر اتنی گھمبیر سیاسی، سماجی اور معاشی گھتی سلجھاتی ہے۔
لی کوان یو سنگاپور کے بانی وزیراعظم تھے جن کی قیادت کے 31 سال میں یہ چھوٹا سا جزیرہ ترقی کے ساتویں آسمان تک جا پہنچا۔ آج بھی پینے کا پانی درآمد کرتا ہے اور ملک میں گندم یا چاول کا ایک دانہ تک نہیں اگتا۔

کل آبادی کا صرف 14 فیصد مسلمان ہیں۔ زیر نظر کرنسی سنگاپوری ڈالر ہیں جن پہ سنگاپور کے پہلے صدر یوسف بن اسحاق کی تصویر ہے۔

یہ پانچ سال سنگاپور کے صدر رہے اور ان کا سنگا پور کی ترقی میں کوئی بہت نمایاں کردار نہیں- لیکن لیکوان یو نے فیصلہ کیا تھا کہ کرنسی نوٹ پہ تصویر ریاست کے سربراہ کی آئے گی۔ بھلے وہ اقلیتی آبادی سے تعلق رکھتا ہو- آج تک کسی سنگاپوری نے مطالبہ نہیں کیا کہ کرنسی سے ایک مسلمان کی تصویر ہٹائی جائے۔

یہ تصویر ہمیں ایک سبق دیتی ہے۔ جو قوم ایک غیر مسلمان کو، جو کہ پڑھا لکھا اور قابل ہے، وزیر اعظم کے اقتصادی مشیر کے طور پے بھی قبول کرنے کو تیار نہیں، تو اس کی مصیبتیں ختم نہیں ہونے والی۔ اسے ابھی در در کی ٹھوکریں کھانی ہیں اور بھیک ہی مانگنی ہے۔ اسے ابھی فوجی اڈے اور شکار کے لائسنس دے کر گزارا کرنا ہے جو کہ جسم فروشی کی مانند ہے۔

(مضمون نگار پاکستان میں ڈپٹی کمشنر اِنکم ٹیکس سیلز ٹیکس کے عہدے پر فائز ہیں، ای میل : akbarmayo@gmail.com)