شہرنامہ

لکھنؤ: شہرہ آفاق آصفی امام باڑہ و مسجد کی حالت تشویشناک

آصفی امام باڑہ دنیا کی واحد عمارت ہے جس میں لکڑی یا لوہے کا کہیں بھی استعمال نہیں ہواہے۔ روشن اور ہوادار امامباڑے کو دیکھنے روزانہ ہزاروں سیاح دنیا کے کونے کونے سے آتے ہیں۔

تصویر قومی آواز

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اودھ کی مشہور عمارتوں میں سے ایک امام باڑہ آصف الدولہ کی خوبصورتی کا کوئی جواب نہیں،لیکن محکمہ آثار قدیمہ اور وقف حسین آباد نے اس کی طرف سے لا پرواہی جاری رکھی ہے۔وقف حسین آباد نے آصفی امام باڑے کی بھول بھلیاں اور باولی کو صرف آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ چونکہ وقف حسین آباد کے انتظامی امور کی ذمہ داری لکھنؤ کے کلکٹر کی ہے اس لئے سرکاری دخل کی وجہ سے یہاں صرف لا پرواہی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے حتی کہ آر ٹی آئی سے بھی یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ صورتحال ہے کیا۔ آمدنی، حدود اربعہ اور اخراجات کو عوام سے مخفی رکھا جاتا ہے۔

جمعہ کی زوردار بارش نے امام باڑے کی ایک برجی کو نقصان پہنچایا۔ شدید گرج و چمک کے دوران عمارت کے ایک حصہ پر بجلی گری جس کی وجہ سے ایک چھوٹی برجی منہدم ہو گئی۔اب سرکاری انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں محکمہ آثار قدیمہ کو خط لکھا جا رہا تاکہ امام باڑے کی مرمت کاری ہوسکے۔

عمارت کی چھت سے گرنے والے پرنالوں کی موٹی دھار سے دو بچے بھی زخمی ہوئے ، جو بہرحال اب خطرے سے باہر ہیں۔

نواب آصف الدولہ کے ذریعے تعمیر کی گئی اس حسین و جمیل اور وسیع عمارت کی کیا خوب تعریف پنڈت برج نارائین چکبست نے کی ہے۔ ملاحظہ کریں چند اشعار

آصف الدولۂ مرحوم کی تعمیرِ کہن

جس کی صنعت کا نہیں صفحۂ ہستی پہ جواب

دیکھ سیاح اسے رات کے سناٹے میں

منہ سے اپنے مہِ کامل نے جب الٹی ہو نقاب

در و دیوار نظر آتے ہیں کیا صاف و سبک

سحر کرتی ہے نگاہوں پہ ضیائے ماہتاب

آصف الدولہ نے فیض آباد کو اودھ کی راجدھانی ترک کرکے لکھنؤ کو اپنا دار الحکومت بنا لیا تھا۔ انہوں نے خوبصورت عمارتوں کی تعمیر کرائی،جن کو عالمی شہرت حاصل ہوئی۔آصف الدولہ کے اس امام باڑے،مسجد،اور بھول بھلیاں وغیرہ کی بنیاد1784 میں رکھی گئی۔کئی سال تک عمارت کی تعمیر جاری رہی اورجب مکمل ہوئی تو پوری دنیا نے واہ واہ کی صدا بلند کی۔

امام باڑے ،مسجد وغیرہ کی تعمیر کے پس پشت بھی ایک کہانی عام ہے کہ سخت قحط سالی کے دوران نواب نے اس بڑے امام باڑے کی تعمیر کی اس لئے بنیاد رکھی کہ سماج میں بھوک اور فاقہ کشی سے بے حال افراد کی داد رسی کی جا سکے۔کہا جاتا ہے کہ دن کے اجالے میں غریب اور مفلوک الحال افراد امام باڑے کی تعمیر کرتے تھے اور رات کی تاریکی میں سماج کا اعلی طبقہ اسی عمارت کو گراتا تھا تاکہ سب کو ہی محنت کا پھل مل سکے۔ خو ددار اور غیور رئیس شک کے اندھیرے میں عمارت کے کام پر مامور تھے تاکہ ان کو کوئی دیکھ نہ سکے۔

بہرحال فراخ دل نواب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا کہ جس کو نہ دیں مولا۔اس کو دیں آصف الدولہ یعنی فراخدلی اور ترس خدائی کی وجہ سے نواب کی یہ شبیہ ابھری۔

لیکن آصف الدولہ کے اس شہرہ آفاق امام باڑے کا انتظام خراب ہے۔بھول بھلیاں جہاں سے ہر مہینے لاکھوں روپئے آمدنی کے طور سے حسین آباد ٹرسٹ کو ملتے ہیں وہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ملازمین اور انتظامیہ نے دیگر عمارتوں کی طرح یہاں بھی خوب خوب آمدنی کے وسائل پیدا کر لئے ہیں مگر عمارت کے داخلی حصے کی حالت خستہ ہے۔بھول بھلیاں میں روزانہ سیکڑوں سیاحوں کے چلنے دوڑنے اور پلاسٹر پر اپنی محبتوں کے نشان بنانے کی کسی کو فکر نہیں ہے۔

بہو بیگم کے اس فراخدل بیٹے آصف الدولہ کی اس عمارت میں کبھی کبھار کچھ مرمت کاری ہوجاتی ہے لیکن اوپری حصوں سے ان میں دلکشی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر داخلی حصے، شاہ نشین اور چھتوں کی حالت بد تر ہے۔ کہا جا تا ہے کہ دنیا کی یہ واحد عمارت ہے جس میں لکڑی یا لوہے کا کہیں استعمال نہیں ہواہے۔ روشن اور ہوادار امامباڑے کو دیکھنے روزانہ ہزاروں سیاح دنیا کے کونے کونے سے آتے ہیں۔امام باڑے کے پہلو میں شاندار وسیع آصفی مسجد ہے جہاں شیعہ حضرات عید ین کے علاوہ جمعہ اور پنجگانہ نماز ادا کرتے ہیں۔

امام باڑے کے وسیع دالان میں نواب آصف الدولہ کی قبر ہے، امام باڑے میں جھاڑ ،فانوس کی بڑی تعداد ٹوٹی اور پھوٹی حالت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ شاہ نشین پر علم و تعزیے ہیں،شیشہ آلات کافی ہیں مگر ان کی قلعی اتر چکی ہے، فرش جا بجا اکھڑا ہوا ہے ۔محرم میں یہاں برقی قمقموں سے عمارت کو سجایا جاتا ہے اور نواب کے دور کے محرم کی سجاوٹ کو دہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔مگر سب سے زیادہ افسوسناک پہلو امام باڑے کی آمدنی کا صحیح استعمال اور اس کے رکھ رکھاؤ کا فقدان ہے۔امام باڑے کی زمینون کو یو پی سرکار نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جس کا کوئی معاوضہ بھی نہیں۔ مجموعی طور سے آصف الدولہ کا امامباڑہ اور مسجد بہت اچھی حالت میں نہیں ہے۔مسجد کے گنبدوں،میناروں کا بھی جا بجا پلاسٹر ٹوٹا ہوا ہے اور کسی بھی ناگہانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔