’تخلیقی توانائی رکھنے والے نوجوان شعراء مستقبل کا سرمایہ‘

حیدرآباد میں ’تنظیم ادب‘ کے اجلاس سے دانشوروں کا خطاب۔ شعراء نے سماں باندھ دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: ادب کے دبستانوں میں دبستان دکن کی اپنی تاریخ ہے اور ہر دبستان کی پہچان قابل اساتذہ اور قابل تلامذہ سے ہوتی ہے، فی زمانہ حیدرآباد میں اگر ایسا کوئی دبستان ہے تو وہ سردار سلیم کی تربیت گاہ ہے جہاں سے شعراء اس طرح ڈھل کر نکلتے ہیں، ان خیالات کا اظہارمولانا محمد رحیم الدین انصاری صدر نشیں تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی نے 7 اکتوبر کی شام اردو گھر مغلپورہ حیدرآباد میں منعقدہ تنظیم ادب کے پروگرام ’نام ہے میرا شباب‘ کے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا اس پروگرام میں ملک کے مختلف حصوں سے معتبر نوجوان شعراء کو مدعو کیا گیا تھا، حیدرآباد کے سینئر شاعر صلاح الدین نیر نے کہا کہ نوجوانوں کا یہ منفرد کل ہند مشاعرہ سردار سلیم کی غیر معمولی کاوش ہے، انھوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے یہ خوبصورت ادبی کارواں سجایا ہے جس میں مختلف مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ دل نشیں کلاسیکی اور جدید لہجوں کے امتزاج سے مزین نوجوان شعراء شامل ہیں۔

اسلم فرشوری نے تمام شعراء کو ان کی عمدہ شاعری پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مشاعروں کے اسٹیج پر ایسی اعلیٰ و ارفع تخلیقی صلاحیتوں کے حامل شعراء کم ہی نظر آتے ہیں، ڈاکٹر میم قاف سلیم نے اپنے مضمون میں مشاعرے کے عنوان''نام ہے میرا شباب'' کی ستائش کرتے ہوئے خوبصورت انداز میں نہ صرف عنوان کی تشریح کی بلکہ قدیم و جدید اشعار کے حوالے بھیدیئے،ماہر تعلیم جناب فاروق طاہر نے شکیب جلالی اور اسرار الحق مجاز کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا شاعر 30تا40 سال کی عمر میں دنیائے ادب کو ایسی معیاری شاعری سے مالا مال کرجاتا ہے جو بعض شعراء کے لئے 70، 80 سال میں بھی ممکن نہیں ہوپاتا، صدر تنظیم ادب سردار سلیم نے اپنے افتتاحی کلمات میں شرکاء محفل کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروگرام کے خدوخال پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ استاد شاعر کا فرض ہے کہ وہ اپنے شاگردوں میں اپنا فن منتقل کرے، آج کل ہرکس و ناکس کے نام کے ساتھ''استاد شاعر'' کا لاحقہ لگ گیا ہے، جن لوگوں کو پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہے ہیں اور جن لوگوں کو اصلاح لینی چاہیے وہ اصلاح دے رہے ہیں-

انھوں نے لفظ استاد کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب میں استاد شاعر کا مطلب ہوتا ہے استاد ذوق جس کے مکتب سے داغ دہلوی جیسا شاعر جنم لیتا ہے، استاد غالب جس کے مدرسے سے الطاف حسین حالی جیسی نادر روزگار شخصیت پیدا ہوتی ہے اور استاد شاعر کا مطلب ہوتا ہے صفی اورنگ آبادی جس کے دبستان سے خواجہ شوق جیسا معتبر شاعر پیدا ہوتا ہے، متشاعروں کے سرغنہ کو استاد نہیں کہتے، آج اردو ادب کو سچے، بے لوث اور لائق اساتذہ کی ضرورت ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ نئی نسل کو تیار کر سکیں، مولانا ڈاکٹر سید عبدالمھیمن قادری لاابالی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ حیدرآباد ادب کا گہوارہ ہے جہاں مخدوم، شاذ اور جامی جیسے عظیم شعراء نے جنم لیا، آج ادبی روایتیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں، اگر کہیں روشنی کی کوئی کرن ہے تو وہ ادب گاہ کا دبستان ہے جہاں فنونِ ادب کی درس و تدریس کے ذریعے نسل نو کو بہترین انداز میں علم و فن سی آراستہ کیا جا رہا ہے-

قاضی اسد ثنائی نے کہا کہ سردار سلیم کی ادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں، انھوں نے تازہ کار شعراء کی زبردست کھیپ تیار کردی ہے، دبستان سردار سلیم کے جواں سال شاعر سید تمجید حیدر نے اس تاریخ ساز مشاعرہ کی صدارت کی۔ معتمد تنظیم ادب ڈاکٹر معین افروز نے اجلاس اور مشاعرے کی کارروائی چلای، مہمان اور میزبان شعراء کے علاوہ شہر و اضلاع کے ممتاز شعراء ادباء، اساتذہ کی کثیر تعداد موجود تھی، اردو گھر کا وسیع و عریض ہال تنگ دامانی کا اظہار کر رہا تھا۔

مہمان شعراء میں غوثیہ خان سبین (بھوپال) احمد اورنگ آبادی، ڈاکٹر نصرت حنفی (اورنگ آباد) پرنو شرما (آگرہ) سومیہ وینکٹیشن (پونے) سوجنا ستیہ وادا (وشاکھا پٹنم) عمر صدیقی (لکھنؤ) وسیم جھنجھانوی، مسرور نظامی (بسواکلیان) اور میزبان شعراء میں ڈاکٹر سید شاہ عبدالمھیمن پاشاہ قادری لاابالی، سید جعفر شرفی، سید جلیس، ریاست علی اسرار نعمان اثر، مخدوم جمالی، ساجد سنجیدہ، محترمہ غوثیہ بانو، علی بخاری، مکرم فیضان، اسمعیل قدیر، محمد بن احمد باوزیر، ذکی حیدر، فیض جنگ، فضیل فوذ، محسن نواز،شجرعلی، سراج یعقوبی، محمد اسلم احقر اور ڈاکٹر معین افروز نے اپنی خوبصورت شاعری سے سماں باندھ دیا۔

معزز سینئرشعراء اور باذوق سامعین نے بے حد دلچسپی کے ساتھ ان شعراء کو سنا اور دل کھول کر حوصلہ افزائی کی۔ سامعین کی صفوں میں تشریف فرما اہم شخصیات میں ممتاز غزل سنگر محمد رکن الدین، ظفر محی الدین، صاحبزادہ نواب میر وقار الدین علی خان بہادر، جناب تاج مضطر (ورنگل)، حلیم بابر (محبوب نگر) ڈاکٹر خلیل صدیقی (لاتور مہاراشٹر)، جلال الدین اکبر، افتخار عابد، قاری انیس احمد، نور الدین امیر، وحید پاشاہ قادری، میر مبشر علی، معراج جعفری، بصیر خالد، الیاس قریشی، ماجد خلیل، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی، قابل حیدرآبادی، سید عمر بخاری اور سید نظام الدین شامل تھے۔شکیل ظہیرآبادی نے تمام شعراء، ادباء سامعین اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔