عالمی اردو کانفرنس: ’اس ملک کی تہذیب کی شناخت اردو سے ہے‘

فروغ انسانی وسائل کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری منورنجن کمار نے اردو کی شیرینی و لطافت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک کی تہذیب کی شناخت اردو سے ہے اور شرافت وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں اردو ہے۔

تصویر یو این آٗی
تصویر یو این آٗی

یو این آئی

نئی دہلی: فروغ انسانی وسائل کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری منورنجن کمار نے اردو کی شیرینی و لطافت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک کی تہذیب کی شناخت اردو سے ہے اور شرافت وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں اردو ہے۔ انہوں نے یہ بات قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کی چھٹی عالمی اردو کانفرنس میں مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر کی نمائندگی کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اردو کے سخت جان ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ زمانے میں تبدیلی آئی لیکن اردو نے اپنی شرینی اور لطافت کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اپنے وجود کو بھی شان و شوکت کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امیر خسرو آئے ، بڑے بڑے شعراء ادبا آئے اور چلے گئے لیکن اردو قائم ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر اردو نہ ہوتی ہمیں سارے جہاں سے اچھاہندوستان ہمارا جیسا ترانہ بھی نہ ملتا۔

انہوں نے اردو کی تمام شعبہ حیات میں مقبولیت کی بات کرتے ہوئے کہاکہ اگر اردو نہ ہوتی تو ہمیں فلموں کے ذریعہ تفریح بھی نہیں ملتی، شترو گھن سنہا کی پہنچان ’خاموش‘ نہیں ملتا۔انہوں نے کہاکہ اردو شرافت اور شرارت کے درمیان کے پل کا کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے شعبے میں اردو اپنی شناخت قائم رکھے ہوئے ہے اور خوشی کی بات ہے کہ اردو کے اتنے چاہنے والے ہیں تو یہ کمزور کیسے ہوسکتی ہے۔

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر شیخ عقیل احمد نے اپنا تعارفی اور استقبالہ خطبہ پیش کرتے ہوئے اردو کو ابتدائی سطح پر تعلیم اور رائج کرنے پر زور دیا اور کہاکہ اگر ادب عالیہ تخلیق نہ کی جائے تو اتنا نقصان نہیں ہوگا جتنا کہ اردو زبان کے سمٹنے سے۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کی ایک بات مجھے یاد آرہی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر صدیوں تک ادبِ عالیہ تخلیق نہیں ہوا تو کوئی بات نہیں لیکن اگر زبان سمٹتی گئی تو بہت بڑا خَسارہ ہوگا۔ اسی لیے ہمیں ادب عالیہ سے زیادہ زبان کی زندگی پر توجہ دینی ہے۔ آج المیہ یہ ہے کہ اردو اسکولوں سے غائب ہوتی جارہی ہے اور اگر اسکول ہیں تو اساتذہ نہیں ہیں۔ ہمارے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اردو کی بنیادی تعلیم کو کیسے مضبوط کیا جائے، پرائمری اور ثانوی سطح پر اردو کا فروغ کیسے ہو۔ کیونکہ اگر بنیادیں مضبوط نہیں ہوں گی تو کوئی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے مدارس میں اردو کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ خاص طور پر مجھے یہ کہنے میں کوئی حَرَج نہیں کہ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں مدارس کا کردار بہت اہم ہے اور یہی ادارے اردو کی بنیادوں کو مضبوط کررہے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ اردو کی تعلیم میں اِن کی خدمات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس لئے عالمی اردو کانفرنس میں ا’ردو کی تعلیم میں مدارس کا کردار‘ کے موضوع کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اردو کی ترقی کے تئیں اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے شیخ عقیل نے کہاکہ اسی مقصد کے پیش نظر قومی اردو کونسل نے ان علاقوں کو بھی اپنا مرکز نگاہ بنایا ہے جہاں اردو آبادی کم ہے لیکن وہاں فروغِ اردو کے امکانات بہت ہیں۔ گوا، منی پور، جزائر انڈمان و نکوبار اور اسی طرح نارتھ ایسٹ کے دوسرے علاقے ہیں جہاں قومی اردو کونسل نے ایک رابطہ مہم شروع کی ہے اور وہاں کے محبانِ اردو سے گُفت و شُنید کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ ان علاقوں میں بھی بنیادی سطح پر اردو کو فروغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں اردو اکادمیوں کے قیام کی کوششیں بھی جاری ہیں، ان سے بھی اردو کو یقیناًفروغ اور اردو کی بنیادی تعلیم کے نظم و نسق میں بھی مدد ملے گی۔