فارسی کے شاعر عمر خیام کو گوگل کا ڈوڈل پر خاص انداز میں خارج عقیدت

فارسی کے مشہور شاعر، ریاضی داں اور ماہر جغرافیہ وفلکیات عمر خیام کو گوگل ڈوڈل کے ذریعہ ایک خاص انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے، جن کا آج یوم پیدائش ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

عمر خیام 18مئی 1048 کو پیدا ہوئے اور ان کا پورا نام ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری ہے۔ عمر خیام کے بارے میں متعدد سوانح نگاروں نے اس کا سال پیدائش 408 ھ یا 410 ھ لکھی ہے اور سال وفات کے متعلق بھی کوئی فیصلہ کن بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے 526ھ میں وفات پائی۔ عمر خیام علم ہیت اور علم ریاضی کے بہت بڑے فاضل تھے۔ ان علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی ان کا پایا بہت بلند ہے جبکہ ان کے علم وفضل کا اعتراف اہل ایران سے بڑھ کر اہل یورپ نے کیا۔

عمر خیام نیشاپوری علوم و فنون کی تحصیل کے بعد ترکستان چلے گئے جہاں فلسفہ میں بوعلی کا ہمسر اور مذہبی علوم میں امام فن تھا۔ علوم نجوم کا تو وہ ماہر مانا گیا تھا۔ بادشاہ وقت خاص خاص تقریبات کی تاریخ مقرر کروانے کے لیے عمر خیام ہی کی طرف رجوع کرتا تھا۔

قاضی ابوطاہر نے عمرخیام کی تربیت کی اور آخر شمس الملک خاقان بخارا کے دربار میں پہنچا دیا۔ ملک شاہ سلجوقی نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر صدر خان ملک شاہی کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ یہیں فلکیاتی تحقیق کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ اور زیچ ملک شاہی لکھی۔ اپنی رباعیات کے لیے بہت مشہور ہے۔

مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ ان کی فارسی رباعیات ہیں۔ اس بلند پایہ شاعر کا علمی دنیا سے تعارف کرانے میں اہل یورپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ڑو کو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمہ کیا۔ پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اور بعض اہم مضمون میں رباعیات کا مفہوم پیش کرکے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ انہیں زندہ جاوید بنادیا۔

عمر خیام جب نجوم، ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتے تو دل اور دماغ کی تفریحی کے لیے شعر کی طرف مائل ہوتے۔ عمر خیام کی شاعری کا حاصل صرف ان کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادی، سہل اور رواں ہے، لیکن ان میں فلسفیانہ رموز ہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں۔ سب سے پہلے جو چیز عمر خیام کی رباعیوں میں ہمیں نمایاں نظر آتی ہے وہ انسانی زندگی کے آغاز وانجام پر غور وخوص ہے۔ اگر چہ انسانی زندگی مختصر ہے اور اس پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا، لیکن دریافت اور جستجو کی ایک امنگ ہے جو انسان کو قانع نہیں رہنے دیتی اور اس کی بدولت وہ اپنے آغاز و انجام کے متعلق سوچتا رہتا ہے اس کے کانوں میں رہ رہ کر یہ صدا گونجتی ہے۔

انسان کی یہ بے خبری، لاعلمی، زندگی کی رفتار اور بے چین روح اسے جستجو اور دریافت کی راہ پر لگائے رکھتی ہے۔ رباعیات کا ترجمہ دنیا کی تقریباً سب معروف زبانوں میں ہوچکا ہے۔ انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام میں لکھا ہوا ہے کہ عمر خیام ریاضی میں مہارت رکھتا تھا۔ اس نے عربی زبان میں جبرومقابلہ لکھا ہے جس کے نسخے لندن میں موجود ہیں۔ مصادرات پر جو تحقیق عمر خیام نے کی ہے اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔ دنیائے عرب میں پہلی مرتبہ خیام کی شہرت اس کی ریاضی دانی ہی کی مطلوب ہوئی۔ سید سلمان ندوی نے عمر خیام اور ان کے سوانح حیات پر نا قدانہ نظر میں عمر خیام کی ذیل کی کتابوں کا ذکر کیا ہے۔