اردو کے معروف شاعر گلزار دہلوی کا کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد انتقال

اردو کے بزرگ شاعر گلزار دہلوی (آنند موہن زتشی) کا کووڈ-19 سے صحتیاب ہونے کے پانچ دن بعد جمعہ کی دوپہر کو انتقال ہو گیا۔ گلزار دہلوی اگلے مہینے 94 سال کے ہونے جا رہے تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اردو کے بزرگ شاعر گلزار دہلوی (آنند موہن زتشی) کا کووڈ-19 سے صحتیاب ہونے کے پانچ دن بعد جمعہ کی دوپہر کو انتقال ہو گیا۔ گلزار دہلوی اگلے مہینے 94 سال کے ہونے جا رہے تھے اور انہوں نے نوئیڈا میں واقع اپنی رہائش پر آخری سانس لی۔

گلزار دہلوی کے فرزند انوپ زتشی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ’’ان کی کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ 7 جون کو منفی آئی تھی جس کے بعد ہم انہیں گھر لے آئے تھے۔ آج انہوں نے دوپہر کا کھانا لیا اور تقریباً 2.30 بجے ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘

انوپ زتشی نے مزید کہا کہ وہ کافی ضعیف ہو گئے تھے اور کورونا کے انفیکشن نے انہیں کافی کمزور کر دیا تھا۔ لہذا ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر انہیں دورہ قلب پڑا ہوگا۔ واضح رہے کہ مجاہد آزادی اور نامور انقلابی شاعر گلزار دہلوی کو یکم جون کو کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آنے کے بعد ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

گلزار دہلوی کی پیدائش پرانی دہلی کی گلی کشمیریان میں 1926 کو ہوئی تھی اور وہ 1975 میں حکومت ہند کی جانب سے شائع ہونے والی سائنس کی واحد اردو کتاب ’سائنس کی دنیا‘ کے ایڈیٹر بھی تھے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجہ میں ملک بھر میں اردو اسکول قائم ہوئے۔

گلزار دہلوی میں سنہ 1930 کے دور میں جنگ آزادی کی تحریک میں اس وقت شامل ہوئے تھے جب وہ اسکولی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں شاعری میں خوب نام کمایا۔ گلزار دہلوی گزشتہ سال تک مشاعرہ پڑھتے ہوئے نظر آئے تھے اور آخری وقت میں بھی انہوں نے ڈائس پر موجود رہتے ہوئے خوب داد بٹوری تھی۔