’اردو غیر ملکی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی شان ہے‘

قومی کونسل کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اگر پنجاب کی سرزمین سے اردو کو غیر ملکی زبان کہنے کی بات کی جاتی ہے تو یہ نہ صرف پنجاب کی توہین ہے بلکہ وہاں کی مشترکہ لسانی و تہذیبی وراثت پر بھی حملہ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی، یہیں اس کا ارتقاء ہوا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اردو کی جائے پیدائش پنجاب ہے اور پنجاب نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر پنجاب کی سرزمین سے اردو کو غیر ملکی زبان کہنے کی بات کی جاتی ہے تو یہ نہ صرف پنجاب کی توہین ہے بلکہ وہاں کی مشترکہ لسانی و تہذیبی وراثت پر بھی حملہ ہے۔ اس لیے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اردو کو غیر ملکی زبانوں کے زمرے میں شامل کرنے کا فیصلہ بالکل غلط ہے۔ یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہیں۔

انھوں نے کہا کہ اردو کسی مذہب کی زبان نہیں رہی بلکہ اردو نے تمام مذاہب کو اپنے سینے سے لگایا ہے۔ رامائن، مہابھارت، گروگرنتھ صاحب، جپ جی صاحب اور بائبل کے درجنوں ترجمے اردو میں موجود ہیں۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ قومی اردو کونسل کے چیئر پرسن اور مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک نے 16ستمبر کو ایک میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ اردو ہندوستان کی بیٹی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی خوشبو دنیا بھر میں پھیلے۔

قومی کونسل کے ڈائریکٹر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو غیرملکی زبان نہیں بلکہ ہمارے ملک کی شان ہے، اسی لیے 18 مارچ 2019 کو قومی اردو کونسل کی عالمی اردو کانفرنس کے مہمان خصوصی اور آر ایس ایس کے نظریہ ساز اندریش کمار جی نے بھی کہا تھا کہ کون کہتا ہے کہ اردو کا اپنا گھر نہیں ہے۔ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور اس زبان کا ارتقاء ہندوستان میں ہوا اور یہ زبان آگے بھی ترقی کرتی رہے گی۔

ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے کے خلاف مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل حکومت ہند ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک جی سے درخواست کرے گی کہ ہندوستان کی بیٹی ’اردو‘ کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کریں۔

Published: 1 Oct 2019, 9:10 PM