اردو میں بین الاقوامی رابطہ کی زبان بننے کی صلاحیت: ڈاکٹر عقیل احمد

ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ وزیر فروغ انسانی وسائل اردو کو ہندوستان کی بیٹی قرار دیتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ عرب شہریوں کو بلا کر انہیں اردو سکھائی جائے تاکہ وہ یہاں کی ثقافت سے واقفیت حاصل کرسکیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: متحدہ عرب امارات کی عدالت میں کارروائی جو اب تک عربی میں چلائی جاتی تھی اب اسے اردو میں بھی چلانے کی اجازت مل چکی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُردو میں بین الاقوامی رابطہ کی زبان بننے کی صلاحیت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عقیل احمد، ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل)، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اردو مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی) آڈیٹوریم میں دینی مدارس کے اساتذہ کے اورینٹیشن پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ”تعلیم ایک فن“ کے موضوع پر 7 روزہ پروگرام این سی پی یو ایل کے اشتراک سے منعقد کیا جارہا ہے جو 25 نومبر تک جاری رہے گا۔

پروفیسر فاطمہ بیگم وائس چانسلر انچارج نے صدارت کی۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار مہمانِ اعزازی تھے۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ وزیر فروغ انسانی وسائل اردو کو ہندوستان کی بیٹی قرار دیتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ عرب شہریوں کو ہندوستان بلاکر انہیں اردو سکھائی جائے تاکہ وہ یہاں کی ثقافت سے واقفیت حاصل کریں اور ان سے بین الاقوامی رشتے استوار ہوں۔ انہوں نے کورس میں شرکت کر رہے اساتذہ سے کہا کہ وہ یہاں سے اردو کے سفیر بن کر جائیں اور اردو کی ترقی و ترویج میں جو بھی کر سکتے ہیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے فائدہ ہوتا ہے لیکن ٹیکنالوجی طلبہ کی اخلاقی تربیت نہیں کرسکتی جو اساتذہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ تدریس کے دوران ”باڈی لینگویج“ (لسان البدن) پر بھی توجہ دیں جس سے طلبہ میں دلچسپی برقرار رکھی جاسکے۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے مدارس میں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے باعث ہی اردو پھل پھول رہی ہے ورنہ اسکولوں اور کالجوں میں اس کی حالت انتہائی خراب ہے۔ پروفیسر فاطمہ بیگم، نے صدارتی تقریر میں کہا کہ تدریس فن ہی نہیں سائنس بھی ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کی شخصیت کا مکمل فروغ ہے، جس میں جسمانی، روحانی، سماجی، معاشرتی، معاشی سبھی طرح کی ترقی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تدریس اس وقت مکمل ہوتی جب جماعت کے 90 فیصد طلبہ جو کچھ پڑھایا جائے اس میں سے 90 فیصد سمجھ لیں۔

انہوں نے تدریس کے مختلف طریقوں کا ذکر کیا۔ طلبہ کے جداگانہ پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی تربیت ہونی چاہیے۔ سزا کے بجائے ترغیب کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار انچارج نے قرآن اور حدیث کے حوالوں سے تعلیم کی اہمیت و افادیت بتلائی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں رات اور دن، بچوں کی پیدائش پر غور کرنے کا حکم ہے اور حیوانیات، نباتیات اور علم فلکیات کی تعلیم کے ذریعہ انہیں بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ ان علوم کی تعلیم گویا قرآن کے حکم کی تعمیل ہے۔ تعلیم کو دنیوی و دینی زمروں میں بانٹنا غلط ہے۔ ہاں اختصاص کے لیے کسی موضوع کو منتخب کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے دینی مدارس میں عصری علوم کو نصاب میں شامل کرنے کی حمایت کی۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، کنوینر پروگرام نے اغراض و مقاصد بیان کیے اور بتایا کہ موضوع کے تحت تدریس کے فن کی باریکیوں کو اساتذہ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ تدریس کا فن یہی ہے کہ کوئی استاد اپنے شاگردوں کو کس طرح متاثر کرتے ہوئے اکتساب کی طرف راغب کرے اور جو سمجھانا چاہتا ہے پوری طرح انہیں سمجھا دے۔ انہوں نے اس موقع پر سی پی ڈی یو ایم ٹی کے اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا۔ پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائرکٹر سی پی ڈی یو ایم ٹی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کا تربیتی پروگرام تقدیس و تجدید کے نظریہ کے تحت منعقد کیا جارہا ہے۔ جناب مصباح الانظر، اسسٹنٹ پروفیسر، مرکز نے کارروائی چلائی اور ڈاکٹر محمد اکبر، کو آرڈینیٹر پروگرام نے شکریہ ادا کیا۔ جناب عاطف عمران، اسلامک اسٹڈیز کی قرأت کلام پاک و ترجمہ سے جلسے کا آغاز ہوا۔