ادبیات

گُوگل کا ڈوڈل کے ذریعہ عصمت چغتائی کو خراج عقیدت

عصمت چغتائی کو 1976 میں پدم بھوشن سے نوازا گیا، ان کی پرورش جودھپور میں ہوئی، جہاں ان کے والد مرزا قسیم بیگ سول ملازم تھے۔

تصویر گوگل

یو این آئی

ممبئی : اردو کی معروف آہنی مصنفہ عصمت چغتائی کو آج ان کے 107ویں یوم پیدائش پر گُوگل نے اپنے ڈوڈل پر بہترین انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ عصمت چغتائی ملک کی تقسیم کے دوران ترقی پسند مصنفوں، ادباء اورشعراء کی صف میں شامل رہیں، جس میں فیض احمد فیض،سجاد ظہیر اور سعادت حسن منٹو کھڑے تھے۔عصمت چغتائی نے اپنی تحریر کے ذریعہ سعادت حسن منٹو کی طرح معاشرے کی برائیوں اور خرابیوں کو اجاگر کیا اور دبے کچلے طبقوں کی آواز اٹھائی ۔

اترپردیش کے شہر بدایوں میں 21اگست 1915 کو پیدا ہوئیں اور ممبئی میں 76 سال کی عمر میں 24 اکتوبر 1991 کو انتقال ہوا تھا۔عصمت چغتائی کو 1976 میں پدم بھوشن سے نوازا گیا،ان کی پرورش جودھپور میں ہوئی، جہاں ان کے والد مرزا قسیم بیگ سول ملازم تھے۔

کئی ایسے معاملات پر انہوں نے قلم اٹھا یا جنہیں ہندوستانی معاشرے اور مسلمانوں میں برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔عصمت چغتائی نے راشدہ جہاں، واجدہ تبسم اور قرۃ العین حیدر کی طرح اپنی افسانہ نگاری، خاکہ نگاری اورناول نگاری سے تہلکہ مچا دیا۔ وہ لکھنؤ میں پروگریسو موومنٹ سے بھی وابستہ رہیں۔پدم بھوشن کے ساتھ ساتھ انہیں 1984 میں غالب ایوارڈ اورفلم گرم ہوا کی کہانی کے لیے فلم فیئر ایوارڈ بہترین کہانی کے لیے دیا گیا۔

ضدی یہ فلم 1948 میں عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔ 1950 میں آرزو فلم کے انھوں نے ڈائیلاگ بھی لکھے اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔ 1958 ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔1974 ء میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام گرم ہوا تھا جو عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے ڈائیلاگ اور اسکرین پلےکیفی اعظمی اور شمع زیدی نے تحریر کیے تھے۔ اس کے علاوہ عصمت چغتائی نے فلم جنون اور فلم محفل کے بھی ڈائیلاگ تحریرکئے۔