عالمی کتاب میلہ: بچوں کے لئے خصوصی پویلین، نونہالوں کے ساتھ والدین کی بھی پہلی پسند

خصوصی پویلین میں بچوں کے دماغ کی نشو نما ظاہر کرنے والی اشیاء بچوں کی توجہ کا مرکز، والدین کے اندر بچوں کے دماغی نشونما کے لیے اشیاء خرید نے کا اشتیاق۔

محمد تسلیم

نئی دہلی: دہلی کے پرگتی میدان میں ہر سال منعقد ہونے والے عالمی کتاب میلے کے 27 ویں مرحلے کا آغاز گزشتہ روز ہو چکا ہے۔ میلے میں جہاں ایک جانب کتابوں کے اسٹال پرلوگوں کو اپنی پسند کی کتابیں خرید تے ہوئے دیکھا جا رہا ہے تو وہیں دوسری جانب بچوں کے پویلین پر بچوں اور ان کے والدین کا سیلاب دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بچوں کے پویلین کی اگر بات کریں تو یہاں ایک جانب بچوں کے لئے مختلف علم و فنون سے وابستہ کتابیں موجو د ہیں تو وہیں دوسری جانب بچوں کی ذہنی نشونما کے لیے مختلف اسٹال کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں بچوں کو خود اعتماد بنانے، بچوں کے اندر بولنے کا جذبہ پیدا کرنے اور ذہنی نشو نما کی قوت کو فروغ دینے کے لیے گرولیئر ان ہوم ایکسپرٹ اسٹال والدین کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ اس اسٹال کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں گرولیئر نے بچوں کے لیے کھیل کی ایسی اشیاء تیار کی ہیں جس سے کھیل کھیل میں بچوں کے ذہنی نشو نما بھی ہو سکے، اس اسٹال پر ایسے رضا کار موجود ہیں جو بچوں کے ذہنی نشونما کے لئے والدین کو مشورے اور تجاویز بھی دے رہے ہیں۔

قومی آواز کے نمائندہ نے جب وہاں موجود رضاکار سنجیو دیو سے بات کی تو انہوں نے اسٹال پرملنے والی اشیاء کی اہمیت و افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ عام طور پر بچوں کا دماغ کھیل کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے اسی لیے گروفیئر نے بچوں کے لیے ایسی اشیاء تیار کی ہیں جس سے وہ کھیل کھیل میں ذہن سازی بھی کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسٹال پر ایسی اشیاء بھی دستیاب ہیں جو بچوں کو خود اعتمادی اور بولنے کا جذبہ پیدا کرتیں ہیں۔

سنجیو نے بتایا کہ ہمارے اسٹال پر وہ والدین بڑی گرم جوشی کے ساتھ آرہے ہیں جن کے بچوں کا دماغ زیادہ کھیل کود کی طرف راغب ہوتا ہے، کیونکہ والدین کی اوّل فکر یہی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ تعلیم یافتہ بنے اوربچوں کے سیکھنے کی عمر یہی ہوتی ہے۔ اس تعلق سے اپنے بچے کے ساتھ آئے والدین راکیش اور پوجا نے قومی آواز کے نمائندہ کو بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو میرے والد صاحب رات کے کھانے کے بعد ایک کہانی ضرور سنایا کرتے تھے ان کہانیوں میں کچھ نہ کچھ پیغام ہوتا تھا جس سے ہمیں ہمیشہ یہ درس ملتا تھا کہ اچھی چیز اور بری چیز کیا ہے، لیکن آج انٹرنیٹ کے دور میں وہ یہ سب چیزیں کہیں کھو سی گئی ہیں۔ موجودہ دور میں جو وقت کہانیوں کا ہوا کرتا تھا آج اس کی جگہ موبائل نے لی ہے۔ لیکن دونوں نے سال نو پر اپنے بچے کے لیے یہ عزم کیا تھا کہ اپنے بچے کے لیے کہانی کی کتابیں خریدیں گے اور روزانہ رات کوایک کہانی سنائیں گے، کبھی کبھی ان سے پڑھوائیں گے جس سے ان کے اندر پڑھنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہاں ہر والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ ضرور آنا چاہیے۔ اسی طرح کتابی میلے نہ صرف دہلی بلکہ چھوٹے شہروں میں بھی ہونے چاہیے۔

تمام تصاویر قومی آواز / محمد تسلیم