رام نومی کے موقع پر مرنال پانڈے کا خصوصی مضمون

چیت میں کٹائی کے بعد آرام کی خواہش بھی حاوی رہتی ہے، اسی وجہ سے اس مہینہ میں گائے جانے والے تمام لوک گیتوں میں بے ساختہ جوش و خروش اور خوشی کا احساس رہتا ہے، ’چیت ماس آیو اُت پتیا ہو راما!‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مرنال پانڈے

چیت کا مہینہ سردی اور گرمی کے ملن کا وقت ہے۔ ہمارا معاشرہ موسیقی سے محبت کرنے والا معاشرہ ہے۔ پھاگنی پورنیما پر ہڑدنگی ہولی اختتام پزیر ہوتی ہے اور چیتی (چیت میں گائے جانے والے لوک گیت) کی صدائیں چوپالوں اور گلیوں میں گونجنے لگتی ہے۔ دیہاتوں میں آج بھی تمام برادریوں کی طرف سے گائے جانے والے لوک گیتوں میں پھاگ اور چیتی عاشق اور معشوق کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

لوک کہانیوں کے مطابق اسی مہینے (چیت) کی نومی (نو تاریخ) کو رام کا جنم ہوا تھا، اس لئے ’لوک گیتوں‘ میں چیتی گانوں کی ٹیک ہمیشہ ہوتی ہے، ہو راما! ہو مورے راما ہو! یہ وہ مہینہ ہے جب فصلوں کی کٹائی کے لئے دور دراز جا بسے مہاجر مزدور بھی گھر واپس آ جاتے ہیں، لہذا یہ مہینہ جدائی کے بعد محبوبہ اور محبوب کے وصال کا بھی مہینہ ہے اور دھانی رنگ، چُنری، سترنگی چوڑیاں مولا کر پہننے کا بھی۔ اسی وجہ سے ’چیتی گائیکی‘ میں خواتین کی آواز زیادہ بیباک ہوتی ہے۔

’چیت ماسے چُنری رنگا دے ہو سائیاں، لالی رے لالی،

چنری رنگا کے انگیا سلا دے

بیچ بیچ گھونگرو لگا دے ہو راما

لالی رے لالی۔‘

اس مہینہ میں کسانوں کے گھروں میں نئی فصل کے آ جانے سے اور گوداموں کے بھر جانے سے ہر طرف خوشیاں بکھر جاتی ہیں اور ہر کوئی لطف اندوز رہتا ہے۔ کٹائی کے بعد آرام کی خواہش بھی حاوی رہتی ہے، اسی وجہ سے چیت میں گائے جانے والے تمام لوک گیتوں میں بے ساختہ جوش و خروش اور خوشی کا احساس رہتا ہے، ’چیت ماس آیو اُت پتیا ہو راما!‘

’چڑھت چیت چِت چنچل ہو راما..‘

یا

’چڑھت چیت چِت لگے نہ مورا،

بابا کے بھون واں..‘

پٹنہ سے تعلق رکھنے والے سید علی محمد شاد صاحب نے 1846 میں جب ’فکرِ بلیغ‘ نام سے لوک گیتوں کے پہلے مجموعے کی اشاعت کرائی، تو اس میں ایک چیتی بھی شامل تھی:

کاہے ائیسن ہرجائی ہو راما، تورے جُلمی نینا ترسائی ہو راما!

افسوس کی بات ہے کہ اس سال وبائی مرض نے نوراتری کی تقریبات، میلے ٹھیلوں سے سب کو دور رکھا ہے، لہذا اس وقت یوٹیوب سے ہی سہی چیت کے مہینے کی خوشیوں کو یاد کر کے چیتیوں کو سنتے ہوئے اس چھوٹی لوک نظم اور اس کی زبانی روایت سے ایک حد تک چھرتے نیم اور اڑتے پتوں کے درمیان بھٹکتے دل کی اداسی ایک حد تک مٹائی جا سکتی ہے۔

Published: 2 Apr 2020, 7:40 PM