ادبیات

سوشل میڈیا کی لڑکیوں کا ہے ایک الگ جہاں

فیس بک،واٹس اپ، انسٹا گرام اور دیگرسوشل میڈیا نے کچھ خواتین کو گھر بیٹھےشاعرہ بنا دیا ہے۔ان کی پوسٹ پڑھنےلائق ہوتی ہے۔ ایک محترمہ نےشعرلکھا؎

تصویر سوشل میڈیا

ڈاکٹر مہتاب امروہوی

’’کاش میں آسمان بن جاؤں ...

اور کاش تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ہوئے فوراً چلے آؤ‘‘

نیچے واہ واہ کی لائن لگ گئی۔ ایک صاحب نے فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر لکھا "بانو قدسیہ کے بعد آپ ہی عظیم شاعرہ ہیں"۔ ایک اور فین کا تبصرہ تھا "سویٹ آپی! آپ کے اشعار بھی آپ ہی کی طرح خوبصورت ہیں اور اِن میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ہے"۔

خاتون نے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سب نقادوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ ہولناک خوشخبری سنائی کہ اب وہ ہر ہفتے ایک غزل لکھا کریں گی۔ آج کل نہ صرف وہ باقاعدگی سے غزلیں لکھ رہی ہیں بلکہ گزشتہ دنوں موصوفہ نے اپنے چاہنے والوں سے کئی سوال بھی پوچھ لئے ۔ شاعری کی کتاب چھپوانے کے لیے کون سا پبلشر بہتر رہے گا؟ اور رائلٹی کون سب سے زیادہ دے گا؟کس کاغذ پر کتاب چھاپی جائے ؟اور ملک کے کن بک سیلرس کو اس کی ذمہ داری سونپی جائے ؟وغیرہ وغیرہ جواب میں ڈیڑھ دو سو عاشقان ادب نے مختلف پرنٹنگ پریس کے نام، کاغذ کے رنگ بک سیلرس کے نام و پتے اور موبائل نمبر تک لکھ بھیجے...!

فیس بک کی ایسی لڑکیاں اپنے اسٹیٹس کو بھی ا سٹیٹس سمبل سمجھتی ہیں تاہم اگر ان کے پانچ ہزار فرینڈز ہوں تو سب کو اِن باکس میں ایک یاد دہانی ضرور کراتی ہیں کہ پلیز میرا پیج ضرور لائیک کیجئے۔ اِنہیں اپنی لوکیشن شیئر کرنے کا بھی جنون ہوتا ہے۔ آئے دن فیس بک پر کرنٹ لوکیشن شیئر کرتی ہیں جس سے دیکھنے والے مزید متاثر ہوتے ہیں کہ کوئی کھاتی پیتی گھرانے کی لڑکی ہےجو روز کسی نہ کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں پہنچی ہوتی ہے۔ حالانکہ اکثر یہ لڑکیاں ریسٹورنٹ کے اندر نہیں بلکہ باہر کھڑی چنگ چی کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں یا ریسٹورنٹ کے ساتھ والی گلی میں پیکو کرانے گئی ہوتی ہیں۔

فیس بک کی یہ لڑکیاں بہت متحرک ہوتی ہیں کیوں کہ عموماً ان کا تمام تر بائیوڈیٹا نقلی ہوتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی جنونی ہوتی ہیں، دن و رات ان کا میسنجرہی ایکٹیو رہتا ہے۔ ان میں سے کئی لڑکیوں نے تہیہ کیا ہوتا ہے کہ خاوند لے کے ہی اٹھنا ہے۔ ان کے پاس ا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اور کچھ نہ ہو تو کسی دور کے رشتہ دار کے بارے میں لکھ دیتی ہیں، میرے خالو کے ماموں پھر وفات پا گئے ہیں۔ پلیز ان کے لیے ایک دفعہ فاتحہ پڑھ دیجئے... اور اسٹیٹس کے انتظار میں ہلکان ہونے والے پوری عبارت پر غور کیے بغیر جھٹ سے اناللہ ...سے شروع ہو کر حوصلے کی تلقین کرنے میں مگن ہو جاتے ہیں۔

اِن لڑکیوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کس بات پہ ٹولیاں بھاگتی ہوئی آئیں گی، لہٰذا یہ کبھی کبھار الجھا ہوا سٹیٹس بھی اپ ڈیٹ کر دیتی ہیں مثلاً "بریک اپ" اب اس لفظ میں ایک ہزار معانی پوشیدہ ہوتے ہیں لہٰذا لگ بھگ ایک ہزار ہی کمنٹس آجاتے ہیں، جن میں زیادہ تر تسلی دیتے نظرآتے ہیں کہ دُکھ کی ان اتھاہ گہرائیوں میں وہ اپنی آپی کےساتھ ہیں ایسی لڑکیاں عموماً صرف مردوں میں ہی پاپولر ہوتی ہیں ورنہ حرام ہے جو ان کی فرینڈ لسٹ میں کوئی تصویر والی لڑکی بھی نظر آئے، بظاہر یہ بہت دین دار بنتی ہیں، اقوال زریں لگاتی ہیں، اچھی اچھی باتیں کرتی ہیں، انہیں ہر روز اپنی وال پر گڈ مارننگ اور گڈ نائٹ کا ڈیزائن لگانے کا بھی شوق ہوتا ہے، عموماً ایسی لڑکیاں کو گوگل سے اداس لڑکیوں اور تتلیوں کی تصویریں کاپی کرکے پھیلانا صدقہ جاریہ سمجھتی ہیں۔ یہ اکثر اپنے مہندی لگے چوڑیوں والے ہاتھ کی تصویر بھی لگاتی ہیں حالانکہ تصویر کی ریزولیوشن بتا رہی ہوتی ہے کہ یہ کسی نہایت اچھے کیمرے سے کھینچی گئی ہے جو بہرحال ساڑھے تین ہزار والے موبائل کا نہیں ہو سکتا۔ یہ جو بھی اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتی ہیں اس میں اُردو کی ایسی ایسی شاندار غلطیاں ہوتی ہیں جس سے فوراً ہی ان کی لیاقت ظاہر ہو جاتی ہے۔

ایک بی بی نے لکھا "یہ شعر آج بھی میری ڈائری میں لکھا ہوا ہے کہ

’’بیچھڑا کچھ اس ادہ سے کے رُتھ ہی بدل گئی

ایک شاخص سارے شہر کو ویرآن کر گیا‘‘

نیچے کسی دل جلے نے لکھ دیا، اچھا ہی ہوا کہ بچھڑ گیا ورنہ اس نے آپ کی اردو پڑھ کے خودکشی کر لینی تھی۔ فوراً آپی کے ایک ہمدرد نے غصے سے لکھا ’’سوئیٹ آپی حکم کریں تو اس گستاخ کو مزا چکھا دوں؟‘‘... آپی نے متانت کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً لکھا ’’ نہیں پیارے بھائی! ایسے ان پڑھ اور جاہلوں کے منہ لگنا مناسب نہیں ہے۔