’بلونت سنگھ کی کہانیوں میں زمینی حقیقت پوری شدت کے ساتھ نظر آتی ہے‘

بلونت سنگھ اردو اور ہندی کا ایک بہت اہم نام ہے اوربلونت سنگھ کو بہت طویل عرصے کے بعد کسی نے یاد کیا ہے۔

فائل تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
فائل تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بلونت سنگھ اردو افسانے کی ایک شناخت ہیں اور ان کے ذکر کے بغیر اردو افسانے کی تاریخ مکمل نہیں کہی جاسکتی ہے۔یہ بات جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر شہزاد انجم نے قومی اردو کونسل کے مالی تعاون سے یوتھ پاٹھ شالہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بلونت سنگھ کے صد سالہ یوم پیدائش پر ”بلونت سنگھ کی ادبی خدمات‘ پریک روزہ قومی سیمینارمیں کہی۔

انہوں نے کہاکہ بلونت سنگھ پر سیمینار آج کی ضرورت ہے اور ایسے ادیبوں کی وجہ سے ہمارا ادب مقبول رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ایک کتاب غیرمسلم شعرا و ادبا پر تحریر کی ہے اس میں بھی بلونت سنگھ کا خصوصی تذکرہ ہے۔


سمینار کے مہمان خصوصی اوراردودنیا کے مایہ ناز ادیب اور جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے استاد پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ بلونت سنگھ کی کہانیوں میں زمینی حقیقتیں پوری شدت کے ساتھ نظرآتی ہیں۔ بلونت سنگھ نے اپنی کہانیوں میں پنجاب کی تہذیب و ثقافت کی بہترین عکاسی کی ہے۔سمینار میں کلیدی خطبہ معروف افسانہ نگار اور ناقد ڈاکٹر ذاکر فیضی نے پیش کیا۔انھوں نے بلونت سنگھ کی پوری زندگی کا محاکمہ کیا اور بلونت سنگھ کی کہانیوں کا تجزیہ پیش کیا۔

سیمینار میں بطور مہمان اعزازی مسلم ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر اور اے اینڈ ایس فارمیسی کے مینیجنگ ڈائرکٹر حکیم عطاء الرحمان اجملی نے اردو زبان کے فروغ سے متعلق اپنی کوششوں اور تجربوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں سمیناروں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر اردو کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دفتروں، بینکوں اور دوکانوں میں آج اردو کوعام کرنے کے لیے ہمیں مہم چھیڑنی ہوگی تب ہی اردو کا صحیح معنوں میں فروغ ہوگا۔


پروفیسر ابن کنول، سابق صدر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی نے تکنیکی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مقالے بہت محنت سے لکھے گئے تھے اور بلونت سنگھ کو بہت طویل عرصے کے بعد کسی نے یاد کیا ہے۔بلونت سنگھ اردو اور ہندی کا ایک بہت اہم نام ہے۔بلونت کی کہانیوں اور ناولوں میں ان کے زمانے کا ہندوستان نظر آجاتا ہے۔ بلونت کو بیانیے پر بے مثال قدرت حاصل تھی۔بلونت کو اردو والوں نے ہی زندہ رکھا ہے۔ان پرمختلف یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو میں تحقیق کی جارہی ہے۔

سیمینار میں معروف شاعر اور ناقد ڈاکٹر ذکی طارق، ڈاکٹر حنا آفرین،ڈاکٹر خان محمدرضوان، ٹی ایم ضیاء ڈاکٹر عبدالحی،ڈاکٹر مظہر حسنین،ڈاکٹر فرغانہ، عائشہ پروین،ڈاکٹر مسرت،ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی،مزمل شیلی،شہلا پروین اور عبدالباری قاسمی نے اپنے پرمغز مقالے پیش کیے۔سمینار کی نظامت اپنے مخصوص انداز میں ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دی جبکہ کلمات تشکر زبیر خاں سعیدی نے ادا کیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Mar 2022, 6:40 AM