غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی غالب سمینار

ہندوستان میں غزل تقریباً ختم ہوگئی ہے، جسے دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہےجبکہ ہندوستان کے برعکس پاکستان کی صورت حال بہت بہتر ہے۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے زیراہتمام ” معاصر اردو ادب میں نئے تخلیقی رویے“ کے عنوان سے منعقدہ غالب سمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کی۔ پروفیسر خالد جاوید نے ’عتیق اللہ نے وجود کی متبادل جمالیات کا شاعر‘ کے عنوان پرمغز مقالہ پیش کیا۔جبکہ پروفیسر فاروق بخشی نے ”اکیسویں صدی میں اردو غزل رجحانات اور امتیازات“ ، ڈاکٹر نریش نے ”عصری اردو ادب:ایک مطالعہ“ اور ڈاکٹرعمیر منظر نے” جدید غزل کے تخلیقی رویوں کا تنوع“ کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔

پروفیسر محمد زماں آزردہ نے اپنے صدارتی خطبے میں سبھی مقالات پر بات کی ، انھوں نے کہاکہ شاعری سے فلسفہ پھوٹے تو اچھا لگتا ہے اور جب فلسفے کو شاعری بنانے کی کوشش کی جائے تو عجیب معلوم ہوتا ہے۔پروفیسر آزردہ نے تنقید میں تعلقات کے عمل دخل پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوستیاں ادب اور تنقید میں اہم ہیں، لیکن تنقید نگار کا اہم فریضہ ہے کہ وہ تخلیق کاروں کے ذہن میں جائے اور غیر جانب داری کے ساتھ اپنی بات رکھے۔


دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خالد علوی نے کی جب کہ پروفیسر قدوس جاویدنے ”اکیسویں صدی میں اردو غزل کے تنقیدی رویے“، پروفیسر شہناز نبی نے ”اردو ہندی نظموں کا تقابلی جائزہ“ اور ڈاکٹر معید رشیدی نے ”جدید عصری اردو ادب “ کے عنوان پر اپنے مقالات پیش کیے۔سیشن کے اختتام پر ڈاکٹر خالد علوی نے اپنے صدارتی خطبے میں فرداً فرداً سبھی مقالے پر روشنی ڈالتے ہوئے مقالات پر سیر حاصل گفتگو کی۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں غزل تقریباً ختم ہوگئی ہے، جسے دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہے۔ یہاں کے برعکس پاکستان کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ غزل کی صورت حال بہت افسوسناک ہے اور ایک خراب صورت حال کی صنف پر مقالہ نگاروں نے اچھے مقالے پیش کیے ہیں۔ آج کے تیسرے سیشن کی صدارت پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے کی۔


پروفیسر قاضی جمال حسین نے ”معاصر غزل“،پروفیسر سراج اجملی نے”شاعری کا بالکل نیا اور منفرد انداز“، پروفیسر احمد محفوظ نے”کلاسیکی غزل کی تفہیم کا معاصر رویہ “ ، اور پروفیسر انیس اشفاق نے اپنے مقالے پیش کیے۔اجلاس کے اختتام پر پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے مقالات پر گفتگو کی۔ آج کے آخری اجلاس کی صدارت پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کی ۔پروفیسر طارق چھتاری نے” ؒخالد جاوید کے ناول نعمت خانہ کا جائزہ“ پر مقالہ پیش کیا۔خورشید اکرم نے” اشعر نجمی کے ناول اس نے کہا تھا“ ،اور اشعر نجمی نے”ناول کا نیا منظرنامہ“پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹرڈاکٹر سید رضا حیدر کو یاد کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

پروگرام کے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس اہم موضوع کے تحت ادب کی مختلف اصناف پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ وقت کی قلت کے سبب مقالات پورے پیش نہیں کیے گئے ،لیکن یہ سبھی مقالات شائع کیے جائیں گے، جس سے استفادہ کیا جاسکے گا۔


انھوں نے مزید بتایا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ میں بک ایگزیبیشن بھی لگائی گئی ہے جس کا دہلی کے سابق گورنر نجیب جنگ سمیت اہم شخصیات نے معائنہ کیا ہے۔غالب سمینار کے بعد شام میں عالمی مشاعرے کا بھی انعقاد عمل میں آیا،جس کی صدارت ڈاکٹر نریش نے کی اورروزنامہ انقلاب کے گروپ ایڈیٹر ودود ساجد اور روزنامہ راشٹریہ سہارا کے مدیر عبدالماجد نظامی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

شعراءکرام پروفیسر وسیم بریلوی، ڈاکٹر نواز دیوبندی، ڈاکٹر نریش، منظربھوپالی، پروفیسر شہپر رسول، شین کاف نظام، پروفیسر شہناز نبی، پاپولر میرٹھی، فرحت احساس، چندر بھان خیال، اظہر عنایتی، شکیل اعظمی، اقبال اشہر، فاروق جائسی، ڈاکٹر ظفر مراد آبادی، متین امروہوی، پروفیسر فاروق بخشی، پروفیسر عرفان عارف، ڈاکٹر نصرت مہدی، افضل منگلوری، معین شاداب، صہیب احمد فاروقی، سلیم امروہوی، پروفیسر ناشر نقوی، شمس تبریزی، راشد جمال فاروقی اورآشکارہ خانم کشف نے اپنے کلام پیش کیے اور سامعین کو مسحور کیا۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔