ثنا فاطمہ کے انگریزی ناول ’گرے ٹاور‘ کا جے این یو میں رسم اجرا

ممتاز وکیل خلیل الرحمن نے اس ناول پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے اس ناول کے وجود میں آنے کی کہانی بیان کی اور تخلیق کار ثنا فاطمہ کی تعلیمی، تخلیقی اور فکری صلاحیت کو سامعین کے سامنے پیش کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: ثنا فاطمہ کی کتاب’’ Grey Tower‘‘ کی جے این یو کیفے ٹیریا میں رسم رونمائی عمل میں آئی۔’ گرے ٹاور‘ انگلش زبان میں تخلیق کیا گیا تقریباً سو پیج کا ناول ہے جس میں بچوں کی نفسیات، عادات اور ان کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ ادب اطفال کا مواد اردو میں بہت کم ہے مگر انگریزی زبان میں اس پر مواد وافر مقدار میں موجود ہے۔ مگر اس کے باوجود ثنا فاطمہ کا یہ ناولٹ انگریزی کے ادب اطفال میں بہت اہم اضافہ ہے۔ اکیسویں صدی کے بچے متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔ نفسیاتی دباؤ کا ماحول ہے، اس نفسیاتی دباؤ میں ثنا فاطمہ کا یہ ناولٹ اہمیت کا حامل ہے جس میں بچوں کے متعدد مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ثنا فاطمہ دہلی یونیورسٹی میں گریجویشن کی طالبہ ہیں اور اردو کے ممتاز دانشور اور استاذ پروفیسر خواجہ اکرام صاحب کی بیٹی ہیں۔

پروفیسر سید اختر حسین کی تقریر سے گفتگو کا آغاز ہوا۔ انھوں نے اس کتاب کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اور ثنا فاطمہ کو مبارکباد پیش کی۔ کناڈا سے تشریف لائے جناب حضرت روزن نے کہا کہ دری، فارسی، پشتو اور ازبک زبانوں میں اس اہم ناولٹ کا ترجمہ کرانے کی کوشش کی جائے گی، جس سے مذکورہ زبانوں کے قارئین اس تخلیق سے استفادہ کر سکیں گے۔ ساتھ ہی اس ناولٹ کا ذیشان مصطفی اردو میں اور ذکریا صاحب عربی میں ترجمہ کریں گے۔ جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر کے لوبیال نے کہا کہ اس ماحول میں جب تخلیقی صلاحیت کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ثنا فاطمہ نے ’گرے ٹاور‘ تخلیق کر کے بہت ہی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے۔

ڈاکٹر خالد علوی ذاکر حسین کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی نے اس تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک بچی نے ادب اطفال پر کمال کا کام کیا ہے۔ ثنا کی شعری تخلیقات کئی بار دیکھنے کو ملی لیکن نثری کارنامہ نے مجھے چونکا کر رکھ دیا۔ بی اے کی طالبہ کی غیر معمولی کاوش سے ادبی دنیا بہت پر امید ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ثنا بیٹی اس سلسلے کو برقرار رکھے گی۔ سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل اور محقق خلیل الرحمن صاحب نے اس ناول پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے اس ناول کے وجود میں آنے کی کہانی بیان کی اور تخلیق کار ثنا فاطمہ کی تعلیمی، تخلیقی اور فکری صلاحیت کو سامعین کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ نظم کی تخلیق کے مقابلے نثری تخلیق بہت مشکل کام ہے کیوں کہ اس کا کینوس بہت وسیع ہوتا ہے اور اس مشکل کام کو ثنا فاطمہ نے بہت ہی بہتر انداز میں سرکرلیا ہے۔

اس ناول کی تخلیق کار ثنا فاطمہ نے اپنے تخلیقی سفر کے آغاز کی کہانی مختصر میں بتائی اور اس ناول کے وجود میں آنے کی محرک اپنی چھوٹی بہن سارہ فاطمہ کو قرار دیا۔ اخیر میں پروفیسر انور پاشا نے اپنے صدارتی خطاب میں اس ناول کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کی اور کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جس میں ثنا فاطمہ کی ادبی زندگی کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس موقع پر اردو اور انگریزی کے متعدد دانشوران نے شرکت کی اور اس ناولٹ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر مظہر مہدی، پروفیسر مجیب الرحمن، پروفیسر رضوان الرحمن، پروفیسر رام چندر، پروفیسر گریما شریواستو، پروفیسر خالد علوی، جناب ناصرعزیز، ڈاکٹر توحید خان، ڈاکٹر آصف زہری، ڈاکٹر شیو پرکاش، ڈاکٹر سمیع الرحمن، آصف اعظمی، تحسین منور، ڈاکٹر محمد محسن وغیرہ نے شامل ہوکر محفل کو کامیاب بنایا۔