ادبیات

صفدر ہاشمی: جنہیں بیچ سڑک پر مار ڈالا گیا، یوم شہادت آج

صفدر ہاشمی کی کوئی ایک شناخت نہیں تھی وہ ہمہ جہت صلاحیت کے مالک تھے، انہیں بے شک اصل مقبولیت تھیڑ سے ملی لیکن وہ ڈائریکٹر، نغمہ نگار اور مصنف بھی تھے۔ آج سے 30 سال قبل انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ریتا تومر

آج سے 30 سال قبل یکم جنوری 1989 کو غازی آباد کے صاحب آباد علاقہ میں نکڑ ناٹک (اسٹریٹ شو) کرتے وقت ان پر حملہ کیا گیا اور اگلے دم ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔ انہیں اس لئے قتل کیا گیا کیوںکہ وہ دبے، کچلے لوگوں کی آواز بن گئے تھے۔ ڈراموں کے ذریعہ لوگوں میں بیداری لا رہے تھے۔ وہ محض 34 سال کا تھے۔ وہ کوئی اور نہیں، صفدر ہاشمی تھے۔ جنہیں ان کی اس قدروں کی سزا ملی جن کی خاطر وہ ساری زندگی لڑتے رہے۔

صفدر ہاشمی کی کوئی ایک شناخت نہیں تھی وہ ہمہ جہت صلاحیت کے مالک تھے، انہیں بے شک اصل مقبولیت تھیڑ سے ملی لیکن وہ ڈائریکٹر، نغمہ نگار اور مصنف بھی تھے۔ یہ ان کی کرشمائی شخصیت اور لوگوں سے ان کے لگاؤ کا ہی اثر تھا کہ اس واقعہ کے بعد آج بھی ہر سال یکم جنوری کو بھاری تعداد میں لوگ جمع ہو کر انہیں یاد کرتے ہیں۔

سماجی مسائل پر نکڑ ڈراموں کے لئے مشہور صفدر ہاشمی نے 1978 میں جن ناٹیہ منچ (جنم) کا قیام کیا تھا، جس کے ذریعہ وہ مزدوروں کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے تھے۔ جس دن ان پر حملہ ہوا، اس دن بھی صاحب آباد میں نکڑ ڈرامہ ’ہلہ بول‘ کو پیش کر رہے تھے۔ اسی وقت ایک مقامی رہنما نے اپنے گرگوں کے ساتھ مل کر ان پر حملہ کر دیا۔

مشہور ڈرامہ ڈائریکٹر حبیب تنویر کہا کرتے تھے، ’’آج کے دور میں صفدر ہاشمی جیسے نوجوانوں کی سخت ضرورت ہے، جو سماج کو متحد کر سکیں۔ ویسے کسی بھی دور میں صفدر ہونا آسان نہیں ہے۔‘‘ صفدر ہاشمی کے بڑے بھائی اور مورخ سہیل ہاشمی نے کہا ’’ہاں میرے بھائی کو مار ڈالا گیا۔ کیوں؟ کیوں کہ وہ زندگی بھر ان قدروں کے لئے لڑا جن کے ساتھ ہم بڑے ہوئے تھے۔‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ جس دور میں صفدر کا قتل کیا گیا وہ دو آج کے دور سے کتنا علیحدہ تھا؟ اس پر انہوں نے کہا، ’’صفدر کے قتل کے بعد جب ہم نے ’سہمت‘ نامی تنظیم کا قیام کیا تھا اس وقت عدم رواداری بڑھنی شروع ہوئی تھی لیکن اب اسی عدم رواداری حامی قوتیں اقتدار پر قابض ہیں جو مختلف نظریہ والے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘

سہیل ہاشمی نے مزید کہا، ’’اس وقت ’دی فائر‘ کی شوٹنگ روک دی گئی تھی، حبیب تنویر کے ڈراموں پر حملے کرائے گئے۔ اس دور کے بعد سے یہ سب کچھ بڑھا ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت وہ قوتیں اقتدار میں نہیں تھیں لیکن اب یہ لوگ اقتدار میں ہیں جو ان سے اتفاق نہیں رکھتے یہ ان کو نشانے پر لے لیتے ہیں۔‘‘

وہ کہتے ہیں، ’’پہلے چیزیں گپ چپ طریقہ سے ہوتی تھیں، لیکن اب عوامی طور پر سب کچھ ہو ریا ہے۔ پیسہ دے کر حملے کرائے جا رہے ہیں، آن لائن ٹرولنگ ہو رہی ہے، اب تو انہوں نے نیا شگوفہ چھیڑ دیا ہے، کمپیوٹروں پر نظر رکھی جائے گی کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں۔ ہر جگہ سینسر لگانے کی تیاری کر رکھی ہے۔ یہ تاناشاہی نہیں فاسسزم ہے۔ میرا بھائی تمام عمر مساوی سماج کی تعمیر کے لئے لڑتا رہا۔ ایک ایسا سماج جس میں کسی کے حقوق پر حملہ نہ ہو، اظہار رائے کی آزادی ہو، اس کے لئے اس نے زندگی بھر کام کیا اور اسی کے لئے وہ مارا گیا۔‘‘

’چرن داس چور‘ ڈرامہ کے لئے حبیب تنویر نے بالکل صحیح کہا تھا کہ کسی بھی دور میں صفدر ہاشمی ہونا آسان نہیں ہے۔ صفدر کے جنازے میں 15 ہزار لوگ جمع ہوئے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صفدر سیدھے لوگوں کے دلوں میں بسے ہوئے تھے۔ ہندوستان کے لوگ اظہار رائے کی آزادی چاہتے ہیں انہیں تاناشاہی، فاسسزم قطعی پسند نہیں۔ ملک کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔‘‘