اردو کے ممتاز ادیب و شاعر شاہد ماہلی کا انتقال

شاہد ماہلی نے اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ اردو ادب کی آبیاری میں گزارا۔ انہوں نے اردو ادب سے وابستہ مختلف تنظیموں کی سر براہی کے فرائض بھی انجام دیئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

اردو زبان کے ممتاز ادیب و شاعر اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر شاہد ماہلی کا آج انتقال ہو گیا۔ وہ 76سال کے تھے۔ اردو ادیب کے انتقال پر ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑگئی ہے۔ مختلف ادبی تنظیموں اور شخصیات نے شاہد ماہلی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ شاہد ماہلی نے اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ اردو ادب کی آبیاری میں گزارا۔ انہوں نے اردو ادب سے وابستہ مختلف تنظیموں کی سر براہی کے فرائض بھی انجام دیئے۔ وہ بذات خود ایک اچھے شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی شاعری کو ادبی حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی ہوئی ہے۔ انھیں دہلی اردو اکیڈ می اور اتر پردیش اردو اکیڈمی کے مختلف انعامات سے بھی نوازا گیا۔ ان کے علاوہ انہیں آل انڈیا کیفی اعظمی ایوارڈ اور ہندی ساہتیہ ایوارڈ سے بھی سر فراز کیا گیا۔ دہلی اردو اکیڈمی کے بہترین شاعری ایوارڈ سے بھی نوازے جاچکے ہیں۔ نیشنل امیر خسرو سو سائٹی کے سکریٹر ی اور انجمن ترقی اردو دہلی شاخ کے طویل عرصے تک جنرل سکریٹری بھی رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے لمبا عرصہ غالب اکیڈمی کی وابستگی میں اردو کی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ تقریباً چالیس برسوں تک غالب انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ رہے۔

شاہد ماہلی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری صدیق الرحمن قدوائی اور ڈائریکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہد ماہلی جیسے متحرک اور فعال شخص کا ہمارے درمیان سے اتنی جلدی رخصت ہو جانا ہم سب کے لیے کسی بڑے المیے سے کم نہیں ہے۔ تقریباً چالیس برسوں تک آپ غالب انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ رہے اور اپنی محنت اور دلچسپی سے غالب انسٹی ٹیوٹ کو بلند مقام پر پہنچایا۔

بحیثیت ڈائریکٹر شاہد ماہلی نے کئی اہم قومی اور بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا، خصوصاً بین الاقوامی سمینار میں پاکستان، ایران، تاجکستان، افغانستان، امریکہ، انگلینڈ اور دیگر ممالک کے اسکالرز غالب انسٹی ٹیوٹ تشریف لائے جس کی وجہ سے یہ ادارہ بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل کر سکا۔ آپ نے اپنی نگرانی میں غالبیات اور اردو زبان و ادب کے تعلق سے کئی اہم کتابوں کی اشاعت بھی کرائی ان کتابوں کو علمی اور ادبی دنیا میں کافی پذیرائی ملی۔ آپ کافی دنوں سے علیل تھے مگر اپنی علالت کے باوجود اردو زبان و ادب کو اپنی تحریروں اور تقریروں سے فروغ دیتے رہے۔ موت بر حق ہے اور ہر شخص کو اس کی گرفت میں آنا ہے مگر شاہد ماہلی کی موت ایک ایسا حادثہ ہے جسے بھلا پانا بے حد مشکل ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر ڈاکٹر ادریس احمد، عبد التوفیق، یاسمین فاطمہ، محمد عمر اور پورے عملے نے اس موقع پر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ہماری دعا ہے کہ پروردگار عالم ان کے لواحقین کو صبر دے اور ان کے درجات میں اضافہ کرے۔

Published: 29 Sep 2019, 7:10 PM