امید سحر کا شاعر: فیض... یوم وفات پر خصوصی پیشکش

اردو شاعری میں رقیب کو ہمیشہ لعنت و ملامت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے اور تضحیک آمیز لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن فیض اپنے رقیب سے جس طرح مخاطب ہوتے ہیں اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔

تصویر @amarujalakavya
تصویر @amarujalakavya
user

علی جاوید

فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال آج ہی کے دن یعنی 20 نومبر 1984 کو لاہور میں ہوا۔ آپ گوگل پر اگر ان کے بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش کریں گے تو فیض کو پاکستانی شاعر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ دراصل یہ ایک طرح کی میکالے (Macaulay) کی ذہنیت کی عکاس ہے جو پورے ایشیائی دانشوروں کے کارناموں کو بڑی حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ یہ بات تمام ادبی اور علمی حلقوں میں تسلیم کی جاتی ہے کہ جب کوئی شاعر اپنی تخلیق کی اس بلندی کو پہنچ جاتا ہے کہ زبان کی دیوار حائل نہیں رہ جاتی تو وہ آفاقی شاعر کا درجہ پا جاتا ہے۔ یعنی وہ زمان و مکان کی بندشوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے فیض کا شمار ہم انہی شاعروں میں کرتے ہیں جو اب ہمارے لیے صرف اردو یا پاکستانی شاعر نہیں بلکہ ان کی یہ آفاقیت ساری زبانوں اور پورے خطہ ارض کا شاعر بناتی ہے۔ اسی طرح جیسے کالی داس سے لے کر سورداس، کبیر، تلسی اور میرا بائی اور میر و غالب سے لے کر اقبال وغیرہ کو ’ہندوستانی شاعر‘ تک محدود نہیں کیا جا سکتا، ویسے ہی ہمارے نزدیک فیض احمد فیض ہیں۔ اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ 2011 میں جب ہم نے برصغیر ہند میں فیض کا صد سالہ جشن منایا تو میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ اس موقع پر ہندوستان میں ہندی والوں نے جس قدر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اتنی بڑی تعداد میں اردو کے ادیبوں نے شرکت نہیں کی اور فیض کی شاعری کو جتنی کثیر تعداد میں ہندی میں شائع کیا گیا، وہ درجہ اردو کو حاصل نہیں ہو سکا۔ وکی پیڈیا پر کہا گیا ہے:

“Faiz Ahmad Faiz, MBE, NI was a Pakistani Muslim Marxist poet and author in Urdu. He was one of the most celebrated writers of the Urdu language in Pakistan.”

معلومات چاہے جتنی تفصیلی ہوں، لیکن یورپ والوں نے ایشیائی دانشوروں اور شاعروں کو جس تنگ نظری کی عینک سے دیکھا ہے وہ تعصب قدم قدم پر ہر علمی اور ادبی میدان میں دیکھنے کو ملتا ہے جس کی سب سے زیادہ گھناؤنی مثال ہند و پاک کی تاریخ کی درجہ بندی میں نظر آتی ہے جب برطانوی مورخ ہندوستان کی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں: ’’ہندو ہندوستان، مسلم ہندوستان اور برٹش ہندوستان‘‘۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ان تاریخ نویسوں نے آخری حصہ کو برٹش انڈیا کہا جب کہ منطقی اعتبار سے تیسرے حصہ کو عیسائی ہندوستان کہنا چاہیے تھا ورنہ اسے قدیم ہندوستان، عہد وسطیٰ کا ہندوستان اور جدید ہندوستان کے طور پر دیکھنا چاہیے تھا۔

بہر حال ہم جس شاعر کا ذکر کر رہے ہیں یعنی فیض، ان کی ولادت سیالکوٹ میں ہوئی لیکن ان کے علمی اور ادبی کارناموں نے انھیں آفاقی شاعر کا درجہ عطا کیا۔ اپنے پیش روؤں کی طرح فیض کا زمانہ بھی سماجی اور سیاسی انتشار کا دور ہے۔ غالب کے سامنے 1857 کا منظرنامہ ہے تو اقبال کے سامنے پہلی جنگ عظیم سے پیدا ہوئے حالات کے علاوہ سوویت انقلاب اور عالمی سطح پر زندگی کے مختلف شعبوں میں جنم لے رہی تحریکیں ہیں۔ اسی تسلسل میں فیض کے سامنے مختلف رجحانات اور میلانات کی بکھری ہوئی شکل کا ایک منظم صورت اختیار کرنا، جس میں ادب اور کلچر کے میدان میں ساری دنیا کے ادیبوں اور دانشوروں کا سامراجی اور جنگ باز طاقتوں کے خلاف اتحاد برائے عالمی امن اور زندگی کی مثبت قدروں کی بقا، جو ہندوستان کی سطح پر ترقی پسند ادبی تحریک کی شکل میں وجود میں آنا ایک ایسا تاریخی موڑ ہے جس نے ساری دنیا کے ادیبوں اور دانشوروں کو ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم مہیا کروایا جہاں سب کے سروکار یکساں نظر آئے، یعنی نفرت اور جنگ سے انسان اور نسل انسانی کا تحفظ اور قیام امن۔ ظاہر ہے کہ یہ تحریک عالمی سیاسی اور سماجی منظرنامے سے الگ کوئی مقامی تحریک نہیں تھی بلکہ جس کے ڈانڈے ساری دنیا کی امن اور حریت پسند تحریکوں سے ملتے ہیں۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہوگا کہ سجاد ظہیر اور ان کے رفقاء کا 1935 میں ادیبوں اور دانشوروں کے پیرس کے اعلان نامے کے بعد لندن میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی تشکیل اور ادیبوں کے منشور کی ترتیب سے لے کر 1935 میں الٰہ آباد کی تاریخی میٹنگ اور پھر اپریل 1936 میں پریم چند کی صدارت میں کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام اور اس کا اعلان نامہ جس کے ذریعے جدوجہد آزادی میں ادیبوں اور شاعروں کو منظم کرنے کی ایک کامیاب کوشش نے امن اور آزادی کے جذبے کو تقویت بخشی۔ پریم چند کے ذریعے ’حسن کے معیار‘ کو تبدیل کرنے کی دعوت پر تقریباً سبھی طرف سے لبیک کہنا اور ساتھ ہی علامہ اقبال کا یہ کہنا کہ:

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ان تمام محرکات نے اس خواب کو ایک نئی تعبیر بخشی۔ یہ ایک خوش آئند اتفاق ہے کہ فیض جو طالب علمی کے دور سے نکل کر ایم ڈی اے کالج امرتسر میں ایک لکچرر کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے، ان کی ملاقات رشید جہاں، محمود الظفر اور محمد دین تاثیر جیسے بنیاد گزاروں سے ہوئی اور ترقی پسند نظریے سے متاثر ہو کر فیض نے 1936 کی لکھنؤ کانفرنس میں شرکت کی اور انجمن ترقی پسند مصنفین پنجاب کے بانی سکریٹری بنے اور ابتدا سے ہی جن شعری فکر کی بنیاد رکھی وہ یہ تھی:

دل رہین غم جہاں ہے آج

ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج

سخت ویراں ہے محفل ہستی

اے غم دوست! تو کہاں ہے آج

اپنے محبوب کو اس طرح مخاطب کیا:

خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو

سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے

یا

وہ دل کہ تیرے لیے بے قرار اب بھی ہے

وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے

ایک شاعر جسے کسی طرح قرار نہیں، اس کی نا آسودگی اور بے چینی اس کی آرزوؤں کا اظہار اس طرح کرتی ہے:

عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض

کاش افشائے راز ہو جائے

اور جب افشائے راز ہوتا ہے تو فیض یہ کہتے نظر آتے ہیں:

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

یا

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا

مجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

اس ماحول میں وہ فیض جنم لیتا ہے جو کسی بھی مصیبت یا پریشانی کے عالم میں زندگی سے مایوس نہیں ہوتا اور امید کی کرن اس کے راستے کو روشن کرتی ہے اور جو ہمیشہ مستقبل پر نظریں جمائے ہے، جس کے ہاتھ سے آرزو اور حوصلہ مندی کا دامن کبھی نہیں چھوٹتا:

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

ظلم کی چھاؤں میں دم لینے کو مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

اور پھر کہتے ہیں:

لیکن اب ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں

ترقی پسند ادبی تحریک کا یہی ابتدائی دور ہے جب فیض کے سامنے ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں سوویت یونین میں محنت کش عوام نے استحصال کی زنجیروں کو توڑ کر اپنے حقوق حاصل کر لیے ہیں، تو دوسری طرف اپنے سیاسی اور سماجی ماحول میں جفاکش عوام کے حقوق نہ صرف پامال ہو رہے ہیں بلکہ ان کی حالت گلی کے کتوں سے بھی بدتر ہے اور جو بھکاریوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:

دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی

اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃ

فیض ذرا اور آگے بڑھتے ہیں اور ان محنت کشوں کی طاقت کو محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ مظلوم مخلوق جاگ اٹھے اور منظم ہو جائے تو اپنی قسمت کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے:

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتّے

کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں

کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے

کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلا دے

اردو شاعری میں رقیب کو ہمیشہ لعنت و ملامت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے اور تضحیک آمیز لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن فیض اپنے رقیب سے جس طرح مخاطب ہوتے ہیں اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ رقیب سے نفرت اور دوری کے روایتی انداز سے الگ غالب نے جو لہجہ اپنایا ہے وہ ظریفانہ ضرور ہے:

رات کے وقت مے پیے، ساتھ رقیب کو لیے

آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یوں

لیکن فیض کا انداز بالکل منفرد ہے۔ وہ تو رقیب کو اپنا رازدار بناتے ہیں۔ ایسی دریادلی اور کشادہ ذہنی صرف اور صرف فیض کا حصہ ہے:

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے

جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا ہے

---

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر

اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

---

تجھ پہ بھی برسا ہے، اس بام سے مہتاب کا نور

جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

---

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے، کیا پایا ہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے، رخِ زرد کے معنی سیکھے

---

ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب

بازو تولے ہوئے، منڈلائے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

ایک نا آسودہ ذہن کی یہی خلش ہے جو فیض کو ایک صحافی، ایک ٹریڈ یونین لیڈر اور ایک سرگرم سماجی اور سیاسی کارکن کی حیثیت سے: ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘ کے مقصد کے تحت متحرک رکھتی ہے اور فیض کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آتے ہیں، تو کبھی ان کو بیروت میں اسرائیلی صیہونیت کی بمباری کی زد میں ثابت قدمی کا حوصلہ دیتی ہے۔ ظاہر ہے بنیادی طور پر ساری دنیا میں فیض کی حیثیت ایک انقلابی شاعر کی ہے لیکن جو بات انھیں تمام دوسرے شاعروں سے الگ ہونے کا جواز پیش کرتی ہے وہ ان کی ہمہ جہت شخصیت ہے۔ غالب کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ انھوں نے لکھا ہے:

’’غالب کی شاعری شخصیت اور فلسفے کے بہت سے پہلوؤں پر اس قدر تفصیل سے اور اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اس پر اضافہ شاید اب ممکن نہ ہو۔‘‘

تقریباً یہی بات فیض کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ خصوصاً فیض صدی تقریبات اور اس کے بعد جو کچھ لکھا گیا، اس کی روشنی میں کوئی نیا پہلو نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن فیض کے تعلق سے آج بھی کچھ ایسے پہلو ہیں جن پر غور کرنا ہوگا کہ عہد حاضر میں فیض اور ان کی شاعری کے معنی ہمارے نزدیک کیا ہیں۔ یعنی آج ہمارے لیے فیض کی معنویت کیا ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہندوستان میں 1936 میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کا قیام اور جدوجہد آزادی میں اس کا رول دراصل بین الاقوامی سطح پر سامراج مخالف اور عالمی امن کی تحریک کا ایک حصہ رہی ہے، جس نے ہمارے برصغیر میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا کہ جس میں انسانی زندگی کی اعلیٰ قدروں اور استحصال سے پاک، ایک ایسے سماج کی تشکیل کے خواب کو اگر کسی نے سب سے زیادہ تقویت بخشی ہے تو وہ نام فیض احمد فیض کا ہے۔

ایسے ماحول میں فیض کی اہمیت یہ ہے کہ 79-1978 میں اپنے بیروت کے قیام کے دوران انھوں نے اسرائیلی بمباری کے موقعے پر فلسطینی عوام کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور بیروت میں ڈٹے رہے۔ انھوںنے کہا:

’’جو تمھاری مان لیں ناصحا—تو رہے گا دامن دل میں کیا

نہ کسی عدو کی عداوتیں — نہ کسی صنم کی مروتیں

چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم— جو بچا ہے مقتل شہر میں

یہ مزار اہل صفا کے ہیں — یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں

مری جان آج کا غم نہ کر — کہ نہ جانے کاتب وقت نے

کسی اپنے کل میں بھی بھول کر — کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں

یا

مقتل میں، نہ مسجد، نہ خرابات میں کوئی

ہم کسی کی امانت میں غم کارِ جہاں دیں

شاید کوئی ان میں سے کفن پھاڑ کے نکلے

اب جائیں شہیدوں کے مزاروں پہ اذاں دیں

یہ فیض کی زندگی کے آخری دنوں کی شاعری ہے۔ یعنی اس وقت جب کہ کچھ ’ترقی پسند‘ ادیب، ترقی پسند ادبی تنظیم کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے تو دوسری طرف فیض کہہ رہے تھے:

نہ وہ رنگ فصل بہار کا، نہ روش وہ ابر بہار کی

جس ادا سے یار تھے آشنا، وہ مزاج بادِ صبا گیا

جو طلب پہ عہد وفا کیا، تو وہ آبروئے وفا گئی

سر عام جب ہوئے مدعی، تو ثوابِ صدق و صفا گیا

ابھی بادبان کو تہہ رکھو، ابھی مضطرب ہے رخ ہوا

کسی راستے میں ہے منتظر وہ سکوں جو آگے چلا گیا

اس سے قبل بھی اپنے ہم سفر دوستوں کو حوصلہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا:

کوئی دم بادبانِ کشتیٔ صہبا کو تہہ رکھو

ذرا ٹھہرو غبارِ خاطر محفل ٹھہر جائے

فیض دوستوں کی بے دلی کا ماتم نہیں کرتے بلکہ حوصلہ بخشتے ہیں۔ ’’و یبقیٰ وجہ ربِّک‘‘ نظم 1979 کی ہے جو انھوں نے امریکہ کے قیام کے دوران کہی تھی، اس کے چند اشعار اس طرح ہیں:

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑدھڑ دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

جب ارض خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردودِ حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے، حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے گا انالحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلق خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اس موقعے پر اس نظم کو دہرانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ضیاء الحق کا زمانہ یاد کیجیے۔ ’نظامِ مصطفیٰ‘ کے دوران اقبال کی شاعری کو بھی سنسر کر دیا گیا تھا۔ یعنی ایسے اشعار جو عوام میں تحریک جگاتے ہوں یا جن اشعار کے ذریعے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب ملتی ہو ان اشعار پر پابندی لگا دی گئی تھی، ایسے ماحول میں بھی فیض خاموش نہیں بیٹھے:

بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے

اب تو ویرانہ بھی ویران نہیں کرنے دیتے

ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے

اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے

دل میں وہ آگ فروزاں عدو جس کا بیاں

کوئی مضموں کسی عنواں نہیں کرنے دیتے

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فیض کا انتقال 20 نومبر 1984 کو ہوا اور انھوں نے عمر کے آخری حصے تک اپنی دینی سرگرمی جاری رکھی۔ نومبر 1984 کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے اور ان کی نظریاتی وابستگی کا اندازہ لگائیے:

بہت ملا نہ ملا زندگی سے غم کیا ہے

متاع درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

ہم ایک عمر سے واقف ہیں اب نہ سمجھاؤ

کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں ستم کیا ہے

کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف

کرنے نہ شہر میں جل تھل تو چشم نم کیا ہے

لحاظ میں کوئی کچھ دور ساتھ چلتا ہے

وگرنہ دہر میں اب خضر کا بھرم کیا ہے

اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ

نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے

سجاؤ بزم، غزل گاؤ، جام تازہ کرو

بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے

یہ غزل، غالب کے اس مصرعے پر ختم کرتے ہیں۔ سماج اور زندگی سے اپنے لگاؤ اور شہر کو اپنے اشکوں سے ’جل تھل‘ کر دینے کی للک فیض کی شاعری میں ابتدا سے آخر تک نظر آتی ہے اور یہی بات انھیں حوصلہ اور امید کا شاعر بناتی ہے۔ غور کیجیے کہ بستر مرگ پر بھی فیض کو اس بات کا احساس ہے کہ ’کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف‘۔

یہی نہیں، مزاحمت کا جذبہ جو اردو شاعری کی اصل پہچان ہے، وہ فیض کے دامن کا ساتھ کسی موقع پر نہیں چھوڑتا۔ ان کی کج ادائی جو اردو شاعری کی روح ہے وہ فیض کے یہاں قدم قدم پر رونما رہتی ہے:

کرو کج جبیں پہ سر کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

آخری بات یہ کہ فیض کے بارے میں اکثر یہ کہا گیا کہ ان کی ابتدائی شاعری عشق اور ہلکے پھلکے جذبات کی شاعری ہے۔ راقم الحروف اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ ابتدا میں بھی فیض کا یہ لہجہ کہ

’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘

اور یہ لہجہ آخر تک قائم رہتا ہے جو بقول غالب قطرے میں دجلہ کا نظارہ کرتا ہے۔ ان کے اصل جذبے کو دہراتے ہوئے ان معروضات کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:

صبا نے پھر درِ زنداں پہ آ کے دستک دی

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے

Published: 20 Nov 2020, 4:11 PM
پسندیدہ ترین
next