’اردو میں ہی نہیں، انگریزی اور دیگر کئی زبانوں میں ہو رہی ہے غزل گوئی‘

’انٹرنیٹ کی وجہ سے اردو غزلیں مقبول ہو رہی ہیں اور اب انگریزی سمیت کئی زبانوں میں غزلیں لکھی جا رہی ہیں۔ پوری دنیا میں ریختہ فاؤنڈیشن پر اردو ادب پڑھنے والوں کی روزانہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ’انٹرنیٹ کی وجہ سے اردو غزلیں دنیا میں خوب مقبول ہو رہی ہیں اور اب انگریزی سمیت کئی زبانوں میں غزلیں لکھی جا رہی ہیں۔ پوری دنیا میں ریختہ فاؤنڈیشن پر اردو ادب پڑھنے والوں کی روزانہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔‘

یہ کہنا ہے جامعہ ملیہ کے سبکدوش انگریزی پروفیسر اورمشہور مترجم شاعر ڈاکٹر انيس الرحمن کا جنہوں نے گزشتہ 500 سالوں کی اردو غزل کا ایک مجموعہ نکالا جس میں 500 شاعروں کی غزلوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ جامعہ کے سابق رجسٹرار ڈاکٹر رحمان کی کتاب ’ہزاروں خواہشیں ایسی‘ کی گزشتہ روز یہاں رسم رونمائی کی گئی جس میں مشہور غزل گلوکار ریشمی اگروال نے چنندہ غزلیں پیش کیں۔

ڈاکٹر رحمان نے يواین آئی کو بتایا کہ ہندوستان میں سولہویں صدی میں اردو کے پہلے غزل شاعر کلی قطب شاہ ہوئے اس کے بعد سے 500 سال تک غزلیں کہی جاتی رہیں۔ اب تو بنگلہ، گجراتی، مراٹھی، کشمیری میں بھی غزلیں کہی جا رہی ہیں۔ ہندی میں بھارتیندو ہریش چندر نے پہلی غزل کہی، شمشیر اور ترلوچن نے بھی غزلیں کہی لیکن دشینت کمار سے ہندی غزلیں خوب مقبول ہوئیں۔ انٹرنیٹ فیس بک واٹسپ ایپ سے اردو غزل کافی مقبول ہوئی اور امریکہ، کینیڈا، اسپین، آسٹریلیا، آسٹریا اور یورپ کے کئی ممالک میں غزلیں کہی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انگریزی میں بھی غزلیں کہی جانے لگی ہیں اور آج سے دس سال قبل آغا شاہد علی نے 100 انگریزی غزلوں کی کتاب نکالی جو امریکہ میں شائع ہوئی تب میں نے اس کی تجزیہ نگاری بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ریختہ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ نے دنیا میں اردو کو مقبول بنایا ہے جس پر روزانہ تقریباً ایک لاکھ ہٹس آتے ہیں۔ دنیا کے 40 زائد ممالک سے یہ ویب سائٹ دیکھی جاتی ہے۔

جہاں جہاں غیر ملکی ہندوستانی اور غیر ملکی پاکستانی ہے وہاں اردو کے نشان ہے۔ ہندی فلموں نے بھی اردو کو مقبول بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں آفتاب حسین عشرت، افرین است کھر اور عارف عادل منصوری کی بھی غزلیں شامل کی ہیں جو بیرون ملک رہ کر بہترین غزلیں کہہ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں میر، غالب ،فیض اور فراق سے لے کر ندا فاضلی کی غزلوں کا انگریزی ترجمہ موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کے دوسرے باب میں اردو نظموں کا ترجمہ ہو گا اس طرح پہلی مرتبہ اردو کی 500 سال پرانی تخلیق کو دنیا کے سامنے انگریزی میں پیش کیا جائے گا جس سے دنیا کو ان غزلوں کو دوسرے انداز میں سمجھنے کا موقع ملے گا۔

Published: 29 Mar 2019, 7:10 PM