عالمی اردو کانفرنس میں 15 ممالک کے ادباء کی شرکت متوقع

عالم کاری کا دور میں دنیا میں محبت کا پیغام پھیلانے کے لئے چھٹی عالمی اردو کانفرنس 18 مارچ سے یہاں شروع ہو جائے گی جس میں 15 ملکوں کے ادیب شرکت کریں گے لیکن اس میں پاکستان کو نہیں بلایاگیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: عالم کاری کا دور میں دنیا میں محبت کا پیغام پھیلانے کے لئے چھٹی عالمی اردو کانفرنس 18 مارچ سے یہاں شروع ہو جائے گی جس میں 15 ملکوں کے ادیب شرکت کریں گے لیکن اس میں پاکستان کو نہیں بلایاگیا ہے۔ تین روزہ کانفرنس کا افتتاح انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیكر کریں گے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ کانفرنس میں بنگلہ دیش، ایران، ماريشس، مصر، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے مصنف شرکت کریں گے لیکن پلوامہ حملے کے پیش نظر نو پاک مصنفوں کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر احمد نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ یہ گنگا جمنی تہذیب کا نام ہے اور وہ محبت کا پیغام پھیلانے والی زبان ہے۔ آج وہ دنیا بھر میں پڑھی جا رہی ہے۔ اس پیغام کو پھیلانے کے لئے یہ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، لیکن جب تک پاکستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہوتے ان کے ادیبوں کو نہیں بلایا جائے گا۔ ملک کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے پاک ادیبوں کو نہیں بلایا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی، جامعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جموں یونیورسٹی، مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی، الہ آباد یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی کے ریسرچ سكالر اور استاد بھی ڈیلگیٹ کے طور پر شرکت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں صرف اردو ادب نہیں بلکہ اردو میڈیا، آرٹ، تفریح، تعلیم، قانون جیسے موضوعات پر بھی بحث ہوگی اورمقالات پڑھے جائیں گے۔ کانفرنس میں مظفر علی، گجندر چوہان، جسٹس سہیل اعجاز صدیقی ، محمد فرمان ندوی، پروفیسر اخترالواسع، ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، شوکت حیات، شاہد اختر، ضیاالسلام جیسے لوگ حصہ لیں گے۔