ادبیات

کہانی: وجے کی شیطانی

کبھی کبھی جو کام پٹائی سے حل نہیں ہو پاتا وہ پیار سے کی گئی نصیحت سے حل ہو جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

صنم حسین

وجے ابھی تین سال کا تھا، وہ بہت شیطان لڑکا تھا ایک دن وجے گھر میں بیٹھا بیٹھا بور ہوگیا تھا۔ اس کے بڑے بھائی نے اسے ایک کہانی سنائی۔ اس کے بعد وجے باہر کھیلنے چلا گیا، جب گھر آیا تو اپنے ماما جی کی ایک کتاب کھول کر دیکھنے لگا۔ اس میں بہت اچھی تصویریں تھیں اس نے جھٹ قینچی سے تصویریں کاٹ کر نکال لیں۔ ماما جی جب گھر آئے تو کتاب کو کٹا دیکھ غصے میں آگئے اور پھر وجے کی خوب پٹائی لگائی۔ کچھ دن بعد اس کے بڑے بھیا ایک سیاہی کی شیشی لائے اور میز پر رکھ دی۔ وجے موقع دیکھ کر میز پر جا بیٹھا اور سیاہی کی شیشی سے کھیلنے لگا۔ پتہ نہیں کب شیشی کا ڈھکن کھل گیا اور سیاہی کی شیشی کتاب پر جاگری۔ کتاب ساری سیاہی سے رنگ گئی۔ یہ دیکھ کر وجے وہاں سے بھاگ گیااور پھر جب بھیاّ آئے تو اپنی کتاب کو رنگا دیکھ کر بہت غصہ ہوئے اور ماں سے شکایت کردی ۔ پھر ماں نے وجے کی خوب پٹائی لگائی، ایک ہفتے بعد ماں کے پاس ایک آدمی آیا وہ ماما جی کے لئے لڑکیوں کی تصویریں لایا تھا تاکہ ماماجی ان میں سے ایک کو پسند کرکے اس لڑکی سے شادی کر لیں۔ جب وہ آدمی چلا گیا تو ماں نے ان تصویروں کو وجے کی کھیلونوں والی الماری پر رکھ دیں۔ وجے اپنی الماری سے کھیلونے نکالنے آیا تو اسے وہ تصویریں مل گئیں اور انہیں اٹھا کر لے گیا۔ اس کے بڑے بھیا نے ایک کہانی سنائی تھی جس میں ایک آدمی ایک تصویر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں جوڑتا ہے۔

وجے نے ساری تصویروں کے ٹکڑے کر ڈالے اور جوڑنے لگا۔ ماں نے دیکھا تو اسے بہت ڈانٹا۔ اس کے کچھ دن بعد وہ پارک میں کھیلنے گیا، پارک کے پاس ایک کوڑے دان تھا اس نے کوڑے میں سے ایک ٹوٹا ہوا کھیلونا اٹھا لایا جس میں کافی چیٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ ان چیٹیوں نے وجے کے کاٹ لیا جس سے اس کے بہت درد ہوا اور اس کو اسپتال جانا پڑا۔ جب وہ اسپتال سے لوٹا تو بہت بدل گیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہاں کے ڈاکٹروں نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ بیٹا ہمیشہ اچھے بچوں کی طرح رہنا چاہیے، شیطانی کرو لیکن بہت نہیں تھوڑی سی۔

خیر جو کام پٹائی نہ حل کرسکی وہ کام پیار سے کی گئی نصیحت نے حل کردیا۔