’میر تقی میر کا کلام سادگی میں پرکاری کی بہترین مثال‘

روفیسربیگ احساس نے کہا کہ میر کی شاعری کا تخلیقی تلازمہ درد ہے۔ ان کی شاعری سے متعلق جو مختلف کلیشے بن گئے ہیں ان سے بچ کرکلام میر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سہل ممتنع میر کی شاعری کا امتیازی وصف ہے۔

میر تقی میر
میر تقی میر
user

یو این آئی

حیدرآباد: ”جس شاعر کو خدائے سخن کہا جائے اس مملکت سخن پر اس کی حکمرانی کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اٹھارویں صدی سے آج تک میر تقی میرؔ کی اہمیت و مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔مرزا غالبؔ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے لیکن وہ بھی میر کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ میر کی شاعری کی تازگی، رنگینی اور بوقلمونی کے پیش نظر غالب نے ان کے کلام کو کشمیر کے باغ سے تشبیہ دی ہے۔“ ان خیالات کا اظہار ممتازشاعر، نقاد اور ماہر میریات پروفیسر احمد محفوظ استاد شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے ”بازگشت“ آن لائن ادبی فورم کی جانب سے میرتقی میرؔ کی نمائندہ غزلوں کی پیش کش اور تنقیدی گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں بہ حیثیت مہمان خصوصی کیا۔

پروفیسر احمد محفوظ نے میر کے کلام سے متعلق مختلف غلط فہمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میر کی بدقسمتی یہ رہی کہ محمد حسین آزاد نے ”آب حیات“ میں انھیں ’آہ کا شاعر“ لکھ دیا۔ اس کی وجہ سے میر کو قنوطی شاعر اور ان کے کلام کو دردوغم سے عبارت سمجھ لیا گیا۔ میر کا کلام خود اس بات کی نفی کرتا ہے۔ میر کے کلام میں ابتدا سے ذہنی پختگی ملتی ہے۔ ’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں‘ ان کے دیوانِ اول کی غزل ہے۔ اس وقت ان کی عمر تیس برس سے کم رہی ہوگی۔ اس طرح کی متعدد غزلیں اس کی شاہد ہیں۔ جب کہ ’پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے‘ ان کے پانچویں دیوان کی غزل ہے۔ اس وقت ان کی عمر اسی برس سے متجاوز تھی۔ کلام میرؔ اور کلاسیکی شعری روایت پر نئے سرے سے غور کرنے اور لکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ہمارے عہد کے سر بر آوردہ نقاد جناب شمس الرحمٰن فاروقی نے یہ سلسلہ شروع کیا۔

ممتاز افسانہ نگار اور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے صدر پروفیسر بیگ احساس نے صدارتی خطاب میں کہا کہ پروفیسر احمد محفوظ کو جناب شمس الرحمٰن فاروقی سے جو قلبی تعلق ہے اس کا اندازہ ان کے لہجے اور اندازِ گفتگو سے ہو رہا تھا۔ پروفیسر احمد محفوظ نے نہایت عرق ریزی سے کلیات میر کی تدوین کی اور اسے الحاقی کلام سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ پروفیسربیگ احساس نے کہا کہ میر کی شاعری کا تخلیقی تلازمہ درد ہے۔ ان کی شاعری سے متعلق جو مختلف کلیشے بن گئے ہیں ان سے بچ کرکلام میر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سہل ممتنع میر کی شاعری کا امتیازی وصف ہے۔ انھوں نے لاجواب صنعتیں استعمال کیں اور تکرارِلفظی سے خوب کام لیا۔ انھوں نے عشق پر بہت زور دیا۔ ان کی شاعری میں فکری عنصر بھی بہت ملتا ہے۔ میر کی عظمت کا اعتراف ہر دور میں کیا گیا۔ میرؔ سے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمیوں میں خود ان کا بھی رول ہے۔ ان کے بعض اشعار اس کی مثال ہیں مثلاً یہ شعر:

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے

درد وغم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

اس سے قبل معروف شاعر جناب آغا سروش نے بہترین انداز اور لب و لہجے میں میر کی غزلیں پیش کیں۔صدر جلسہ نے ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ تخلیق کو اپنے اندر جذب کرلینا اور اسے اپنی تخلیق کی طرح پیش کرنا کمالِ فن ہے اور جناب آغا سروش اس مرحلے سے کامیاب گزرے۔ ڈاکٹر ارشد جمیل، ڈاکٹر اسلم فاروقی، جناب حنیف سید نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔ جلسے میں ڈاکٹر فیروز عالم نے پروفیسر مظفر حنفی اور جناب عظیم امروہوی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی قراراد پیش کی۔ شرکا نے رنج و غم کا اظہار کیا مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر فیروز عالم نے میر کی حیات اور تصانیف کے بارے میں بتایا کہ وہ 1722-23 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے انھیں بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے عمر کا بڑا حصہ دہلی اور لکھنئو میں بسر کیا۔ یہ بے حد پر آشوب دور تھا جس کا اثر میر کی شاعری پر نظر آتا ہے۔ لکھنئو میں 1810 میں ان کی وفات ہوئی۔ چھ دواوین، تذکرہ ’نکات الشعرا‘، خود نوشت’ ذکر میر‘ اور ’فیض میر‘ ان کی یادگار ہیں۔ انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹرحمیرہ سعید نے جلسے کی بہترین نظامت کی اور جناب آغا سروش کا تعارف پیش کیا۔

دوسری رکن ڈاکٹر گلِ رعنا نے پروفیسر احمد محفوظ کا تعارف کرایا اورپروگرام کے آخر میں اظہارِ تشکر کیا۔ اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر نسیم الدین فریس، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر فاطمہ پروین، ڈاکٹر عذرا نقوی، ڈاکٹر غوث ارسلان (ریاض، سعودی عرب) ڈاکٹر محمد عبدالحق(امریکہ) ڈاکٹر اقبال احمد(ملبورن) ملکیت سنگھ مچھانا(چنڈی گڑھ) ڈاکٹرشمیم احمد(دہلی) ڈاکٹر مشرف علی (بنارس) ڈاکٹر ریشماں پروین (لکھنئو) ڈاکٹر نصرت جہاں (کولکاتہ) ڈاکٹر ہادی سرمدی (پٹنہ) ڈاکٹر نوشاد عالم، ڈاکٹر عطیہ رئیس(دہلی) صائمہ بیگ، افشاں جبیں فرشوری، ڈاکٹر رحیل صدیقی، ڈاکٹر ابو شحیم خاں، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹر صابر علی، ڈاکٹر اسلم فاروقی، ڈاکٹر محبوب خاں اصغر، ڈاکٹرحنا کوثر، ڈاکٹر عظیم قریشی (حیدرآباد) مہ جبیں شیخ، عظمیٰ تسنیم (پونے) ڈاکٹرمحمد زبیر (پرتاپ گڑھ) محمد قاسم (کیرالا) خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

next