محمد عنایت: نعتیہ شاعری کے اُفق کا روشن ستارہ

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آفتاب احمد منیری

نعت گوئی فی نفسہ ایک مہتم بالشان صنف شاعری ہے۔ اس افتخار کا بنیادی سبب اس صنف ِ شاعری کا سید الانبیاء حضرت محمد عربی ﷺ کی ذات سے منسوب ہونا ہے۔ سب سے پہلے مداح رسولؐ حسان ابن ثابت سے تا حال ہزاروں شعراء نے رحمت کا ئنات ﷺ کے حضور ہدیہ نعت پیش کیا ہے۔

جہاں تک اردو کی نعتیہ شاعری کا تعلق ہے یہاں بھی شعراء کی ایک بڑی تعداد نعت رسولؐ کی سعادت حاصل کر چکی ہے لیکن یہ واقعہ ہے کہ اردو میں نعت گو شعراء کی اکثریت کے اوپر نعت رسول ؐ کے اسرار منکشف نہیں ہو سکے اور ان کے ذریعہ فن نعت گو ئی کے اداب ملحوظ رکھنے کی کو شش نہیں کی گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ نعتیہ اشعار غلو آمیز تصورات کے نذر ہو کر رہ گئے۔

اردو کی نعتیہ شاعری میں غیر شعوری طور پر امام کائنات ﷺکی نبوی حیثیت کو فراموش کر تے ہوئے روایتی انداز میں آپ ؐ کی سیرت کو پیش کیا گیا۔ اس سے ایک غیر معمولی نقصان یہ ہوا کہ عوامی سطح پر لوگ مقصد نبوت کے تقاضوں کو سمجھ نہیں پائے۔جبکہ فن نعت گوئی ہم سے یہ مطالبہ کر تی ہے کہ ہم نعت رسولؐ رکھتے ہوئےمحبت رسولؐ کے اصل مفہوم کو جان لینے کے بعد طالبان ِ علم کے لئے اطاعت رسول ﷺ کی معنویت پر غور کرنا آسان ہو جائے گااور اردو کی نعتیہ شاعری نئے آفاق سے ہم کنار ہو سکے گی۔

اردو کے جن شعراء نے رسول اللہ ﷺ کی نبوی حیثیت کا ادراک کر تے ہوئے نعت رسول ؐ کی محفل سجائی ہے ان میں الطاف حسین حالیؔ، شاعر مشرق اقبالؔ ، ماہر القادری ؔ، عامر ؔعثمانی ، اور فضاؔ ابن فیضی کے نام قابل ذکر ہیں۔

ان عبقری شعراء کی نعتیہ شاعری کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ یہاں ایک ایسے شاعر کی نعت گوئی کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کا ارادہ ہے جو علمی و ادبی حلقوں میں بہت معروف نہیں ہے۔لیکن اسے نعت کہنے کا سلیقہ آتا ہے اور اس نے کچھ اس انداز سے فاضل مکتب حرا ﷺکی نبوی حیثیت کو شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے کہ دل سے سارے تار بج اٹھے ہیں ۔ شاعر موصوف کا نام محمد عنایت ہے۔ گزشتہ دنوں ان کی ایک نعت یو ٹیوب پر سننے کا موقع ملا ۔ نعت کے اشعار سننے کے بعد میرا پہلا تاثر تھا کہ موصوف نے اگر کچھ اور نہ بھی کہا ہو تا تو بھی یہ نعت انہیں ادب میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھی ۔ تجزیاتی گفتگو سے قبل نعت کے اشعار پیش خدمت ہیں :

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلا دیا

وہ جو میرے غم میں گھلا گیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا

جو جمال روح حیات تھا جو دلیل ِ را ہ نجات تھا

اس راہبر کے نقوش ِ پا کو مسافروں نے بھلا دیا

یہ میری عقیدتیں بے بصریہ مری ارادتیں بے ثمر

مجھے میر ے دعوہ ٔعشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

ترے حسن ِ خلق کی اک رمق مری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے درو بام کو توسجا دیا

ترا نقش پا تھا جو رہنما تو غبار راہ تھی کہکشاں

اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

مذکورہ اشعار میں پنہاں خیالات کی گہرائی اور شاعر کا حسن ِ بیان ہمیں یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ نعت اپنے موضوع کا حق ادا کر تی ہے۔

شاعر کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ نعت رسولؐ لکھتے ہوئے ایک پل کے لئے بھی ان کے قلم میں لغزش نہیں آئی۔ مزید بر آں قاری کے فکر و خیال کی دنیا روشن کر تے ہوئے انہوں نے مذکورہ اشعار کے اندر امام کائنات ﷺ کی نبوی حیثیت کو بھر پور انداز میں پیش کیا ۔ ساتھ ہی نعتیہ اشعار کے بین السطور یہ پیغام دینے کی کو شش بھی کی ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ پستی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے رسول ﷺ کے اسوۂ کامل سے مجرمانہ غفلت بر تی ہے۔

محبت رسول ﷺ کے جذبہ ٔ صادق سےآبرو مند یہ نعت شاعر کے تخیل کا شاہکار ہے ، جس کا ہر ایک شعر قاری کی فکر کو مہمیز کر تا ہے۔نعت کی ابتداء سوز اور ساز سے لبریز ان مصرعوں سے ہو تی ہے:

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلا دیا

وہ جو میرے غم میں گھلا گیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا

حضرت محمد عربی ﷺ کو اپنی امت سے جو غایت درجہ کی محبت تھی اس کا نفیس اظہار اس شعر میں ہوا ہے۔ آپ ؐ کو اللہ نے سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تھا اور آپ نے اپنے حسن ِ اخلاق سے اس منصب کو عظمتوں کی بلندیاں عطا کر دیں ۔ کیا اس امت نے ان عظیم قربانیوں کو یاد رکھا ، جو اس کی دنیوی و اخروی کا میابی کی خاطر اس کے نبی نے پیش کی تھیں ۔ اس نکتہ کو نہایت فن کاری کے ساتھ اس شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔ دعوت احتساب پیش کرتا یہ شعر شاعرانہ تخیل اور معنی آفرینی کی بہترین مثال ہے۔

یہ خوبصورت نعت اس لئے بھی یاد رکھی جائے گی اس کے ہر ایک شعر میں رسول ﷺ کی حیات طیبہ کے ایک خاص پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ عمل کے شعبہ میں مسلمانوں کا دین پسند طبقہ بھی اسوۂ رسول ﷺ سے کافی دور نظر آتا ہے۔نعت کا حسن ِ مطلع شاعر کے ان ہی احساسات کا آئینہ دار ہے:

ترے حسن ِ خلق کی اک رمق مری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے درو بام کو توسجا دیا

رعنائی خیال اور بیان کی دل کشی سے بھر پور اس شعر کا موضوع بنیٔ رحمت ﷺ کا حسن اخلاق ہے جس کی تعریف میں درج ذیل آیت قرآنی نازل ہوئی:

’’ وَ إِنَّکَ لَعَلى خُلُقٍ عَظيم‘‘

(ترجمہ : ائے محمد ﷺ : ہم نے آپ کو اخلاق کے اعلی ٰ ترین منصب پر فائز کیا ہے)

آپ ؐ کے اسی حسن ِ اخلاق نے عرب کے بدوؤں کو انسانی آداب سکھائے اور ان کے تاریک دلوں کو نور ایمان سے منور کر دیا ۔ یہ آپ کے حسن اخلاق کی انتہا ہی تھی کہ آپ ؐ نے پتھر کھا کر بھی دعائیں دیں ۔اور اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کے ساتھ بھی عفو و در گزر کا معاملہ فرمایا۔لیکن اس پیکر محبت و مودت رسول ﷺ کی امت نے اپنی سماجی زندگی کے اندر آپ ؐ کے اخلاق حسنہ سے کس حد تک کسب فیض کیا ہے ، اس موضوع کو شعر کے دوسرے مصرعہ میں انتہائی سادگی کے ساتھ نظم کیا گیا ہے۔ فکر و خیال کی جو وسعتیں اس شعر کے حصے میں آئی ہیں اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شاعر ِ محبت رسول ؐ کے مطالب نیز اس کے تقاضوں سے با خبر ہے ۔ نعت کا یہ شعر بھی شاعر محترم کی رعنائی خیال کا پر تو معلوم ہو تا ہے:

جو جمال روح حیات تھا جو دلیل ِ را ہ نجات تھا

اس راہبر کے نقوش ِ پا کو مسافروں نے بھلا دیا

رسول رحمت ﷺ ہمارے لئے مکمل نظام زندگی لے کر آئے تھے۔ انسانی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں آپ ؐ کی حیات طیبہ سے روشنی نہ حاصل کی جا سکے ۔ آپؐ کی اس نبوی حیثیت کو متعارف کراتے ہوئے آخری الہامی کتاب قرآن کریم نے صراحت کی:

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (احزاب : 21)

اگر ہم اس آیت بیّنہ کی روشنی میں امام کا ئنات ﷺ کی سیرت کا جائزہ لیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ ؐ کے دشمن بھی آپ ؐ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ آپ ؐ کو اللہ تعالی ٰنے دین و دنیا کی پیشوائی عطا فر مائی تھی، لیکن آپ نے فقیروں جیسی زندگی گزاری ، فقر و استغنیٰ کا یہ حال تھا کہ آپؐ کے پاس جو بھی مالِ غنیمت آتا اسے شام ہونے سے پہلے لوگوں میں تقسیم فر ما دیتے ۔ آپ ؐ کی زندگی کا ہر شعبہ رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لئے مشعل راہ ہے۔ مثلاً ’فاضل مکتب حرا‘ بن کر آپ ؐ نے دنیا کو علم و عرفان کی نعمتیں عطا کیں ۔ایک مثالی باپ اور شوہر کی حیثیت سے خواتیں کے حقوق متعین کئے ، نیز انہیں عزت و سر خروئی کا تاج پہنا یا ۔ اسی طرح مدینہ کے حاکم اعلیٰ کی حیثیت سے آپ نے سیاست کے رہنما اصول وضع کئے۔ الغرض یہ کہ آپؐ نے انسانیت کے سب سے بڑے محسن بن کر اسے وہ تمام ضابطۂ حیات سکھا دئیے جنہیں اختیار کر وہ دنیوی اور اخر وی سعادتوں سے بہرہ مند ہو سکتی ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ جب تک یہ امت اتباع رسول ؐ کے حقیقی مفہوم سے آشانا تھی ، عزت و سر بلندی اس کا مقدر بنی رہی ، دنیا کا اقتدار اسے حاصل رہا ، قرآن و سنت کے چشمہ فیض سے دنیا سیراب ہو تی رہی ، علوم و فنون کے صدہا چراغ روشن ہو تے رہے اور اپنی روشنی سے دنیا کو منور کر تے رہے۔

لیکن جب امام کا ئنات ﷺ کی امت نے اپنے محسن اعظم کی تعلیمات کو فراموش کر دیا اور محبت رسول ؐ کے اصل مفہوم سے نا بلد ہو گئے۔تو ان کی دنیوی ترقی تنزلی میں تبدیل ہو گئی اور خلافت ِ عثمانیہ کے زوال کے ساتھ ہی مسلمانوں کے اقتدار کا سورج بھی ڈوب گیا۔

نعت کے بقیہ اشعار کا فکری انسلاک مذکورہ مباحث سے کا فی قریب نظر آتا ہے:

ترا نقش پا تھا جو رہنما تو غبار راہ تھی کہکشاں

اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

میرے رہنما ترا شکر یہ کروں کس زبان سے بھلا ادا

میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغ فکر جلا دیا

امام کا ئنات ﷺ کی نبوی حیثیت کا احساس کراتی یہ نعت اس لائق ہے کہ اسے بار بار پڑھا جائے تاکہ ہمارے دلوں میں اسوۂ رسول ﷺ کی محبت اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ داخل ہو اور ہمیں اطاعت رسول ﷺ کا سلیقہ آجائے۔ علاوہ ازیں ہم امت وسط کا کر دار ادا کرتے ہو ئے ظلمتوں کی آمجگاہ بن چکی اس دنیا کے لئے روشنی کے پیغامبر بن سکیں ۔

فاضل مکتب حرا کی سیرت کو اچھوتے انداز میں پیش کر تی یہ نعت ہمیں یہی پیغام دے رہی ہے۔