قصیدہ بردہ کے منظوم ترجمہ ’شمیمۃ الوردہ‘ کی رسمِ اجرا

علامہ بوصیری کے شہرہ آفاق قصیدہ ’قصیدہ بردہ‘ کے منظوم اردو ترجمہ ’شمیمۃ الوردہ‘ کی تقریب رسم اجرا منگل کے روز دہلی میں منعقد کی گئی۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز 
تصویر بذریعہ پریس ریلیز

یو این آئی

نئی دہلی: علامہ بوصیری کے شہرہ آفاق قصیدہ ’قصیدہ بردہ‘ کے منظوم اردو ترجمہ ’شمیمۃ الوردہ‘ کی تقریب رسم اجرا منگل کے روز دہلی میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا اہتمام ’اخبار نو لٹریری فورم‘ کے زیر اہتمام دفتر اخبار نو پٹودی ہاوس دریا گنج نئی دہلی میں کیا گیا۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے کہا ”کسی عربی زبان کے قصیدے کامنظوم ترجمہ کرنااور اس کے مفہوم کو ملحوظ رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ لیکن مولانا ذکیر الدین ذکیؔ نے ”شمیمۃ الوردہ“ نام سے قصیدہ بردہ کا منظوم ترجمہ کر کے منظوم ترجمہ نگاری کا حق ادا کر دیا ہے اور اپنے لیے توشہئ آخرت کا انتظام کر لیا ہے۔“

اس کتاب کا اجرا سابق ممبر پارلیمنٹ، سابق سفیر ہند اور ہفت روزہ اخبار نو کے ایڈیٹر م افضل نے کیا۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا ذکیر الدین نے ایک اہم علمی کارنامہ انجام دے کر ادبی سرمائے میں اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذکیر صاحب نے میرے ساتھ مدتوں کام کیا ہے، میں ان کی صلاحیتوں کا قائل تھا اورانھیں صرف ایک عالم کی حیثیت سے جانتا تھا۔ لیکن یہ شاعری بھی کرتے ہیں اس کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا۔ مجھے فخر ہے کہ میرے ادارے میں کام کرنے والے اس قسم کا کام انجام دے رہے ہیں۔

مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی نے کہا کہ میں ان کو ایک خوشنویس کی حیثیت سے تو جانتا تھا لیکن قصیدہ بردہ کامنظوم ترجمہ کرکے انھوں نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ مہمان خصوصی دوم خلیل الرحمن ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں نے قصیدہ بردہ کے متعدد منظوم تراجم پڑھے ہیں مگر جتنا اچھا یہ ترجمہ ہے میں نے کوئی اور نہیں پایا۔ مولانا جامی نے اپنے ترجمے کی ردیف م رکھی ہے۔ اس میں بھی ردیف”م“ رکھی گئی ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔

معروف صحافی معصوم مراد آبادی نے صاحبِ کتاب سے دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے انھیں ہمیشہ ایک مخلص، محنتی اور نیک راستے پر چلنے والا پایا اور اس کتاب کو دیکھ کر میں فخر کرتا ہوں کہ مجھے ایسے دوست ملے۔کالم نگار عظیم اختر نے کہا کہ ذکی صاحب نے جب قصیدہ بردہ کا ترجمہ کرنا شروع کیااور مجھے دکھایا تو میں اس سے بہت متاثر ہوا اوراس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے میں نے انھیں مہمیز لگائی کہ وہ اس کام کو جلد از جلد پورا کریں اور انھوں نے بہت جلد اسے پورا کر کے اپنی مستعدی کا ثبوت دیااور آج یہ کتاب منظرِ عام پر آئی جس کے لیے میں انھیں بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔

معروف صحافی اور کالم نگار سہیل انجم نے مولانا ذکی کی شخصیت پر بھی اظہار خیال کیا اور مذکورہ کتاب پر بھی۔ انھوں نے کہا کہ ذکی صاحب کے علمی ذوق نے ہی ان سے ایک مذہبی ماہنامہ ”ہدایت کا راستہ“بھی نکلوایا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا ذکیر الدین کی شاعری بڑی اعلیٰ و ارفع ہے۔

جلسے کا افتتاح قاری عبد الرحمن کی تلاوت سے ہوا۔ شرکاء میں اخبار نو کے مینیجنگ ایڈیٹر مودود صدیقی، ڈاکٹر شمع افروز زیدی ایڈیٹر بیسویں صدی، مشہور خطاط اور قلم کار جلال الدین اسلم، بچوں کے ادیب جناب سراج عظیم،یوگا کے استاد ڈاکٹر بدر الاسلام،مولانا فیروز اختر قاسمی ناظم عمومی مرکزی جمعیۃ علماء، انیس صدیقی خطاط،مولانا رحمت اللہ فاروقی، وقار مانوی، منیر ہمدم، ابو نعمان ایڈیٹر رہنمائے تعلیم، نیاز احمد راجہ، تنویر احمد، حافظ نصیر احمد، شمیم احمد وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

Published: 1 May 2019, 8:10 PM