گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار ۔ استاد بسم اللہ خان

معروف شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان

آج استاد بسم اللہ خان کی یوم پیدائش ہے ۔ ان کی دھن فضاؤں میں امن کا پیغام بن کر بکھر جاتی تھی اور انہوں نے شہنائی کو تقریبات کے دائرہ سے نکال کر کلاسیکی موسیقی کی صف میں لا کھڑا کیا۔

وہ استاد جن کا نام اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے یعنی بسم اللہ۔انہوں نے ’بسم اللہ ‘ کرتے ہوئے شہانائی بجانی شروع کی اور اس کی دھن کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ان کی روح بنارس میں قیام پزیر تھی اور وہ بنارس ان کے اندر۔ خواہ ان کی پیدائش بہار میں 21 مارچ 1916 کو ہوئی تھی۔ استاد اگر حیات ہوتے تو 102 برس کے ہوتے اور شہنائی کی عرم 96 برس ہو گئی ہوتی ۔ لیکن استاد آج نہیں ہیں۔

استاد ہوتے تو آج بھی شہنائی کی دھن سے ملک بھر میں امن کا پیغام پھیلا رہے ہوتے۔ محرم پر ان کی ماتمی دھن آسمان کا سینہ چیر رہی ہوتی اور جنم اشٹمی پر ورنداون میں سماں باندھ رہی ہوتی۔ وہ ہوتے تو آج بھی بنارس کے مندروں کے در ان کی شہنائی کی دھن پر کھل رہے ہوتے۔

یتیندر مشر ا کی تخلیق ڈرامہ کی تصنیف ’سُر کی برادری ‘میں ان کی بسم اللہ خان کے ساتھ کی گئی گفتگو کے اقتباصات موجود ہیں۔ ایک مقام پر وہ کہتے ہیں، ’’موسیقی ایسی چیز ہے جس میں ذات پات کچھ نہیں ہے۔ موسیقی کسی مذہب کو غلط نہیں سمجھتی۔‘‘ وہ کہتے تھے کہ ساز بھی ایک ہی ہے اور خدا بھی ایک ہی ہے۔ اس لئے جب استاد محرم پر آنکھوں میں آنسو بھر کر ماتمی دھن بجاتے تھے تو ہولی پر وہ راگ ’کافی ‘ سے ماحول کو زندہ بھی کر دیتے تھے۔ وہ نماز بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتے تھے اور موسیقی کو بھی ایک عبادت تصور کرتے تھے۔

بھارت رتن سے سرفراز عالمی شہرت ہافتہ شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان کے 102 ویں سالگرہ کے موقع پر آج گوگل نے ڈوڈل بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ گوگل کےڈوڈل میں استاد بسم اللہ خان کو ایک سفید رنگ کی پوشاک زیب تن کئےشہنائی بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جس کے پیش منظر میں ایک جیومیٹری کے اسٹائل میں ایک پیٹرن ہے اور گوگل لکھا ہوا ہے۔ وہ تیسرے ہندوستانی موسیقار تھے، جنہیں بھارت رتن سے نوازا گیا۔

استاد بسم اللہ کو کبیر کی وراثت کا علمبردار یوں ہی نہیں کہا جاتا ۔ اپنی زندگی میں تو انہوں نے اس وراثت کو فروغ دیا ہی ان کی وفات کے بعد بھی انہیں فاطمہ قبرستان میں نیم کے درخت کے نیچے شہنائی کے ساتھ ہی دفن کیا گیا۔

کچھ بنیاد پرستوں کو بسم اللہ خان کے شہنائی بجانے پر اعتراض تھا۔ کہتے ہیں ایک بار کسی نے ان سے کہا کہ موسیقی تو حرام ہے۔ جواب میں انہوں نے شہنائی اٹھائی اور ’اللہ ہو‘ بجانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے شخص سے پوچھا ’معاف کیجئےگا، کیا یہ حرام ہے؟‘ شخص نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔

بہار میں پیدائش ہونے کے بعد وہ بنارس آئے تو تعلیم حاصل کرنے کے لئے تھے لیکن ماموں کے ساتھ شہنائی سے انہیں اس قدر محبت ہو گئی کہ انہوں نے اس کے ساتھ کئی تجربات کئے۔ آج وہ پوری دنیا میں شہنائی کی علامت کے دور پر یاد کئے جاتے ہیں۔

بسم اللہ خان کی شہنائی کا ساز اس قدر پر کشش تھا کہ آزاد ہندوستان کی پہلی شام انہوں نے لال قلعہ پر شہنائی بجائی۔ اس کے بعد تو لال قلعہ پر استاد بسم اللہ خان کا شہنائی بجانا روایت کا حصہ بن گیا۔ یوں تو استاد بسم اللہ خان کو فلموں میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا اور بسم اللہ خان نے سال 1959 میں ’گونج اٹھی شہنائی‘ سے لے کر 2004 میں آئی ’سودیش ‘ تک متعدد فلموں میں شہنائی کے ساز سے موسیقی کو سجایا، لیکن مزاج سے فقیر بسم اللہ خان کو فلمی دنیا کی چمک دمک راس نہیں آئی اور وہ تا حیات بنارس میں ہی جمے رہے۔

استاد خالص بنارسی تھے۔ وہ کہتے تھے کہ، ’’پوری دنیا میں جہاں چلے جائیں ہمیں صرف ہندوستان دکھائی دیتا ہے اور ہندوستان میں چاہے جس شہر میں چلے جائیں ہمیں صرف بنارس نظر آتا ہے۔‘‘

یتیندر مشرا لکھتے ہیں کہ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے لئے بھی اپنے ساز کی سوغات پیش کی۔ آکاش وانی اور دوردرشن پر دن کی شروعات کرنے والا ساز بسم اللہ خان کی شہنائی سے ہی نکلا ہوا ہوتا تھا۔ اس دھن میں صبح اور شام کے الگ الگ راگوں سمیت کل 14 راگ تھے اور یہ آکاشوانی اور دوردرشن کی پہچان بن گئی۔ انہیں 2001 میں بھارت رتن سے سرفراز کیا گیا۔

یتیندر مشرا لکھتے ہیں کہ خان صاحب کہا کرتے تھے، ’’ ہم نے کچھ پیدا نہیں کیا۔ جو ہو گیا اس کا کرم ہے۔ ہاں اپنی شہنائی میں جو ہم لے کر چلے ہیں وہ بنارس کا جز ہے۔ بنارس والے جلد بازی نہیں کرتے بڑے اطمینان سے بول کر چلتے ہیں۔ زندگی بھر منگلا گوری اور پکہ محل میں ریاض کرتے ہوئے جوان ہوئے ہ۹یں تو کہیں نہ کہیں بنارس کا رس تو ٹپکے گا ہماری شہنائی میں۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول