حیدرآباد: فارسی کی ترقی میں علماء کا اہم رول، ایرانی قونصل خانہ میں کانفرنس سے مقررین کا خطاب

مقررین نے کہا کہ قدیم فارسی اور سنسکرت زبان کا ایک ہی ماخذ تھا۔ مقررین نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں فارسی سات صدیوں تک سرکاری زبان رہی اور آج ہندوستان میں فارسی مخطوطات کی تعداد ایران سے زیادہ ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

حیدرآباد: فارسی زبان کے فروغ میں علمائے کرام نے اہم کردار ادا کیا اور کئی حکمرانوں نے علماء وادبا کو مدعو کرتے ہوئے ادبی محافل منعقد کیں اور مختلف زبانوں سے فارسی میں ترجمے کروائے جس کے سبب مختلف مقامات پر فارسی نے اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف اسکالرس نے فارسی زبان و ادب کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے فارسی کی ترقی اور ترویج میں حضرت میر مومن اور علامہ محمد ابن خاتون کی خدمات کا حوالہ دیا۔ یہ کانفرنس عالمی یوم مادری زبان کے موقع پر ایرانی قونصل خانہ بنجاراہلز حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس میں ہندوستان اور ایران کے درمیان سینکڑوں برسوں پر محیط تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ فارسی نہ صرف ایران بلکہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان اوردیگر مقامات پر بولی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم فارسی اور سنسکرت زبان کا ایک ہی ماخذ تھا۔ مقررین نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں فارسی سات صدیوں تک سرکاری زبان رہی اور آج ہندوستان میں فارسی مخطوطات کی تعداد ایران سے زیادہ ہے۔

قونصل جنرل افغانستان سید محمد ابراہیم خیل، قونصل جنرل ایران محمد حق بین قمی، حیدرآباد یونیورسٹی کے استاد فارسی شبیر شیرازی، نیوز ایڈیٹر روزنامہ اعتماد شجیع اللہ فراست اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ بشمول ایرانی، افغانی اور کشمیری طلبہ کی کثیرتعداد موجود تھی۔ تمجید حیدر نے کارروائی چلائی۔