علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں انڈونیشیا کے تعلیمی وفد کی آمد

انڈونیشیا کے ممتاز تاجر اور ماہر تعلیم فرمان سایا کا کہنا ہے کہ ’انڈونیشیا میں یایا سان مورالرضیہ اسلامک بورڈنگ اسکول کی تعمیرات تقریباً مکمل ہوگئی ہے۔ مئی سے باضابطہ تعلیمی سیشن کا آغاز ہو جائے گا۔‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں انڈونیشیا کے تعلیمی وفد نے شعبہ کے اساتذہ سے ملاقات کی۔ اساتذہ سے ملاقات کے دوران انڈونیشیا کے ممتاز تاجر اور ماہر تعلیم فرمان سایا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انڈونیشیا میں یا یا سان مور الرضیہ اسلامک بورڈنگ اسکول کی تعمیرات تقریباً مکمل کر لی ہیں اور مئی 2020 سے باضابطہ تعلیمی سیشن کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ ہمارے پیش نظر اسلامی تعلیمات کے تناظر میں طلبہ و طالبات کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ہائی اسکو ل اورانٹرمیڈیٹ کی سطح تک لازمی طور پر بورڈنگ ہاوس کا بندوبست ہمارے پروگرام میں شامل ہے۔

مسٹر فرمان سایا، یا یا سان مور الرضیہ اسلامک بورڈنگ اسکول کے بانی اور اس انڈونیشائی وفد کے سربراہ تھے۔ اس وفد میں گلنگا تونگا ہادی لوبس، محمد احسان اور سہندری کے علاوہ ایک خاتون بھی شامل تھیں جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے کر رہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ محمد احسان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اسلامیات سے بی اے کرنے کے بعد دہلی میں انڈونیشیا کے سفارت خانے میں کلچرل آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ وطالبات کے بین الاقوامی امور کے نگراں پروفیسر عرشی خان کے علیگڑھ سے باہر ہونے کی وجہ سے پروفیسر مرزا اثمر بیگ نے انڈونیشیاکے اس وفد کو خوش آمدید کہا۔ انہی کے مشورے پر اس وفد نے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کا دورہ کیا۔