حیدرآباد بک فیئر: کتب بینی کے شوقین حضرات کے لئے بہتر کتابیں

اس بک فیر کے اسٹالس میں تقریباً تین لاکھ کتابیں رکھی گئی ہیں۔ اس بک فیر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہر قاری کے لئے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: شہر حیدرآباد کے ا ین ٹی آر اسٹیٹ کے کتابوں کی نمائش و فروخت جاری ہے۔ اس کا اختتام یکم جنوری کو ہوگا۔ اس نمائش میں ادبی شخصیتوں اور مصنفین کی کتابیں رکھی گئی ہے۔ تلنگانہ کی گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے اس بک فیر کا افتتاح گزشتہ روز کیا تھا۔ اس میں 330 اسٹالس لگائے گئے ہیں جہاں پر مختلف ریاستوں کے پبلشرس نے اپنی کتابیں رکھی ہیں۔

اس مرتبہ تقریباً 80 نئے پبلشرس اس فیک فیئر میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کتابوں میں انگریزی، تلگو، کنڑی، ملیالم کی کامک ڈرامہ، تاریخ، روحانیت کے علاوہ ان زبانوں کی ناولس، شاعری، سائنس، اڈونچر،جنگل کی کتابیں شامل ہیں۔ گزشتہ اس فیر سے تقریباً 10 لاکھ افراد نے استفادہ کیا تھا۔ اس مرتبہ توقع ہے کہ یہ تعداد بڑھ جائے گی۔ اس میلہ میں بچے، طلبہ اور ہر عمر کے پُرجوش قارئین کی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ کہ انٹرنیٹ نے کتابیں خرید کر پڑھنے کے رجحان میں کمی ضرور کی ہے تاہم مطالعہ کے لئے ان کے شوق اور جذبہ میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی ہے اور وہ انٹرنیٹ سے ہٹ کر بھی کتابیں خرید کر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس بک فیر میں شرکت کرنے والی بعض طالبات نے کہا کہ وہ ہر سال اس بک فیر میں شرکت کرتے ہوئے اپنی پسند کی کتابیں خریدتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد نہ صرف کتابیں خریدنا ہے بلکہ کتابوں کی چھوٹی دنیا کو جاننا اور نئے لوگوں سے ملاقات کرنا ہے۔ ایک بک اسٹال کے ایک مالک نے کہا کہ یہاں بچے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکول انتظامیہ بچوں کو کتب بینی کی عادت ڈالیں۔ بچوں کا کثیرتعداد میں اس بک فیر میں آنا ایک اچھی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچے اپنی پس اندازی سے جمع کی ہوئی رقم سے کتابیں خرید رہے ہیں۔ طالبات کا ماننا ہے کہ کتابوں سے بڑھ کر کوئی بھی اچھا دوست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کتابوں کو کافی پسند کر رہی ہے۔ اس بک فیر کے اسٹالس میں تقریباً تین لاکھ کتابیں رکھی گئی ہیں۔ اس بک فیر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہر قاری کے لئے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ کتب کی خریداری کے شوقین بعض طلبہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال سے اس فیر میں شرکت کرتے ہوئے کتابوں کی خریداری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انٹرنیٹ پر کتابیں موجود ہیں لیکن جب وہ کتابوں کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے ہیں تو وہ دماغ پراثر انداز ہوتی ہیں۔ بک فیر میں شرکت کرنے والے ایک تھیٹر فنکارنے کہا کہ کتب بینی کی مشق، اس کے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ مشکل الفاظ کے معنوں کی تشریح بھی ہوتی ہے۔یہاں بچوں میں کافی تجسس دیکھا جا رہا ہے۔ بک فیر میں بچوں کے ساتھ والدین بھی آرہے ہیں۔ یہاں پر ہمہ زبان کتابیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام صرف ٹی وی دیکھنے کے عادی ہونے یا پھر کتب بینی کی عادت کے چلے جانے کی باتیں اس بک فیر میں غلط ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ہمہ زبانی شہر ہے اور یہاں پر کتب بینی کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔انہوں نے کتابوں کا شوق رکھنے والوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے ارکان خاندان کے ساتھ اس فیر میں شرکت کرتے ہوئے اپنی پسند کی کتابوں کا انتخاب کریں۔ سوانح عمری، بچوں کا ادب، مزاحیہ، ڈرامیہ، تاریخ، روحانی، شاعری، سائنس، رومانی اور دیگر شعبوں کی مختلف کتابوں کا یہاں ذخیرہ ہے۔ نہ صرف بچے بلکہ طلبہ اور بالغ افراد بھی اس بک فیر میں اپنی پسندیدہ کتابوں کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ ہر ایک اسٹال اپنے میں آپ مثال ہے۔ بین الاقوامی ناشرین جیسے کیمبرج یونیورسٹی، پریس انڈیا، پین میک ملن، سیمن اینڈ شوستر، پینگوین رینڈم ہوز انڈیا اور دیگر کی کتابیں ان اسٹالس پر رکھی گئی ہیں۔ یہ بک فیر قبل ازیں قومی دارالحکومت نئی دہلی میں کے ساتھ ساتھ جئے پور اور کولکاتا میں بھی منعقد کیا جاچکا ہے تاہم اس مرتبہ تلنگانہ کے دارالحکومت میں یہ کتابوں کا فیر لگایا گیا ہے۔