اردو-ہندی: دو بہنیں جو ایک بار پھر گلے مل رہی ہیں

مہاتما گاندھی نے بہت پہلے ہی اردو اور ہندی زبان کے جھگڑے کو ختم کر ایک ’ہندوستانی‘ زبان اختیار کرنے کی بات کہی تھی لیکن مسلمان اور ہندو دونوں ہی طبقات نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

انگریزوں نے 1947 میں ہندوستان کو تقسیم یعنی بٹوارا کا درد دیا تھا جسے ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور بٹوارے کا درد جو انگریزوں نے دیا اسے کم ہی لوگ یاد کرتے ہیں۔ یہ بٹوارا ایک ہندوستانی زبان کا بٹوارا تھا جو ہندی اور اردو کے شکل میں آج ہم لوگوں کے سامنے ہے۔ 19ویں صدی میں ہندو-مسلم طبقہ کے درمیان نفرت پھیلانے کے مقصد سے انگریزوں نے اردو-ہندی زبان کا سہارا لیا اور ان دونوں کو دو طبقات کی زبان قرار دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں نے ہندو زبان کا دامن تھام لیا اور مسلمانوں نے اردو کو سینچنا شروع کر دیا۔ حالانکہ آج ہر ماہر لسانیات یہ کہتا ہے کہ ان دونوں زبانوں کی جڑیں ایک ہی ہیں، دونوں ہی کا تعلق کھڑی بولیوں سے ہے۔ ادب کے شعبہ میں پدم بھوشن سے سرفراز گوپی چند نارنگ نے اپنی کئی کتابوں میں اس تعلق سے لکھا ہے اور بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا تھا کہ ’’اردو اور ہندی میں ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے جو الگ ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ اردو کے معروف ادیب عبدالستار دلوی اپنی کتاب ’دو زبانیں، دو ادب‘ کے پیش لفظ میں ان دونوں زبانوں کو ایک ہی ماں کی دو بیٹیاں بتاتے ہیں۔ اردو-ہندی کا رشتہ تو سچ میں بہت گہرا ہے، لیکن جس طرح ان دونوں بہنوں میں الگاؤ پیدا کیا گیا ہے، یا پھر گوشت سے ناخن کو الگ کیا گیا ہے، درد کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

ہندوستانی لسانیات کی تاریخ کو دیکھیں تو 1835 کے بعد دیوناگری ہندی کے چلن کا پتہ چلتا ہے اور 1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کی سازش نے اس کو فروغ دیا۔ لسانیات کے ماہر جگدیش پرساد کوشک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’انھوں نے (انگریزوں ) شروع میں ہی ہندی اور اردو کو دو طبقات کی زبان ٹھہرا دیا اور تعلیم کے شعبہ میں اردو کو جگہ دے دی۔ اور ہندی کو غیر ترقی یافتہ اور گنوار کہہ کر ٹال دیا۔ اس سے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس لگی اور وہ سنسکرت ڈکشنری کا آسرا لے کر ناگری ہندی کو مالا مال کرنے کے لیے جی جان سے جٹ گئے۔‘‘ اس سے واضح ہے کہ 19ویں صدی میں ہندی کو سنسکرت سے جوڑ کر اردو سے الگ کرنے کی کوشش ہوئی اور دوسری طرف اردو میں بھی فارسی و عربی الفاظ کا استعمال کیا جانے لگا جس سے اردو مسلمانوں کی زبان معلوم ہونے لگی۔ لیکن جہاں تک لکھاوٹ کا سوال ہے، اردو (جسے پہلے ہندوی یا ہندی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا) کو فارسی رسم الخط میں 16ویں صدی میں یا اس سے پہلے ہی لکھا جانے لگا تھا۔ اس تعلق سے مشہور و معروف ماہر لسانیات اور ادیب پدم بھوشن سنیتی کمار چٹرجی نے اپنے ایک مضمون ’بھارتیہ آریہ بھاشا اور ہندی‘ میں واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ ’’16ویں صدی میں قدیم ہندی کے مسلمان بولنے والوں کے ذریعہ اس زبان کو جانے یا انجانے فارسی رسم الخط میں لکھنے کی کوشش میں ہی اس جھگڑے کے ننھے انکر پوشیدہ تھے۔‘‘

اردو اور ہندی کےد رمیان شروع ہوئی لڑائی کی وجہ جو بھی ہو، لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ایک ہندوستانی زبان کو اردو اور ہندی میں تقسیم کر جو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی تھی، اب وہ دھیرے دھیرے ختم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ ایسا اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ آج بھی بول چال کے لیے ہم جس زبان کا استعمال کرتے ہیں وہ اصل ہندوی زبان ہے جس کی بنیاد 13ویں صدی میں رکھی گئی تھی۔ ہم بولنے میں نہ ہی عربی و فارسی کے مشکل الفاظ کا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی ٹھیٹھ سنسکرت الفاظ کا۔ یہاں تک کہ آج کل ہندی-اردو اخبارات، رسائل اور نیوز ویب سائٹ پر بھی عام بول چال کی زبان ہی لکھی جاتی ہے جو اردو-ہندی کا انضمام معلوم پڑتی ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دو بہنیں ایک بار پھر سے گلے ملتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہیں۔ مہاتما گاندھی نے یہ کوشش بہت پہلے کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ اردو کے معروف ادیب سجاد ظہیر نے 1947 میں ایک کتاب ’اردو، ہندی، ہندوستانی‘ کے نام سے شائع کی تھی جس میں انھوں نے گاندھی جی کے ذریعہ اردو-ہندی کے جھگڑے کو ختم کر اس زبان کو ’ہندوستانی‘ نام دینے کی تجویز کے بارے میں لکھا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ ’’گاندھی جی نے حال میں ایک بیچ کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن خود کانگریس کے سبھی لوگ اس معاملے میں گاندھی جی سے متفق نہیں ہیں۔ ایک طرف بابو پروشوتم داس ٹنڈن، سمپورنانند جی اور ہندی ساہتیہ سمیلن کی اکثریت ہے۔ اس گروہ کا کہنا ہے کہ- ہمیں ڈر ہے کہ ہندوستانی کا نام دے کر ملک پر کہیں اردو نہ ٹھونس دی جائے۔‘‘ اسی کتاب میں آگے لکھا گیا ہے کہ مسلم طبقہ بھی گاندھی جی کی تجویز کو نہیں مان رہا تھا کہ کہیں ان پر ہندی نہ تھوپ دی جائے۔

آج کتابوں کے بازار میں ہندی کی کتابیں بھی موجود ہیں اور اردو کی کتابیں بھی۔ لیکن شہرت اسی کتاب کو ملتی ہے جو آسان زبان میں یعنی عوام کی زبان میں ہوتی ہے۔ اب آپ اسے ہندی کہیں، ہندوی کہیں، اردو کہیں یا پھر ہندوستانی کہیں۔

سب سے زیادہ مقبول