گلزار دہلوی: میں عجب ہوں امام اردو کا... معصوم مرادآبادی

بیشتر مسلمان گلزار دہلوی کے شین قاف اور اردو و فارسی پر ان کی مضبوط گرفت کے سبب انھیں ’مسلمان‘ سمجھتے تھے اور انھیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تھا کہ وہ صبح سے شام تک مسلمانوں کے درمیان ہی رہتے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

معصوم مرادآبادی

گلزار دہلوی کے انتقال سے اردو دنیا سوگوار ہے۔وہ ہماری صدیوں پرانی گنگاجمنی تہذیب کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھے۔وہ خالص دہلی والے تھے اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ ان ہی گلی کوچوں میں گزرا تھا، جنھیں خدائے سخن میر تقی میر نے اوراق مصور سے تشبیہ دی تھی۔ وہ دہلی کی ایک توانا آوازتھے اور اس مٹتی ہوئی تہذیب کے امین تھے ، جس نے اس شہر کو وقار بخشا تھا۔گلزار دہلوی کے بغیر اس دہلی کی ادبی زندگی کا تصور کرتا ہوں تو مجھے بڑی ویرانی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہر شعری نشست کی آبرو تھے اور انھیں ان کی بزرگی کی وجہ سے سب سے آخر میں پڑھوایا جاتا تھا ، لیکن انھوں نے اپنی پیرانہ سالی اور نقاہت کے باوجود اس روایت کو ٹو ٹنے نہیں دیا۔ان کی شخصیت کا سب سے بڑا حسن یہ تھا کہ وہ مذہبی طور پر خالص برہمن ہونے کے باوجود اپنے عادات واطوار اور بود وباش سے مسلمان نظر آتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری یا طاقت اردو زبان اور تہذیب تھی ، جس کی بقاءکے لئے وہ آخری دم تک جدوجہد کرتے رہے۔وہ اردوتعلیم کے سب سے بڑے وکیل تھے اور اس کے رسم الخط پر سب سے زیادہ اصرار کرتے تھے۔ہر محفل میں وہ شرکاءسے یہ ضرور کہتے تھے کہ اپنے بچوں کو آٹھویں کلاس تک اردو ضرور پڑھائیں۔ اردو زبان اور اس کی مٹتی ہوئی تہذیب کو زندہ کرنے کی انھوں نے ہر ممکن کوشش کی۔بقول خود

درس اردو زبان دیتا ہوں

اہل ایماں پہ جان دیتا ہوں

میں عجب ہوں امام اردو کا

بتکدے میں اذان دیتا ہوں

گلزار دہلوی نے ابھی چند روز پہلے ہی نوئیڈا کے ایک اسپتال میں کورونا جیسی موذی بیماری کوشکست دے کر زندگی کا پرچم دوبارہ بلند کیا تھا۔ 94برس کی عمر میں اپنی بے مثال قوت ارادی سے کورونا کو شکست دینے والے گلزار دہلوی جب اسپتال سے باہر نکلے تو قومی اخبارات کے کئی نمائندے اورفوٹو گرافر ان کے منتظر تھے۔ ان کی حیات نو کی کہانی کئی بڑے انگریزی اخباروں نے جلی عنوانات کے ساتھ شائع کی ۔ مجھے یقین ہوچلا تھا کہ وہ ابھی اور جئیں گے اور جام وصبو سے اپنا رشتہ بحال رکھیں گے، لیکن یہ کیا ہوا کہ وہ کورونا کو شکست دے کر زندگی سے ہی ہارگئے۔

پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی پرانی دلی کے روڑے تھے اور ان کی رگ رگ میں دلی اور اس کی تہذیب بسی ہوئی تھی۔ وہ اصلاً کشمیری پنڈت تھے، لیکن بیشتر مسلمان ان کے شین قاف اور اردو فارسی پر ان کی مضبوط گرفت کے سبب انھیں ’مسلمان‘ سمجھتے تھے اور انھیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تھا کہ وہ صبح سے شام تک مسلمانوں کے درمیان ہی رہتے تھے اور مغلئی کھانوں سے لطف اٹھاتے تھے۔

گلزار دہلوی ہماری مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی تمدن کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ گلاب کا ایک پھول پنڈت نہروکی طرح ہمیشہ ان کی شیروانی پر آویزاں رہتا تھا ۔ سفیدشیروانی ان کامحبوب لباس تھا اور کسی ادبی محفل میں، میں نے کبھی انھیں اس کے بغیر نہیں دیکھا۔ اردو ، ہندی، فارسی،سنسکرت اور عربی کا ثقافتی ورثہ ، کشمیر ،پنجاب، دہلی اور یوپی کا سنگم اگر کسی کوایک شخصیت میں دیکھنا مقصود ہو تو وہ گلزار دہلوی کے حضور میں حاضر ہوکر ان کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا تھا اور گلزار دہلوی اس کی حسرت کو دیکھ کر دل ہی دل میں مسکراتے تھے۔

گلزار دہلوی ایک قادرالکلام شاعر، ایک ذی علم ادیب اور محفل پر جادو کردینے والے بے مثال مقرر تھے۔ وہ اپنے والد ماجد علامہ زار دہلوی کے سچے جانشین ہی نہیں تھے بلکہ حضرت بیخود دہلوی ، نواب سائل دہلوی اور علامہ پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی اور مولوی عبدالحق کے بھی صحیح جانشین تھے۔ وہ ادب میں داغ اور حالی کے ادبی خانوادے کے مایہ ناز سپوت تھے۔انھوں نے 1946میں انجمن تعمیر اردو اور ادارہ نظامیہ کی داغ بیل ڈالی اور اس کی سرگرمیوں کو جلا بخشی۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ میں انجمن تعمیر اردو کے سیکریٹری کی ذمہ داری سنبھالوں ، لیکن میں نے ہربار ان سے معذرت کرلی کہ میری صحافتی مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔دہلی کا اجڑتا ہوا اردو بازار برسوں ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا اور وہ مولوی سمیع اللہ کے کتب خانہ عزیزیہ میں ادبی محفلوں کی جان رہے۔ وہ ہر سال رمضان کے مہینے میں” روزہ رواداری“ رکھتے تھے اور ہم جیسے خوشہ چینوں کو اس میں بذریعہ پوسٹ کارڈ مدعو کرکے خوش ہوتے تھے۔وہ اتحاد واخوت کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ جگر مرادآبادی، فراق گورکھپوری، مولوی عبدالحق، علامہ نیاز فتح پوری ، جوش ملیح آبادی جیسے عبقری شعرائے کرام گلزار دہلوی سے انسیت رکھتے تھے۔ان کے انتقال سے دہلی کی ادبی فضا ویران ہوگئی ہے۔ اب کوئی دوسرا گلزار دہلوی پیدا نہیں ہوگا ۔ وہ موجودہ حالات سے بہت بدزن تھے اور انھیں اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا تھا ۔ ایسے ہی کسی لمحے میں انھوں نے یہ شعر کہا تھا

جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو

جہاں تذلیل ہے جینا ،وہاں بہتر ہے مرجانا